Book Name:Masjidain Khushboodar Rakhain

اَلْحَمْدُ لِلّٰہِ رَبِّ الْعٰلَمِیْنَ وَ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَامُ علٰی سَیِّدِ الْمُرْسَلِیْنَ ط

اَمَّا بَعْدُ فَاَعُوْذُ بِاللّٰہِ مِنَ الشَّیْطٰنِ الرَّجِیْمِ ط  بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّ حِیْم ط

مسجِدیں خشبوں دار رکھئے

شیطٰن لاکھ سُستی دلائے  مگریہ رسالہ  (24صَفحات) پوراپڑھ کر اپنی آخرت کا بھلا کیجئے۔

دُرُود شریف کی فضیلت

اللہ عَزَّ وَجَلَّ کے محبوب ،  دانائے غُیُوب،  مُنَزَّہٌ عَنِ الْعُیُوب صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ  کا فرمانِ عالیشان ہے: جس نے مجھ پر دن بھر میں ایک ہزار مرتبہ دُرُودِ پاک پڑھا وہ اُس وقت تک نہیں مَرے گا جب تک جنّت میں اپنی جگہ نہ دیکھ لے۔     (اَلتَّرغِیب وَالتَّرہِیب ج۲ ص۳۲۸ حدیث۲۲)

مسجِد میں بلغم دیکھ کر سرکار صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ     کی ناگواری

    ایک مرتبہ حُضُورِاکرم ،  نورِ مُجَسَّم ،  شاہِ بنی آدم ،  رسُولِ مُحتَشَم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ  نےمسجدُالنَّبَوِیِّ الشَّریف عَلٰی صَاحِبِہَا الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام میں قبلہ کی طرف بلغم پڑی دیکھی توناراضگی کااظہار فرمایا۔ یہ دیکھ کر ایک انصاری صحابیہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہَا اٹھیں اور اُسے کھرچ کر صاف کرکے وہاں خوشبو لگا دی۔  آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ  نے مسرت آمیز لہجے میں ارشاد فرمایا:  مَااَحْسَنَ ھٰذَا یعنی اِس خاتون نے کتنا ہی عُمدہ  کام کیا ہے۔    (نَسائی ص۱۲۶حدیث۷۲۵)

فاروقِ اعظم اور مسجِد میں خوشبو

      سیِّدُنا فاروقِ اعظم  رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ ہر جُمُعَۃُ الْمُبارَک کو  مسجِدُالنَّبَوِیِّ الشَّریف صَاحِبِہَا الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام میں خوشبو کی دھونی دیاکرتے تھے۔     (مُسْنَدُ اَبِیْ یَعْلٰی ج۱ص۱۰۳حدیث۱۸۵)  

صَلُّوا عَلَی الْحَبِیْب!                                    صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد

مسجِدیں خوشبودار رکھئے!

            اُمُّ الْمُؤمِنِین حضرتِ سیِّدَتُنا عائشہ صِدّیقہ  رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہَارِوایَت فرماتی ہیں :  حضورِ  پُرنور ، شافِعِ یومُ النُّشُور صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ  نے مَحَلّوں میں مسجِدیں بنانے کاحکم دیااوریہ کہ وہ صاف اور خوشبودار رکھی جائیں ۔        ( ابوداوٗدج۱ص۱۹۷حدیث۴۵۵)

ائیر فریشنَر سے کینسر ہو سکتا ہے

            میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو!معلو م ہوا مسجِدیں عُود ، لُوبان اوراگربتّی وغیرہ سے خوشبودار رکھنا کارِثواب ہے۔  مگر مسجِد میں ایسی دِیا سلائی (یعنی ماچِس کی تِیلی)  نہ جلائیے جس سے بارُود کی بدبو نکلتی ہے کیوں کہ مسجِد کوبدبوسے بچانا واجِب ہے۔  بارُود کا بدبودَار دُھواں اندرنہ آنے پائے اتنی دُور باہَر سے لُوبان یا اگر بتّی وغیرہ سُلگا کرمسجِد میں لائیے۔  اگر بتّیوں کوکسی بڑے طَشْت وغیرہ میں رکھنا ضروری ہے تاکہ اِس کی راکھ مسجِدکے فرش وغیرہ پرنہ گِرے ۔  اگربتّی کے پیکِٹ پراگرجاندار کی تصویربنی ہوئی ہو تو اُس کو کُھرَچ ڈالئے۔  مسجِد ( نیز گھروں اور کاروں وغیرہ)  میں  ’’ ائیر فریشنر‘‘  (AIR FRESHNER)  سے خوشبو کا چِھڑکاؤمت کیجئے کہ اُس کے کیمیاوی مادّے فضا میں پھیل جاتے اور سانس کے ذَریعیپھیپھڑوں میں پَہُنچ کر نقصان پہنچاتے ہیں ۔ ایک طِبّی تحقیق کے مطابِق ائیر فریشنر کے استِعمال سے جِلد کاسرطان یعنی ( SKIN CANCER)  ہو سکتا ہے۔ جہاں عُرف ہو وہاں مسجد کے چند ے سے خوشبوسلگانے کی اجازت ہے اور جہاں عُرف نہ وہاں خوشبو کی صراحت کرکے الگ سے چندہ حاصِل کریں ۔  

مُنہ میں بد بُو ہو تو مسجِد میں جانا حرام ہے

            میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو!بھوک سے کم کھانے کی عادت بنایئے یعنی ابھی خواہِش باقی ہوکہ ہاتھ روک لیجئے۔  اگر خوب ڈٹ کر کھاتے رہے اور وَقت بے وَقت سیخ کباب،  برگر ،  آلو چھولے،  پِزّے، آئسکریم ،  ٹھنڈی بوتلیں وغیرہ پیٹ میں پہنچاتے رہے ،  پیٹ خراب ہو گیا اور خدا ناخواستہ’’ گندہ دَ ہنی‘‘ یعنی مُنہ سے بدبوآنے کی بیماری لگ گئی تو سخت امتحان ہو جائے گا،  کیوں کہ مُنہ سے بدبو آتی ہو تو مسجِد کا داخِلہحرام ہے ، یہاں تک کہ جس وَقت مُنہ سے بدبو آ رہی ہو اُس وَقت باجماعت نَماز پڑھنے کے لئے بھی مسجِد میں آنا گناہ ہے۔  چُونکہ فکرِ آخِرت کی کمی کے باعِث لوگوں کی بھاری اکثریت میں کھانے کی حرص زیادہ اور آج کل ہر طرف  ’’ فوڈ کلچر ‘‘  کا دَور دَورہ ہے،  اِ س وجہ سے ایک تعداد ہے جن کے منہ سے بدبو آتی ہے۔  مجھے بارہا کا تجرِبہ ہے کہ جب کوئی منہ قریب کر کے بات کرتا ہے تو



Total Pages: 8

Go To