Book Name:Qasam kay baray main Madani Phool

اَلْحَمْدُ لِلّٰہِ رَبِّ الْعٰلَمِیْنَ وَ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَامُ علٰی سَیِّدِ الْمُرْسَلِیْنَ ط

اَمَّا بَعْدُ فَاَعُوْذُ بِاللّٰہِ مِنَ الشَّیْطٰنِ الرَّجِیْمِ ط  بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّ حِیْم ط

قسم کے بارے میں  مدنی پھول) [1] (

شیطٰن لاکھ سُستی دلائے  مگر آپ یہ رسالہ (42صفحات)   مکمَّل پڑھ لیجئے اِنْشَآءَاللہ عَزَّ وَجَلَّ آپ کو مفید ترین معلومات ملیں  گی

فِرِشتے  اٰمین کہتے ہیں

        حضرتسیِّدُنا ابو ہُریرہ  رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہسے مروی ہے کہ سرکارِمدینۂ منوّرہ،  سردارِمکّۂ مکرّمہ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَکا فرمانِ عظمت نشان ہے:  اللہ عَزَّ وَجَلَّکے کچھ سَیّاح  (یعنی سیر کرنے والے )  فرشتے ہیں  ، جب وہ مَحافِلِ ذکر کے پاس سے گزرتے ہیں  تو ایک دوسرے سے کہتے ہیں :  (یہاں )  بیٹھو۔ جب ذاکرین  (یعنی ذِکر کرنے والے) دُعا مانگتے ہیں تو فرشتے اُن کی دُعا پر اٰمین (یعنی ’’ ایسا ہی ہو ‘‘ )   کہتے ہیں  ۔ جب وہ نبی  پر دُرُود بھیجتے ہیں  تو وہ فرشتے بھی ان کے ساتھ مل کر دُرُود بھیجتے ہیں  حتی کہ وہمُنتَشِر  (یعنی اِدھر اُدھر)  ہوجاتے ہیں ،  پھر فرشتے ایک دوسرے کو کہتے ہیں  کہ اِن خوش نصیبوں  کے لئے خوشخبری ہے کہ وہ مغفرت کے ساتھ واپس جا رہے ہیں ۔  (جَمْعُ الْجَوامِع لِلسُّیُوطی  ج۳ص۱۲۵حدیث۷۷۵۰)

صَلُّوا عَلَی الْحَبِیْب!                                                صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد

      میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو! آج کل کثیر لوگوں  کا بات بات پر قسمیں  کھانے کی طرف رُجحان (رُج۔حان)  دیکھا جا رہا ہے ،  بارہاجھوٹی قسم بھی کھا لی جاتی ہے،  نہ توبہ کا شُعور نہ کَفّارہ دینے کی کوئی شُد بُد،  لہٰذا امّت کی خیرخواہی کا ثواب کمانے کی حِرص کے سبب بطورِ نیکی کی دعوت قدرے تفصیل کے ساتھ قَسَم اور اس کے کَفّارے کے بارے میں  مَدَنی پھول پیش کرتا ہوں ،  قَبول فرمایئے۔ اس کا اَز اِبتداء تا انتِہا مُطالَعہ یا بعض اسلامی بھائیوں  کامل بیٹھ کر دَرس دیناصِرف مُفید ہی نہیں ،  اِنْ شَآءَاللہ عَزَّ وَجَلَّمفید ترین ثابِت ہو گا۔

قَسم کی تعریف

          قسم کو عَرَبی زَبان میں  ’’ یَمِین ‘‘ کہتے ہیں  جس کا مطلب ہے:  ’’  دا  ہنی (یعنی سیدھی)  جانِب ‘‘ ،  چُونکہ اہلِ عَرَب عُمُوماً قسم کھاتے یا قسم لیتے وَقت ایک دوسرے سے داہنا  (یعنی سیدھا)  ہاتھ مِلاتے تھے اِس لئے قسم کو   ’’ یمین  ‘‘ کہنے لگے،  یا پھر یَمِین ’’ یُمْن ‘‘ سے بنا ہے جس کے معنیٰ ہیں  ’’ بَرَکت وقُوَّت  ‘‘ ،  چُونکہ قسم میں اللہ تَعَالٰی کا بابَرَکت نام بھی لیتے ہیں  اور اس سے اپنے کلام کو قُوَّت دیتے ہیں  اِس لئے اِسے یَمِین کہتے ہیں  یعنی بَرَکت و قُوَّت والی گفتگو۔ (مُلَخَّص ازمِراۃُ المناجیح ج۵ ص۹۴)  شَرعی اِعتِبار سے قسم اُس عَقد  (یعنی عَہد وپَیماں  )  کو کہتے ہیں  جس کے ذَرِیعے قسم کھانے والا کسی کام کے کرنے یا نہ کرنے کا پُختہ  (پکّا)  اِرادہ کرتاہے ۔  (دُرِّمُختار ج۵ ص۴۸۸)   مَثَلاً کسی نے یوں  کہا :  ’’  اللہ عَزَّ وَجَلَّکی قسم !  میں  کل تمہارا سارا قَرض ادا کردوں  گا  ‘‘ تو یہ قسم ہے۔

قَسَم کی تین اَقسام

          قسم تین طرح کی ہوتی ہے:  (ا)  لَغو  (۲)  غَمُوس  (۳)   مُنعَقِدہ ۔

              {۱} لَغْویہ ہے کہ کسی گزرے ہوئے یاموجودہ اَمر (یعنی مُعامَلے )  پر اپنے خیال میں   (یعنی غَلَط فہمی کی وجہ سے)  صحیح جان کر قسم کھائے اور درحقیقت وہ بات اس کے خلاف (یعنی اُلَٹ )  ہو ، مَثَلاً کسی نے قسم کھائی :  ’’  اللہ عَزَّ وَجَلَّکی قسم !  زَیدگھر پر نہیں  ہے ‘‘ اور اس کی معلومات میں  یِہی تھا کہ زید گھر پر نہیں  ہے اور اِس نے اپنے گُمان میں  سچّی قسم کھائی تھی مگر حقیقت میں  زید گھر پر تھا تو یہ قسم ’’ لَغو  ‘‘ کہلائے گی ، یہ مُعاف ہے اور اس پر کفّارہ نہیں  {۲}  غَمُوس یہ ہے کہ کسی گزرے ہوئے یاموجودہ اَمر (یعنی مُعامَلے)  پر دانِستہ  (یعنی جان بوجھ کر) جھوٹی قسم کھائے مَثَلاً کسی نے قسم کھائی :    ’’ اللہ عَزَّ وَجَلَّکی قسم !  زیدگھر پر ہے،  ‘‘ اوروہ جانتا ہے کہ حقیقت میں  زَید گھر پر نہیں  ہے تو یہ قسم ’’ غَمُوس  ‘‘ کہلائے گی اورقسم کھانے والا سخت گنہگار ہوا ، اِستِغفار و توبہ فرض ہے مگر کفّارہ لازِم نہیں  {۳} مُنْعَقِدہ یہ ہے کہ آیَندہ کے لیے قسم کھائی مَثَلاً یوں  کہا:   ’’  ربّ عَزَّ وَجَلَّکی قسم !  میں  کل تمہارے گھر ضَرور آؤں  گا۔ ‘‘ مگر دوسرے دن نہ آیا تو قسم ٹوٹ گئی ،  اسے کفّارہ دینا پڑے گا اور بعض صورَتوں  میں  گنہگار بھی ہوگا۔  (فتاوٰی عالمگیری ج۲ص۵۲)

             خُلاصہ یہ ہوا کہ قَسَم کھانے والا کسی گزری ہوئی یاموجودہ بات کے بارے میں  قسم کھائے گا تو وہ یا توسچّاہوگا یاپھر جھوٹا، اگر سچّا ہوگا تو کوئی حَرَج نہیں اور اگرجُھوٹا ہوگا تو اُس نے وہ قسم اپنے خیال کے مطابِق اگرسچّی کھائی تھی تو اب بھی حرج نہیں یعنی گناہ بھی نہیں  اور کفَّارہ بھی نہیں  ہا ں  اگراسے پتا تھا کہ میں  جھوٹی قسم کھا رہا ہوں  تو گنہگار ہوگا مگر کفّارہ نہیں  ہے ،  اور اگر اس نے آیَندہ کیلئے کسی کام کے کرنے یا نہ کرنے کی قَسَم کھائی تو اگر وہ قسم پوری کردیتا ہے تو فَبِھا  (یعنی خوب بہتر)  ورنہ کَفّارہ دینا ہوگا اوربعض صورَتوں  میں  قسم توڑنے کی وجہ سے گنہگار بھی ہوگا۔  (ان صورَتوں  کی تفصیل آگے آرہی ہے)

جھوٹی قَسم کَھانا گناہِ کبیرہ ہے

          رسولِ بے مثال،  بی بی آمِنہ کے لال صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَکا فرمانِ عالیشان ہے:  ’’  اللہ عَزَّ وَجَلَّکے ساتھ شرک کرنا، والِدَین کی نافرمانی کرنا ،  کسی جان کوقَتل کرنا اورجُھوٹی قسم کھانا کبیرہ گناہ ہیں ۔ ‘‘  (بُخاری ج۴ص۲۹۵حدیث۶۶۷۵)  

 



  [1] شیخِ طریقت،امیرِ اہلسنّت ،حضرتِ علامہ مولانا محمد الیاس عطارؔ قادری رضوی ضیائی دَامَت بَرَکاتُہُمُ الْعَالِیَہکی تصنیف ’’نیکی کی دعوت ‘‘(حصہ اول) صفحہ۱۶۱ پر ’’قسم کے بارے میں مدنی پھول‘‘موجود ہیں ، اِفَادِیت کے پیشِ نظر رسالے کی صورت میں بھی شائع کئے جارہے ہیں ۔مجلس مکتبۃُ المدینہ



Total Pages: 11

Go To