Book Name:Kafan ki Wapsi

اَلْحَمْدُ لِلّٰہِ رَبِّ الْعٰلَمِیْنَ وَالصَّلٰوۃُ وَالسَّلَامُ عَلٰی سَیِّدِالْمُرْسَلِیْنط

اَمَّا بَعْدُ !  فَاَعُوْذُ بِاللہِ مِنَ الشَّیْطٰنِ الرَّجِیْم طبِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمط

کفن کی واپسی 

شیطٰن لاکھ سُستی دلائے یہ رسالہ ( 26صفحات ) مکمَّل پڑھ

لیجئے اِنْ شَآءَ اللہ عَزَّ  وَجَلَّ اس کے فوائد خود ہی دیکھ لیں   گے ۔

دُرُود شریف کی فضیلت

          حضور ِ اکرم ،    نُورِ مُجَسَّم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کا فرمانِ رحمت نشان ہے :  ’’جس نے کتاب میں   مجھ پر دُرُودِ پاک لکھا تو جب تک میرا نام اُس میں   رہے گا فرشتے اُس کے لیے استغفار ( یعنی دعائے مغفِرت )  کرتے رہیں   گے ۔ ‘‘  ( اَلْمُعْجَمُ الْاَ وْسَط  ج۱ص۴۹۷ حدیث۱۸۳۵ )

صَلُّوا عَلَی الْحَبِیْب !                                              صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد

       بصرہ کی ایک نیک خاتون نے بو قتِ وفات اپنے بیٹے کو وصیّت کی : ’’ مجھے اُس کپڑے کا کفَن دینا جسے پہن کر میں   رَجَبُ الْمُرَجَّب میں   عبادت کیا کرتی تھی ۔  بعد اَز وفات بیٹے نے کسی اور کپڑے میں   کفنا کر دَفْنا دیا ۔  جب وہ قبرستان سے گھر آیا تودیکھاکہ جو کفَن اُس نے پہنایا تھا وہ گھرمیں   موجود تھا !  اُس نے گھبرا کر ماں   کی وصیّت والے کپڑےتلاش کئے تو وہ اپنی جگہ سے غائب تھے ۔ اِتنے میں   ایک غیبی آواز گونج اٹھی :  ’’اپنا کفَن واپس لے لو   ( جس کی اُس نے وصیّت کی تھی )  ہم نے اُس کو اُسی کپڑے میں   کفنایا ہے  ( کیوں   کہ )  جو رجب کے روزے رکھتاہے ہم اُس کو قبرمیں   رنجیدہ نہیں   رہنے دیتے ۔ ‘‘ ( نُزہَۃُ المَجالِس ج۱ ص۲۰۸  )  اللہ عَزَّوَجَلَّ کی اُن پر رَحمت ہو اور اُن کے صَدقے ہماری بے حساب مغفِرت ہو ۔

 اٰمِین بِجَاہِ النَّبِیِّ الْاَمِین صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم

رَجَب میں   یہ دعا پڑھنا سنّت ہے !

جب رَجب کا مہینا آتاتو نبیِّ اکرمصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَیہ دُعا پڑھتے تھے : اَللّٰھُمَّ بَارِکْ لَنَا فِیْ رَجَبٍ وَّشَعْبَانَ وَبَلِّغْنَارَمَضَان ۔ یعنی اے اللہ عَزَّوَجَلَّ ! تو ہمارے لیے رَجب اور شعبان میں   بَرَکتیں   عطا فرمااور ہمیں   رَمَضان تک پہنچا ۔

 ( اَلْمُعْجَمُ الْاَ وْسَط لِلطّبَرانی،    ج۳،    ص۸۵،    الحدیث :  ۳۹۳۹ )

اللّٰہ کا مہینا

          فرمانِ مصطَفٰےصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ : رَجَبٌ شَہْرُ اللّٰہِ تَعَالٰی وَشَعْبَانُ شَہْرِیْ وَ رَمَضَانُ شَہْرُ اُمَّتِیْ ۔  یعنی رَجب اللّٰہ تعالٰی کا مہینا اور شعبان میرا مہینا اوررَمضان میری اُمت کا مہینا ہے ۔  ( اَلْفِردَوس بمأثور الْخِطاب ج۲ص۲۷۵ حدیث ۳۲۷۶ )

رجب کے مختلف نام اور معانی

        ’’رجب ‘‘دراصل تَرجِیْب سے مُشْتَق  ( یعنی نکلا  )   ہے اِس کے معنٰی ہیں    : ’’ تعظیم کرنا ۔ ‘‘اِس کواَلْاَصَبْ ( یعنی تیز بہاؤ )  بھی کہتے ہیں   اِس لئے کہ اس ماہِ مبارَک میں   توبہ کرنے والوں   پر رَحمت کا بہاؤ تیز ہوجاتا اور عبادت کرنے والوں   پر قَبولِیَّت کے انوار کا فیضان ہوتا ہے  ۔  اسے اَلْاَصَمّ ( یعنی  بَہرا )  بھی کہتے ہیں   کیونکہ اِس میں   جنگ و جَدَل کی آوازبِالکل سنائی نہیں   دیتی ۔  ( مُکاشَفۃُ الْقُلوب ص۳۰۱   ) اس ماہ کو ’’شَہرِرجم‘‘بھی کہتے ہیں   کیونکہ اِس میں   شیطانوں    کو رجم کیا جاتا ہے  ( یعنی پتھر مارے جاتے ہیں    ) تاکہ وہ مسلمانوں   کو اِیذاء نہ دیں   ۔  ( غُنْیَۃُ الطّا لِبِیْن ج۱ ص۳۱۹،    ۳۲۰ )

رجب کے تین حروف کی بھی کیا بات ہے !

           سُبحٰن اللہ عَزَّ وَجَلَّ   !  میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو ! ماہِ رَجبُ المُرَجَّب کی بہاروں    کی توکیا بات ہے !  ’’مُکاشَفَۃُ الْقُلُوب‘‘میں   ہے،     بُزُرگانِ دین



Total Pages: 10

Go To