Book Name:Basant Mela

اَلْحَمْدُ لِلّٰہِ رَبِّ الْعٰلَمِیْنَ وَ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَامُ علٰی سَیِّدِ الْمُرْسَلِیْنَ ط

اَمَّا بَعْدُ فَاَعُوْذُ بِاللّٰہِ مِنَ الشَّیْطٰنِ الرَّجِیْمِ ط  بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّ حِیْم ط

بسنت میلا

 یہ رسالہ  (24صفحات) مکمَّل پڑھ کر خود کو اور دوسرے مسلمانوں کو عذابِ الٰہی سے بچانے کی تدابیر کیجئے۔

دُرُود شریف کی فضیلت

     سرکارنامدار، مدینے کے تاجدارحبیبِ  پَرْوَرْدَگار، شفیعِ روزِ شُمار،  جنابِ احمد ِمختار صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کا ارشادِ نور بار ہے:   ’’ تم اپنی مجلسوں کو مجھ پر دُرُودِ پاک پڑھ کر آراستہ کرو کیونکہ تمہارا مجھ پردُرُودِ پاک پڑھنا بروزِقِیامت تمہارے لئے نور ہوگا۔ ‘‘  (فِردَوسُ الاخبار ج۱ص۴۲۲حدیث ۳۱۴۹)

صَلُّوا عَلَی الْحَبِیْب!                                               صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد

بَسَنْت مِیلا  (مے۔لا)

   جو ں ہی سردی کا زور ٹوٹتا اور (فروری میں ) موسمِ بہار کی آمد ہوتی ہے مرکزالاولیاء لاہور ،  سردار آباد (فیصل آباد) ، راولپنڈی، گوجرانوالہ اور پاکستان کے کئی چھوٹے بڑے شہروں میں  ’’ بسنت ‘‘  کے نام پر ناچ رنگ کی محفلیں سجائی جاتیں ،  شرابیں پی جاتیں اور خوب پتنگ بازیکے مِیلے سجائے جاتے ہیں جس میں ہمارے بے شمارمسلمان بھائی نفس و شیطان کے بہکاوے میں آ کر بے تحاشہ گناہ کرتے اور کروڑوں روپے ہوا میں اُڑا دیتے ہیں ،  عموماً یہ سلسلہ مارچ کے آخِر تک جاری رہتا ہے۔

بَسَنْت مِیلا ایک گستاخِ رسول کی یاد گار ہے!

    میرے بھولے بھالے اسلامی بھائیو!  کیا آپ جانتے ہیں کہ  ’’ بسنت میلے  ‘‘  کا آغاز کیوں اور کیسے ہوا؟ دل پر ہاتھ رکھ کر سنئے کہ یہ ایک گستاخِ رسول کی یاد گار ہے!  جی ہاں تقسیمِ ہند سے بھی کافی پہلے سیالکوٹ کے ایک غیر مسلم نے ہمارے پیارے پیارے آقا مکی مَدَنی مصطَفٰے صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ اور شہزادی ِکونین سیِّدتُنا بی بی فاطِمہ رضی اللہ تعالٰی عنہا کی شانِ عَظَمت نشان میں مَعَاذَ اللہ گستاخی کی،  عاشقانِ رسول بے قرار ہو گئے جو کہ ایک فطری اَمْر تھا،  مُجرِم گرفتار کر لیا گیا اور اُسے مرکزالاولیا لاہور لا کر کورٹ میں مجرِموں کے کٹہرے میں کھڑاکر کے سزا ئے موت سنادی گئی،  اورپھر اُس گستاخِ رسول کو کیفرِ کردار تک پہنچا دیا گیا ۔ اُس کی موت پر غیر مسلموں میں صفِ ماتم بچھ گئی !  ان کے ایک رئیس نے اُس گستاخِ رسول کے  ’’ یومِ ہلاکت ‘‘  کی یاد تازہ رکھنے کیلئے موسمِ بہار  ’’ بسنت میلے ‘‘  کی بنیاد رکھی اورپھر ہر سال میلا (مِے۔لا) منایا جانے لگا۔۔۔ ([1]) صد کروڑ افسوس !  کہ نَفْس و شیطان کی چال میں آکر کچھ مسلمان بھی اِس کی طرف مائل ہوگئے،  بسنت میلا  (مِے۔لا) جاریکرنے والے تو کبھی کے مر کھپ کر مِٹی میں مل گئے مگر اپنی یقینی اوراٹل موت سے غافل مسلمانوں نے اِس میلے کو جاری رکھنے میں اپنا کردار ادا کیا،  بِالآخر وہ بھی موت کا جام غٹ غٹا کر اندھیری قَبْر کی سیڑھی اُتر گئے مگرافسوس! صد کروڑ افسوس !  بسنت میلے کا گناہوں بھرا سلسلہ اب بھی ہمارے مسلمان بھائیوں میں اپنی تمام تر ہلاکت سامانیوں کے ساتھ خوب نحوستیں لٹا رہا ہے۔

پتنگ اُڑانے ، پیچ لڑانے ، پتنگ اور ڈور لوٹنے اور بیچنے کا شرعی حکم

       ’’ بَسَنْت میلے ‘‘  میں پتنگ اور ڈَور بیچنے،  خریدنے ، اُڑانے،  پیچ لڑانے اور کٹی ہوئی پتنگ لُوٹنے کوبُنیادی حیثیَّت حاصِل ہوتی ہے، یقینا یہ کام اللہ و رسول  عَزَّ وَجَلَّ و صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کو خوش کرنے والے نہیں ہیں۔فتاوٰی رضویہ جلد 24 صفحہ 660 پر ہے: کَنکَیّا  (کَنْ۔کَیّا ۔ یعنی پتنگ) لُوٹنا حرام،



[1]     Punjab under the later Mughals  ص۲۷۹ مطبوعہ لاہور،روزنامہ نوائے وقت 4فروری 1994ء بالتصرف



Total Pages: 9

Go To