Book Name:Jahan Chah Wahan Rah
رستے خود بخود بن جاتے ہیں ، اگر ہماری کوشش اللہ پاک کے دین کی سربلندی کے لئے ہو،اس کی تبلیغ و اشاعت میں ہو تو اس میں اللہ پاک کی مدد بھی شاملِ حال ہو جاتی ہے اور یوں مشکل کام آسان ہوتے اور مقاصد میں کامیابی ملتی ہے۔ قرآن و سنت کی روشنی میں یہ بات واضح ہوتی ہے کہ کامیابی صرف خواہش سے نہیں بلکہ صبر، محنت، دعا اور توکل سے حاصل ہوتی ہے۔ جیساکہ قرآن مجید میں ہے کہ
وَ اَنْ لَّیْسَ لِلْاِنْسَانِ اِلَّا مَا سَعٰىۙ(۳۹) (سورۃ النجم، آیت 39)
ترجَمۂ کنز العرفان: اور یہ کہ انسان کیلئے وہی ہوگا جس کی اس نے کوشش کی۔
پیارے اسلامی بھائیو! اس حکایت سے یہ بھی معلوم ہوا کہ کوئی بھی اہم دینی یا دنیوی کام ہو ، بلاوجہ عذر اور بہانہ پیش کرکے اُس سے منہ نہیں پھیرنا چاہئے ، بالخصوص ایسے کاموں سے جن سے منہ پھیرلینا بہت بڑے اجروثواب سے محرومی کا باعث ہو ۔ خدمتِ دین کے کاموں میں اَعذار پیش کرکے اُن سے جان چھڑا لینا نہ صرف ثواب سے محرومی ہے بلکہ اس کے ساتھ ساتھ دین کی تبلیغ واِشاعت میں کمزوری کا سبب بنتا ہے ۔یقیناً شیطان تو یہی چاہتا ہے کہ برائیوں کو فروغ ملے اور خدمتِ دین کا کام مزید سُست ہو ، اس لئے نفس و شیطان مل کر انسان کے سامنے ممکن کاموں کو بھی بھاری اور ناممکن بنا کر پیش کرتے ہیں جس کی وجہ سے انسان اس پر عمل سے گریز کے لیے بہانے تراش لیتا ہے۔مثلاً :
بعض اسلامی بھائیوں کی طرف سے دینی کاموں کی ذمہ داری کو قبول نہ کرنے اور اس سے راہِ فرار اختیار کرنے کے لئے کچھ اس طرح کی باتیں سننے کو ملتی ہیں :
مجھے دینی کاموں کے لئے وقت نہیں ملتا ، میں اکیلا کام کیسے کروں ؟علاقے میں سُنّیت