Book Name:Fatawa Razawiyya jild 3

بِسْمِ اللهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْم

پیش لفظ

علم وفضل کے آفتابِ نیم روز ، زُہدوتقوٰی کے بدرِمنیر ، تحقیق وتدقیق کے دُرِ بے بہا ، سیاستِ صادقہ کے گوہرنایاب اور تحریکِ عشقِ رسالت کے قافلہ سالارامام احمد رضابریلوی قدس سرّہ سے ہرذی شعور ، علم دوست اور حق شناس فرد متعارف ہی نہیں ، اس مردِ حق آگاہ کی دینی ، مِلّی ، روحانی اور سیاسی خدمات کامعترف بھی ہے اور خوشہ چین بھی۔

 کسی بھی عظیم شخصیت کی دینی ، ملّی اور قومی خدمات کو پس پردہ لے جانے اور ملّت اسلامیہ کو اس کے علمی جواہر پاروں سے محروم رکھنے کے لیے بنیادی طورپر دو باتیں کارفرماہوسکتی ہیں :

۱۔ مخالفین کاجھوٹا پروپیگنڈا۔
۲۔ اپنوں کی ناقص منصوبہ بندی۔

حضرت امام احمدرضا بریلوی رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِجن کے علمی تحقیقی شہ پاروں سے عرب وعجم کے مسلمانوں نے شمعِ علم روشن کی اور افریقہ ویورپ کے باسیوں کو آپ سے اکتسابِ فیض کاشرف حاصل ہوا ، کا علمی اور تحقیقی خزانہ انگریز اور ہندو کی شاطرانہ چال ، کانگریس کے ہمنوا نام نہاد مسلمانوں کے جھوٹے پروپیگنڈے اور نام لیواؤں ، عقیدت مندوں اور محبت کادم بھرنے والوں کی ناقص منصوبہ بندی کی دبیز تہوں کے نیچے دب کررہ گیاتھا۔

الحمدلله ! اب دردمند اور حساس مسلمانوں کی کوشش سے مخالفت ، تعصّب اور لاشعوری کی یہ دبیزتہیں ہٹنے لگیں ، رضوی علم وفضل کے آسمان پرچھاجانے والے جھوٹے پروپیگنڈے کے مہیب بادل چَھٹنے لگے اور یوں عرب وعجم کی اس عظیم علمی وروحانی شخصیت کاروشن اور جگمگاتاہوا حقیقی چہرہ نکھر کرسامنے آگیا۔ چنانچہ اس وقت دنیابھر کے مختلف جامعات میں امام احمدرضا بریلوی قدس سرہ کی علمی تحقیقات پرنہایت وقیع مقالات لکھے جارہے ہیں[1]۔

رضافاؤنڈیشن لاہوربھی اسی سلسلے کی ایک کڑی ہے۔ اس فاؤنڈیشن کے بانی مخدومِ ملّت ، استاذالعلماء ، مفتی اعظم حضرت علّامہ مفتی محمدعبدالقیوم ہزاروی دامت برکاتہم العالیہ کی علم دوست ، فرض شناس اور دردمند شخصیت سے کون واقف نہیں۔ حضرت مفتی صاحب مدظلہ کی خاموش تبلیغ وتحریک نے گلستان سنّیت میں جتنے پھول کھلائے ہیں ان کی عطربیز مہک نے شرق وغرب اور شمال وجنوب کو معطّر کررکھا ہے۔ الله  تعالٰی حضرت مفتی صاحب کی مساعی کو برکات سے اور ان کے اہم علمی دینی منصوبوں کو تکمیل کے زیور سے آراستہ فرمائے ، آمین!

رضافاؤنڈیشن نے خیابانِ رضا سے جس اہم پھول کاانتخاب کیا ہے وہ اپنوں اور بیگانوں سب سے دادِ تحسین وصول کرچکا ہے۔ حقیقت تویہ ہے کہ تحقیقی اعتبار سے فتاوٰی رضویہ کی نظیرملنا ناممکن نہیں تومشکل ضرور ہے۔ ایک ایک مسئلے پردلائل کے انبار لگادینا بلاشبہ حضرت امام احمدرضابریلوی رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِہی کاحصہ ہے۔

 



[1]    تفصیل کے لیے دیکھیے '' حیاتِ امامِ اہلسنّت '' ازڈاکٹرمحمدمسعود احمدمدظلہ العالی مرکزی مجلسِ رضالاہور



Total Pages: 232

Go To