Book Name:Fatawa Razawiyya jild 7

فتاوٰی رضویہ کی غیرمعمولی اہمیت
پروفیسرڈاکٹر رشید احمد جالندھری، ڈائریکٹر ادارہ ثقافت اسلامیہ، لاہور

یہ با ت محتاج بیان نہیں کہ دین قیم کے اسرار وحکم اور دقائق وحقائق انہی قلوب پرمنکشف ہوتے ہیں جو مجلّا و مصفّٰی ہیں اور حسن مطلق کی جلوہ گاہ ہیں ۔ چنانچہ یہی لوگ ہیں جو دین اور معاشرے کے تعلق پرگہری نظررکھتے ہیں اور جانتے ہیں کہ دین ، دنیا میں مخلوق خدا کی بہتری کے لئے آیاہے ، اس کی مشکلات میں اضافہ کرنے کے لئے نہیں آیا۔ چنانچہ کہاگیا ہے کہ جو آدمی اپنے معاشرے کے احوال وظروف سے آگاہ نہیں وہ “ عالم “ کہلانے کا مستحق نہیں ۔ مولانا مرحوم نے اپنے فتاوٰی میں معاشرے کے رسم ورواج اور عرف وعادات کو نگاہ میں رکھاہے اور مقدور بھرسعی کی ہے کہ ایك مسلمان آسانی سے حقوق الله  اور حقوق العباد کو سرانجام دینے کی سعادت حاصل کرے۔ چنانچہ انہوں نے اس سلسلہ میں بنیادی نکتہ یہ بیان کیاہے کہ فرائض کی ادائیگی اور محرمات سے اجتناب کو رضاء مخلوق پر مقدم رکھے اور فتنہ وفساد سے بچنے اور انسانی قلوب کی مدارات ومراعات کے لئے غیراولٰی امور کو ترك کردیاجائے۔ چنانچہ فتاوٰی رضویہ جلد چہارم(طبع جدید) میں فرماتے ہیں :

 “ پس ان امور میں ضابطہ کلیہ واجبۃ الحفظ یہ ہے کہ فعل فرائض وترك محرمات کو ارضائے خلق پر مقدم رکھے اور ان امور میں کسی کی مطلق پروانہ کرے ، اور اتیان مستحب وترك غیراولٰی پرمدارات خلق ومراعات قلوب کو اہم جانے اور فتنہ ونفرت ، ایذاء اور وحشت کاباعث ہونے سے بچے “ ۔

یہ بات شاید کسی وضاحت کی محتاج نہیں کہ جو لوگ شریعت مطہرہ کی روح اور حکمت وعلت سے تغافل برتتے ہیں اور ظاہری الفاظ کی پیروی کرنے پر زوردیتے ہیں ، وہ بعض اوقات امّت میں اختلاف وتشتّت کا باعث بنتے ہیں اور لوگوں کو مشقت و تنگی سے دوچار کرتے ہیں ۔ اگر ان کی نگاہ سے شریعت کا بنیادی مقصد اوجھل نہ ہوتا تو ان کا زہدخشك لوگوں کو غیراولٰی اور لایعنی باتوں میں الجھنے نہ دیتا۔ اسی نکتے کی وضاحت کرتے ہوئے فرماتے ہیں :

 “ اسی طرح جوعادات و رسوم خلق میں جاری اور شرع مطہر سے ان کی حرمت وشناعت نہ ثابت ہو ان میں اپنے ترفّع وتنزّہ کے لئے خلاف وجدال نہ کرے کہ یہ سب امورایتلاف وموانست کے معارض اور مرادومحبوب شارع کے مناقض ہیں ۔ ہاں ہاں ہوشیار وگوش دار! کہ یہ وہ نکتہ جمیلہ وحکمت جلیلہ وکوچہ سلامت و جادہ کرامت ہے جس سے بہت (سے) زاہدان خشك اور اہل تکشف جاہل وغافل ہوتے ہیں ، وہ اپنے زعم میں محتاط ودین پرور بنتے ہیں اور فی الواقع مغزحکمت ومقصود شریعت سے دور پڑتے ہیں “ ۔ (فتاوٰی رضویہ ۴(جدید) ص۵۲۸)

میں یہاں مولانا مرحوم کے فتاوٰی سے اور مثالیں دیناچاہتاتھا ، لیکن تنگی وقت کی بنا پر ایسانہیں کرسکتا۔ واقعہ یہ ہے کہ مولانا کو اسلامی فقہ میں جو عبور ورسوخ حاصل ہے اس کی بنیادی وجہ قرآن وسنّت سے ان کی گہری شیفتگی اور وابستگی ہے۔ چنانچہ میری اہل علم سے گزارش ہے کہ وہ مولانا مرحوم کے فتاوٰی کا گہری نظر سے مطالعہ فرمائیں اور فلسفہ دین اور روح عصر سے آگاہ ہوکر لوگوں کے مسائل حل کریں اور انہیں مشقت وتنگی میں گرفتار ہونے سے بچائیں ۔

___________________

باب الجماعۃ
(جماعت کا بیان)

مسئلہ ۸۴۶ : از میرٹھ خیر نگردروازہ خیرالمساجد مرسلہ مولوی ابوالعارف محمد حبیب الله صاحب قادری برکاتی ۲رمضان المبارك ۱۳۳۰ھ

کیافرماتے ہیں علمائے دین ومفتیان شرع متین اس صورت میں کہ مسجد خیرنگر دروازہ کا صحن محراب کے ہردو جانب میں مساوی نہیں ہے بلکہ دست راست کی جانب ۱۶فٹ بڑھاہواہے گرمی برسات وغیرہ میں جب نماز صحن مسجد میں پڑھی جاتی ہے توجماعت اس سرے سے اس سرے تك قائم ہوتی ہے جومحراب کی نسبت سے دائیں جانب ۱۶فٹ متجاوز ہوتی ہے جس کا ایك خاکہ بھی مرسلہ خدمت ہے اب دریافت طلب یہ ہے کہ جب صحن مسجد میں جماعت قائم ہوجائے تو امام کو رعایت وسط صف کی لازم ہے یامحاذاتِ محراب ضروری ہے بینوا توجروا۔

الجواب :

 



Total Pages: 215

Go To