Book Name:Kabab Samosay kay Nuqsanat

اَلْحَمْدُ لِلّٰہِ رَبِّ الْعٰلَمِیْنَ وَ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَامُ علٰی سَیِّدِ الْمُرْسَلِیْنَ ط

اَمَّا بَعْدُ فَاَعُوْذُ بِاللّٰہِ مِنَ الشَّیْطٰنِ الرَّجِیْمِ ط  بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّ حِیْم ط

کباب سموسے کے نقصانات

شیطٰن  لاکھ سستی دِلائے یہ رسالہ  (12صَفحات )  پورا پڑھ کر اپنی آخِرت کا بھلا کیجئے۔ 

دُرُود شریف کی فضیلت

اللہ عَزَّ وَجَلَّکے محبوب ، دانائے غُیُوب،  مُنَزَّہٌ عَنِ الْعُیُوب صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کافرمانِ رحمت نشان ہے، جس نے یہ کہا جَزَی اللہُ عَنَّامُحَمَّدًا مَّا ھُوَ اَھْلُہ ([1] 70  فرشتے ایک ہزار دن تک اُس کیلئے نیکیاں لکھتے رہیں گے۔     (مُعجَم اَوسَط ج۱ص۸۲ حدیث۲۳۵

صَلُّوا عَلَی الْحَبِیْب!                                                صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد

مسلمان کی بھلائی چاہنا کارِ ثواب

  حضرت سَیِّدُنا جریر بن عبدُاللّٰہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہفرماتے ہیں :  میں نے حضورتاجدارِ رسالت صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ سے نَماز پڑھنے ،  زکوٰۃ دینے اور ہر مسلمان کی خیر خواہی کرنے پر بَیعَت کی۔   (بُخاری ج ۱ص۳۵حدیث۵۷)  اعلیٰ حضرت رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ فرماتے ہیں :   ’’ ہر فردِاسلام کی خیرخواہی  (یعنی بھلائی چاہنا)   ہرمسلمان پر فرض ہے ۔   ‘‘    (فتاوٰی رضویہ ج ۱۴ ص ۴۱۵)   اَلْحَمْدُلِلّٰہ عَزَّ وَجَلَّ خود کو مسلمانوں کے خیر خواہوں میں کھپانے اور ثواب کمانے کے مقدّس جذبے کے تحت دُعا کے ساتھ ساتھ صحّت مند رَہنے کیلئے چند مَدَنی پھول نذر ِحاضِر کئے ہیں ۔    اگرمحض دُنیا کی رنگینیوں سے لُطف اندوز ہونے کیلئے تندُرُست رَہنے کی آرزو ہے تورسالہ پڑھنا یہیں مَوقُوف کر دیجئے اور اگر عُمدہ صِحّت کے ذَرِیعے عبادَت اور سنتوں کی خدمت پر قُوّت حاصِل کرنے کا ذِہن ہے توثواب کمانے کی غَرَض سے اچّھی اچّھی نیّتیں کرتے ہوئے دُرُود شریف پڑھ کر آگے بڑھئے اوررسالہ مکمَّل پڑھئے :

صَلُّوا عَلَی الْحَبِیْب!                                                صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد

    اللہ ربُّ العزّت عَزَّ وَجَلَّ میری ، آپ کی، جُملہ اہلِ خاندان اور ساری اُمّت کی مغفِرت فرمائے ۔  ہمیں صِحّت و عافیت کے ساتھ اور دعوتِ اسلامی کے مَدَنی ماحول میں رَہتے ہوئے اِسلام کی خدمت پر اِستِقامت عنایت فرمائے۔   اللہ عَزَّ وَجَلَّ ہماری جسمانی بیماریاں دُور کرکے ہمیں بیمارِ مدینہ بنائے۔   

اٰمِیْن بِجَاہِ النَّبِیِّ الْاَمِیْن صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم

کباب سموسے کھانے والے متوجّہ ہوں

          بازار اور دعوتوں کے چٹ پٹے کباب سموسے کھانے والے توجُّہ فرمائیں ۔   کباب سموسے بیچنے والے عُموماً  قیمہ دھوتے نہیں ہیں ۔    ان کے بَقول قِیمہ دھو کر ڈالیں تو کباب سموسے کا ذائقہمُتَأَثِّر ہو تا ہے!  بازاری قیمے میں بعض اَوقات کیا کیا ہوتا ہے یہ بھی سن لیجئے!  گائے کی اوجھڑی کا چھلکا اتار کراُس کی ‘’ بَٹ’‘ میں تِلّی بلکہ مَعَاذَاللہ عَزَّوَجَلَّ کبھی تو جَماہوا خون ڈال کر مشین میں پیستے ہیں اِس طرح سفید بٹ کے قیمے کا رنگ گوشت کی مانِند گلابی ہوجاتا اور وہ دھوکے سے گوشت کے قیمے میں کھپا دیا جاتاہے۔   بسا اوقات کباب سموسے والے حسبِ ضَرورت ادرک لہسن وغیرہ بھی اُسی قیمے کے ساتھ ہی پِسوالیتے ہیں ۔    اب اس قیمے کے دھونے کا سُوال ہی پیدا نہیں ہوتا،   اُسی قیمے میں مرچ مَصالَحہ ڈال کر بھون کر اُس کے کباب سموسے بناکر فروخت کرتے ہیں ۔    ہوٹلوں میں بھی اسی طرح کے قیمے کے سالن کا اندیشہ رہتا ہے۔   گندے کباب سموسے والوں سے پکوڑے وغیرہ بھی نہ لئے جائیں کہ کڑاہی ایک اور تیل بھی وُہی گندے قیمے والا۔    خیر میں یہ نہیں کہتا کہ مَعَاذَاللہ عَزَّوَجَلَّ ہر گوشت بیچنے والا اس طرح کرتا ہے یا خُدانخواستہ ہر کباب سموسے والا ناپاک قِیمہ ہی استِعمال کرتا ہے۔    یقینا خالِص گوشت کا قیمہ بھی ملتا ہے ۔   اور اگر   ’’ بٹ‘‘ کے قیمے کا کہہ کر ہی فروخت کیا تب بھی گناہ نہیں ۔    عَرض کرنے کامَنشاء یہ ہے کہ قِیمہ یا کباب سموسے قابِل اطمینان مسلمان سے لینے چاہئیں اور جو مسلمان گناہوں بھری حَرَکتیں کرتے ہیں ان کو توبہ کرلینی چاہئے۔   

کباب سَموسے طبیبوں کی نظر میں

          کباب،  سَموسے ، پکوڑے، شامی کباب،   مچھلی اور مُرغی وغیرہ کی تلی ہوئی بوٹیاں ،    پوریاں ، کچوریاں ، پِزّے ، پراٹھے ، انڈا آملیٹ وغیرہ ہم خوب مزے لے لے کر کھاتے ہیں ۔   مگربے ضَرَرنَظَر آنے والی اِن خَستہ اور کراری غذا ؤں کا غیر مُحتاط استِعمال اپنے اندر کیسے کیسے مُہْلِک (مُہْ۔  لِکْ)   امراض لئے ہوئے ہے اِس کا شاذ و نادِر ہی کسی کو علم ہوتا ہے ۔  تلنے کیلئے جب تیل کوخوب گرم کیا جاتا ہے تو طِبّی تحقیقات کے مطابِق اِس کے اندر کئی ناخوشگوار و نقصان دِہ مادّے پیدا ہوجاتے ہیں ،  تلنے



[1]   اللہ عَزَّ وَجَلَّ ہماری طرف سے حضرتِ محمد صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کو ایسی جزا عطا فرمائے جس کے وہ اہل ہیں ۔



Total Pages: 4

Go To