Book Name:Fatawa Razawiyya jild 1 Part 2

بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّ حِیْم ط

خلاصہ تبیان الوضو

(وضو و غسل کے مسائل کا مختصر بیان)


بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّ حِیْم ط

نحمدہ ونصلی علٰی رسولہ الکریم ط

 

مسئلہ ۱۲ :                  مسئولہ مولوی علی احمد صاحب مصنف تہذیب الصبیان                  ۱۵ جمادی الاولٰی ۱۳۱۴ھ

کیافرماتے ہیں علماء دین ومفتیان شرع متین اس مسئلہ میں کہ فرائض غسل جنابت جو تین ہیں ان میں مضمضہ واستنشاق واسالۃ الماء علی کل البدن سے کیسا مضمضہ واستنشاق واسا لہ ماء مراد ہے ، بینوا توجروا(بیان فرمائیے اجر پائیے۔ ت)

الجواب:

مضمضہ : سارے دہن کامع اس کے ہر گوشے پر زے کنج کے حلق کی حد تك دھلنا درمختارمیں ہے :

فرض الغسل غسل کل فمہ ([1])                                                                                                                                             (غسل میں پورے منہ کو دھونافرض ہے۔ ( ت)

ردالمحتارمیں ہے :

عبر عن المضمضۃ بالغسل لافادۃ الاستیعاب اھ([2]) ۔

وفی افادتہ بنفس لفظ الغسل کلام قدمہ فی الوضوء والصحیح ان مفیدہ لفظ کل۔  

اقول : وعلی فـــ التسلیم فلیست دلالتہ علی الاستیعاب ظاھرۃ کدلالۃ کل فلا یرد ما قال ش لکن علی الاول لاحاجۃ الی زیادۃ کل([3])۔  

مضمضہ کی تعبیر غسل(دھونے) سے کی تاکہ احاطہ کرلینے کا افادہ ہو۔ اھ(ت)

صرف لفظ غسل سے احاطہ کاافادہ ہونے میں کلام ہے جو خود علامہ شامی وضو کے بیان میں ذکرکرچکے ہیں ۔ اورصحیح یہ ہے کہ احاطہ کاافادہ لفظ “ کل “ سے ہو رہا ہے۔

اقول : اگر یہ تسلیم بھی کرلیاجائے کہ لفظ غَسل (دھونا)احاطہ کوبتارہا ہے تو بھی احاطہ پر اس کی دلالت واضح نہیں جیسے اس معنی پرلفظ کل کی دلالت واضح ہے ۔ تو وہ اعتراض نہ وارد ہوگا جو علامہ شامی نے کیا ، کہ بر تقدیر اول 'لفظِ کل بڑھانے کی کوئی ضرورت نہیں ۔ (ت)

اسی میں بحرالرائق سے ہے :

المضمضۃ اصطلاحا استیعاب الماء جمیع الفم ([4])۔

اصطلاح میں مضمضہ یہ ہے کہ پانی پورے منہ کا احاطہ کرے ۔ (ت)

اور ہم نے دھلنا کہا دھونا نہ کہا اس لئے کہ طہارت میں کچھ اپنا فعل یا قصد شرط نہیں پانی گزرنا چاہئے جس طرح ہو۔

اقول :  وبہ ظھر ان عبارۃ البحر                                                                                                                            اقول : اور اسی سے ظاہر ہوا کہ عبارتِ بحر

فـــ :  معروضہ علی العلامۃ ش۔

احسن من عبارۃ الدرالا ان یجعل الغسل مبنیا للمفعول ای مغسولیۃ کل فمہ۔

عبارتِ درمختار سے بہتر ہے مگر یہ کہ عبارتِ در میں لفظِ غَسل کو مصدر مجہول مانا جائے یعنی پورے منہ کا دُھل جانا۔ (ت)

آج کل بہت بے علم اس مضمضہ کے معنی صرف کُلّی کے سمجھتے ہیں ، کچھ پانی منہ میں لے کر اُگل دیتے ہیں کہ زبان کی جڑ اور حلق کے کنارہ تك نہیں پہنچتا ، یوں غسل نہیں اُترتا ، نہ اس غسل سے نماز ہوسکے نہ مسجد میں جاناجائزہوبلکہ فرض ہے کہ داڑھوں کے پیچھے گالوں کی تہ میں دانتوں کی جڑ میں دانتوں کی کھڑکیوں میں حلق کے کنارے تك ہرپرزے پر پانی بہے یہاں تك کہ اگر کوئی سخت فـــ۱ چیز کہ پانی کے بہنے کو روکے گی دانتوں کی جڑ یا کھڑکیوں وغیرہ میں حائل ہو تو لازم ہے کہ اُسے جُداکرکے کُلّی کرے ورنہ غسل نہ ہوگا ، ہاں اگر اُس کے جُدا فـــ۲  کرنے میں حرج و ضرر و اذیت ہو جس طرح پانوں کی کثرت سے جڑوں میں چونا جم کر متحجرہوجاتا ہے کہ جب تك زیادہ ہوکر آپ ہی جگہ نہ چھوڑ دے چھڑانے کے قابل نہیں ہو تا یاعورتوں کے دانتوں میں مسی کی ریخیں جم جاتی ہیں کہ ان کے چھیلنے میں دانتوں یا مسوڑھوں کی مضرت کا اندیشہ ہے تو جب تك یہ حالت رہے گی اس قدر کی معافی ہوگی فان الحرج مدفوع بالنص(اس لیےکہ نص سے ثابت ہے کہ جہاں حرج ہواسے دفع کیاجائے ۔ ت)درمختار میں ہے :

لایمنع طعام بین اسنانہ اوفی سنہ المجوف بہ یفتی وقیل ان صلبا منع وھو الاصح ([5])۔

کھانے کا ٹکڑا جو دانتوں کے درمیان یا خول دار دانت کے اندر ہو وہ مانع نہیں ، اسی پر فتوٰی ہے۔ اور کہا گیاکہ اگر سخت ہو تو مانع ہے اور یہی اصح ہے۔ (ت)

ردالمحتار میں ہے :

قولہ بہ یفتی صرح بہ فی الخلاصۃ وقال لان الماء شیئ لطیف یصل تحتہ غالبا اھ ویرد

 



[1]   الدرالمختار ، کتاب الطہارۃ ، مطبع مجتبائی دہلی ۱ / ۲۸

[2]   ردالمحتار کتاب الطہارت داراحیاء التراث العربی بیروت ۱ / ۱۰۲

[3]   ردالمحتار ، کتاب الطہارت ، داراحیاء التراث العربی بیروت ۱ / ۱۰۲

[4]   ردالمحتار کتاب الطہارت داراحیاء التراث العربی بیروت ۱ / ۷۸

[5]   الدرالمختار کتاب الطہارۃ مطبع مجتبائی دہلی ۱ / ۲۹



Total Pages: 180

Go To