Book Name:Fatawa Razawiyya jild 4

فتح :                            فتح الدیر ، علامہ کمال الدین ابن ہمام
غنیّہ :                      غنیہ المستملی ، علامہ محمدابراہیم بن محمد الحلبی
حلیہ :                      حلیۃ المحلی ، ابن اسیرالحاج

بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّ حِیْم ط

پیش لفظ

چند سال قبل محسن اہلسنّت مفتی اعظم پاکستان ناظمِ اعلٰی تنظیم المدارس (اہلسنت) شیخ الحدیث حضرت علامہ مفتی محمدعبدالقیوم ہزاروی قدس سرہ العزیز کی سرپرستی اور نگرانی میں فتاوٰی رضویہ کی جدید دور کے تقاضوں کے مطابق اشاعت کا جو عظیم منصوبہ رضافاؤنڈیشن کے نام سے شروع کیاگیاتھا بفضلہٖ تعالٰی پوری آب وتاب کے ساتھ اپنی ارتقائی منازل طے کررہاہے ، اب تک فتاوٰی رضویہ کی کتاب الطھارۃ (مکمل) چارجلدوں میں زیورِ طباعت سے مزیّن ہوکر منظرِ عام پرآچکی ہے۔ کتاب الطھارت بارہ۱۲ قدیم مجلدات میں سے جلد اول مکمل اور جلددوم کے تقریباً ڈیڑھ سو۱۵۰ صفحات پرپھیلی ہوئی تھی۔  

فتاوٰی رضویہ،کتاب الطھارۃ پر ایک نظر

عام طور پرفقہ وفتاوٰی کی کتابوں میں کتاب الطہارت کے تحت مندرجہ ذیل ابواب سے متعلق مسائل مندرج ہوتے ہیں :

(۱) وضو (۲) نواقضِ وضو (۳) غسل (۴) پانیوں کابیان (۵) کنویں کابیان (۶) تیمم (۷) مسحِ خفین (۸) حیض (۹)انجاس 

(۱۰) استنجاء۔

لیکن فتاوٰی رضویہ کاانداز واسلوب کتبِ فتاوٰی میں منفرداورممتاز ہے۔

اس عظیم فقہی وعلمی شاہکار میں کتاب الطہارۃ کے تحت مذکورۃ الصدر دس۱۰  ابواب سے متعلق مسائل کے علاوہ مندرجہ ذیل بیالیس۴۲ ابواب سے متعلق بھی ضمناً ہزاروں مسائل مذکورہیں : ۱نماز ، ۲احکام مسجد ، ۳جنائز ، ۴زکوٰۃ ، ۵روزہ ، ۶حج ، ۷نکاح ، ۸طلاق ، ۹عتق ، ۱۰قسم ، ۱۱حدود ، ۱۲سیر ، ۱۳شرکت ، ۱۴وقف ، ۱۵بیوع ، ۱۶شہادت ، ۱۷وکالت ، ۱۸دعوٰی ، ۱۹ہبہ ، ۲۰اجارہ ، ۲۱حجر ، ۲۲غصب ، ۲۳قسمت ، ۲۴شکاروذبیحہ وقربانی ، ۲۵ حظرو اباحت ، ۲۶احیاءِ موات ، ۲۷شرب ، ۲۸دیت ، ۲۹مداینات ، ۳۰وصی ، ۳۱فرائض ، ۳۲فوائدفقہیہ ، ۳۳رسم المفتی ، ۳۴عقائد ، ۳۵کلام ، ۳۶رَدِّمذہباں ، ۳۷فوائدحدیثیہ ، ۳۸اسماء الرجال ، ۳۹فضائل ومناقب ، ۴۰فوائد اصولیہ ، ۴۱طبعیات ، ۴۲ہندسہ وریاضی۔ فتاوٰی رضویہ کی کتاب الطہارۃ ۲۴۶استفتاء ات کے جوابات ، اقول اور قُلت وغیرہ کے عنوان سے ۳۶۴۱ تحقیقات وتدقیقاتِ مصنّفرَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِ ، ۱۹۴۵ معروضات وتطفلات اور ۳۰ رسائل پرمشتمل ہے جن میں سے ایک رسالہ “ باب العقائد والکلام “ جو جلداول قدیم کے صفحہ ۷۳۵ تا ۷۴۹ پرتھا کتاب الطھارۃ سے خارج کردیاگیاہے جدید ایڈیشن میں اسے عقائدو کلام والی