Book Name:Madani Wasiyat Nama

اَلْحَمْدُ لِلّٰہِ رَبِّ الْعٰلَمِیْنَ وَ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَامُ علٰی سَیِّدِ الْمُرْسَلِیْنَ ط

اَمَّا بَعْدُ فَاَعُوْذُ بِاللّٰہِ مِنَ الشَّیْطٰنِ الرَّجِیْمِ ط  بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّ حِیْم ط

مدنی وصیت نامہ

(مع کفن دفن کے احکامات)

شیطٰن لاکھ سُستی دلائے یہ پرسوز رسالہ  (16صَفْحات)  مکمّل پڑھ

لیجئے اِنْ شَآءَ اللہ عَزَّ  وَجَلَّ آپ اپنے قلب میں  رقّت وہلچل محسوس کریں  گے۔

دُرُود شریف کی فضیلت

محبوبِ ربُّ العٰلَمِین،  جنابِ صادِق وامین صلی اللہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم نے فرمایا: مجھ پر درود شریف پڑھو اللہ عَزَّ  وَجَلَّ تم پر رحمت بھیجے گا۔   (الکامِل لابنِ عَدِی ج۵ص۵۰۵ )

صَلُّوا عَلَی الْحَبِیْب!           صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد

اَلْحَمْدُ للّٰہِ عَلٰی اِحسانِہٖاِس وَقْت نمازِ فَجْر  کے بعد مسجِدُ النَّبَوِی الشَّریف عَلٰی صَاحِبِہَا الصَّلَاۃُ وَالسَّلَام میں  بیٹھ کر  ’’اَرْبَعِیْنَ وَصایا  مِنَ الْمَدِیْنۃِ الْمُنَوَّرَۃِ‘‘   (یعنی مدینۂ منوّرہ سے چالیس وصیتیں )  تحریر کرنیکی سعادت حاصل کررہا ہوں ، آہ! صد آہ! آج میریمدینۃُ المُنَوَّرہ زَادَھَا اللہُ شَرَفاً وَّ تَعْظِیْماً  کی حاضری کی آخری صبح ہے ، سورج روضۂ محبوب عَلٰی صَاحِبِہَا الصَّلَاۃُ وَالسَّلَام پر عرضِ سلام کے لئے حاضر ہوا چاہتا ہے،  آہ!  آجرات تک اگر جنّتُ الْبقیع میں  مَدْفن ملنے کی صورت نہ ہوئی تو مدینے سے جدا ہونا پڑجائے گا ۔  آنکھ اشکبار ہے، دل بے قرارہے، ہائے!      ؎

افسوس چند گھڑیاں  طیبہ کی رَہ گئی ہیں

دل میں  جدائی کا غم طوفاں  مچا رہا ہے

      آہ !  دل غم میں  ڈوبا ہو اہے، ہجرِ مدینہ کی جاں  سوزفکر نے سراپا تصویرِ غم بناکر رکھ دیا ہے ،  ایسا لگتا ہے گویا ہونٹوں  کا تبسُّم کسی نے چھین لیا ہو، آہ!  عنقریب مدینہ چھوٹ جائے گا، دل ٹوٹ جائے گا، آہ!  مدینے سے سوئے وطن روانگی کے لمحات ایسے جانگزا ہوتے ہیں  گویا،  

کسی شِیر خَوار بچّے کو اس کی ماں  کی گود سے چِھین لیا گیا ہو اور وہ روتا ہُوا نہایت ہی حسرت کے ساتھ بار بار مُڑکر اپنی ماں  کی طرف دیکھتا ہوکہ شاید ماں  ایک بار پھر بُلالے گی…اور شفقت کے ساتھ گود میں  چُھپا لے گی…اپنے سینے سے چِمٹا لے گی…مجھے لوری سناکر اپنی مامتا بھری گود میں  میٹھی نیند سلادے گی…۔ آہ!   ؎

میں  ِشکَستہ دِل لئے بوجھل قدم رکھتا ہوا

چل پڑا ہوں  یا شَہَنْشاہِ مدینہ الوَداع

اب شِکَسْتہ دل کے ساتھ  ’’چالیس وَصایا‘‘ عَرْض کرتا ہوں ،  میرے یہ وَصایا   ’’دعوت اسلامی ‘‘سے وابستہ تمام اسلامی بھائیوں  اور اسلامی بہنوں  کی طرف بھی ہیں  نیزمیری اولاد اور دیگراہل خانہ بھی ان وَصایا پر ضرور توجُّہ رکھیں۔  

   زہے قسمت ! مجھ پاپی و بدکار کو مدینۂ پر انوار میں ، وہ بھی سایۂ سبز سبز گنبد ومینا ر میں ، اے کاش !  جلوۂ سرکارِ نامدار ، شَہَنْشاہِ اَبرار، شفیع روز شمار، محبوب پروَرْدَگار ، احمدِ مختار صلی اللہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم میں  شہادت نصیب ہوجائے اور جنّتُ البقیع میں  دوگز زمین مُیَسَّر آئے اگر ایسا ہو جائے تو دونوں  



Total Pages: 7

Go To