Book Name:Qaseeda Burda Shareef Say Rohani Ilaj

پیشِ لفظ

     قصيده برده وه عظيم الشان قصيده ہے جو بارگاهِ نبوی على صاحبها الصلاة والسلام سے سندِ قبولیت پاکر  چار دانگ عالم میں مشہور ہے ،اسکے مصنف علامہ شرف الدین محمد بُوصِیری   رَحِمَہُ اللہُ القَوِیّ ہیں آپ علوم عربیہ کے ماہر اور فصاحت وبلاغت میں مہارت تامہ رکھتے تھے ,سن 695ھ میں آپ نے وفات پائی اور امام شافعی  رحمہ اللہ الكافي کے مزار کے قریب مقام فسطاط میں مدفون ہوئے ،قصیدہ بردہ لکھنے کا سبب یہ ہوا کہ ایک روز اچانک آپ پر فالج كا حمله هوا حتی کہ نصف حصہ بے حس ہو گیا آپ فرماتے ہیں  کہ میرے ضمیر نے مجھے مشورہ دیا کہ ایک قصیدہ حضور نبی کریم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کی تعریف میں لکھوں اور اس کے وسیلے سے اپنے لیے شفا طلب کروں لہذا میں نے اس قصیدہ مبارکہ کو لکھا تو خواب میں حضور نبی کریم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کی زیارت سے مشرف ہوا میں نے آپ کو قصیدہ پڑھ کر سنایا تو  آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے خوش ہو کرمجھے چادر عطا فرمائی اور میرے اعضاء پر اپنے نور بھرے ہاتھوں کو پھیرا جب آنکھ کھلی تو میں نے اپنے آپ کو بالکل صحت یاب پایا ۔  اس قصیدے سے اِفادہ  و استفادہ اکثر  علماء وبزرگان دین کا معمول رہا ہے ، اسکے فوائد  اَن گِنَتْ اورمُسَلَّمْ ہیں جیساکہ اکثر شارحین نے ذکر فرمایا کہ حضرت سعد فاروقی   رَحِمَہُ اللہُ  تَعَالٰی    کی آنکھوں میں سخت آشوب چشم ہوگیا  ،قریب تھا کہ نابینا ہو جاتے دریں اَثنا  انکی سوئی ہوئی قسمت انگڑائی لے کر جاگ اٹھی اور خواب میں حضور سید عالم نور مجسم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کی زیارت نصیب ہوئی آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کے لب ہائے مبارکہ کو جنبش ہوئی رحمت کے پھول جھڑنے لگے اور اَلفاظ کچھ یوں ترتیب پائے کہ فلاں شخص کے پاس جاؤ  اسکے پاس قصیدہ بردہ رکھا ہے اسے لیکر

آنکھوں سے لگاؤ، آپ    رَحِمَہُ اللہُ  تَعَالٰی   اس شخص کے پاس گئے اور قصیدہ بردہ کو لیکر آنکھوں سے لگایا  اور پڑھا الحمد للہ انکا مرض بھی جاتا رہا اور آنکھیں پہلے سے بھی زیادہ روشن ہو گئیں ۔ ("عصيدة الشهدة": صـ 5,4)

زیر نظر کتاب میں قصیدہ بردہ  پڑھنے کے فضائل اور بالخصوص  اس سے روحانی علاج کو بیان کیا گیا ہے اوریہ روحانی علاج وہ ہیں جنہیں علامہ عمر بن احمد خرپوتی رَحِمَہُ اللہُ  تَعَالٰی   نے ذکر فرماکر ان پر علماء کی تائیدات کو بھی بیان فرمایا ہے ۔

علامه خرپوتي نے قصيده برده شريف كو پڑھ كر اس سے مكمل طور پر فوائد وبركات حاصل كرنے كي آٹھ شرائط بيان فرمائي هيں .وه يه هيں .

(١)باوضو (٢)قبله رُو هوكر(٣)صحيح مخارج واِعراب كے ساتھ(٤) اِسكے معاني كو سمجھ كر اور اِن ميں غوروفكر كرتے هوئے (٥)نظم كے انداز ميں پڑهتے هوئے نه كہ نثر ميں (٦)زباني (٧)كسي ماذون بزرگ كي اجازت سے (٨)هر شعر كے ساتھ صلاة وسلام والا شعر مَولايَ صَلِّ وَسَلِّم...إلخ پڑھيں . (عصيدة الشهدة شرح قصيدة البردة صـ 38 المدينة العلمية)

ہماری اس سعی میں اہل علم کتابت کی, فنی اور بالخصوص شرعی غلطی پائیں تو مجلس کو تحریرا مطلع فرماکر مشکور ہوں  ۔ اللہ عزوجل سے دعا ہے کہ وہ علماء اہلسنت کا سایہ عاطفت ہمارے سروں پر تادیر قائم رکھے اور ہمیں انکے فیوض وبرکات سے مستفیض ومستنیر فرمائے نیز تبلیغ قرآن وسنت کی عالمگیر  غیر سیاسی تحریک دعوت اسلامی کی تمام مجالس بشمول مجلس "المدینۃ العلمیۃ" کو دن گیارہویں  رات بارہویں ترقی و عروج عطا فرمائے ۔  اٰمِیْن بِجَاہِ النَّبِیِّ الْاَمِیْن صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم

      ترتيب وتدوين: (شعبه درسی كتب)

       پیشکش: مجلس المدینۃ العلمیۃ  (دعوتِ اِسلامي) (شعبه اصلاحي كتب)

اَلْحَمْدُ لِلّٰہِ رَبِّ الْعٰلَمِیْنَ وَ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَامُ عَلٰی سَیِّدِ الْمُرْسَلِیْنَ ط

اَمَّا بَعْدُ فَاَعُوْذُ بِاللّٰہِ مِنَ الشَّیْطٰنِ الرَّجِیْمِ ط  بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّ حِیْم ط

(۱) نافرمان جانورکوتابع كرنے اور زبان میں لکنت کے مرض کا علاج

أَمِنْ تَذَكُّرِ جِيْرَانٍ بِذِيْ سَلَمِ

مَزَجْتَ دَمْعًا جَرٰى مِنْ مُقْلَةٍ بِدَمِ

أَمْ هَبَّتِ الرِّيْحُ مِنْ تِلْقَاءِ كَاظِمَةٍ

وَأَوْمَضَ الْبَرْقُ فِي الظَّلْمَاءِ مِنْ إِضَمِ

فَمَا لِعَيْنَيْكَ إِنَْ قُلْتَ اكْفُفَا هَمَتَا

وَمَا لِقَلْبِكَ إِنْ قُلْتَ اسْتَفِقْ يَهِمِ([1])

(1)      ان تینوں اشعار کو اگر شیشہ کے برتن پر لکھ کر بارش کے پانی سے دھو کر نافرمان جانور کو پلایا جائے تو وہ فوراً  تابع ہوجائے گا ۔

حضرت علامہ محمد بن عبداللہ قیصری رَحِمَهُ اللہُ القَوِیّ فرماتے ہیں : ہم نے اس کا تجربہ کیا اور اسے تیر بہدف پایا ۔

(٢)  اگر ان تینوں اشعار کو ہرن کی جھلی پر لکھ کر ایسے شخص کے بازو پر باندھا جائے جس کی زبان میں لکنت کا مرض ہو تو زبان کی لکنت دور ہوجائے  اور اللہ عَزَّوَّجَلَّ کی مدد سے وہ فصیح اللسان ہوجائے ۔

("عصيدة الشهدة", صـ:14)

 (٢) ضعفِ قلب و دمہ کے مرض كا علاج

 

لَوْلاَ الْهَوَى لَمْ تُرِقْ دَمْعًا عَلَى طَلَل

وَلاَ أَرِقْتَ لِذِكْرِ الْبَانِ وَالْعَلَمِ([2])

(١) اگرکسی کو ضعفِ قلب (دل کی کمزوری) ہو یا دل بے انتہا پریشان ہو یا دمہ کا مرض ہو تو اس شعر کے حروف سیب پر لکھ کر کھلائیں تو چند دنوں میں صحت ہوگی ۔

 



 [1]   كيا ذی سلم  ہمسایوں کی یاد سے تیری آنکھوں سے خون آلود آنسو جاری ہوئے ؟ ۔

کیا کاظمہ کی جانب سے ہوا چلی ہے یا تاریک رات میں اضم پہاڑ سے بجلی چمکی ہے (اور تجھے وہاں کی یاد خون رُلا رہی ہے )؟ ۔  تو پھر تیری دونوں آنکھوں کو کیا ہواکہ اگر توانکو رکنے کیلئے کہتا ہے تو یہ اور زیادہ آنسو بہاتی ہیں اور کیا ہوا تیرے دل کواگر تو اسے کہتا ہے سکون پکڑ،تو مزیدغمگین ہو جاتا ہے ۔

[2]   اگر تجھے محبت نہ ہوتی تو تم ٹیلوں پر آنسو نہ بہاتے اور نہ بان و پہاڑ کی یاد سے جاگتا رہتا ۔



Total Pages: 7

Go To