Book Name:Jahan Chah Wahan Rah
نہیں، علاقے میں حالات ٹھیک نہیں ، نیو سوسائٹی ہے یہاں وہ ماحول نہیں ہے وغیرہ ۔ یاد رہے کہ ایسے اعذار دین کا سچا درد رکھنے والے مسلمان کے لئے مناسب نہیں ۔
بہانوں اور خدمتِ دین کے عظیم کاموں سے جان چھڑانے کا یہ رویہ نہ صرف نیکیاں کمانے کے مواقع سے محروم کر دیتا ہے بلکہ آہستہ آہستہ دین کا درد بھی ختم کر دیتا ہے۔ جب بار بار ”امر بالمعروف ونہی عن المنکر “ کے کاموں کو ٹالنے کی عادت بن جائے تو ایمان کی حرارت کمزور پڑنے لگتی ہے اور انسان معمولی دنیاوی مصروفیات کو دین پر ترجیح دینے لگتا ہے۔ نتیجتاً نیکیوں کی محبت اور گناہوں سے نفرت کا جذبہ سرد پڑ جاتا ہے ۔ حیلے بہانوں کی کثرت ہمیں عمل سے دور اور صرف نیتوں کے سہارے جینے کا عادی بنا دیتی ہے۔ اس لیے کامیابی کا راستہ یہی ہے کہ انسان اپنے نفس کے گھڑے ہوئے اعذار کو پہچانے اور ان سے نجات حاصل کرے۔
پیارے اسلامی بھائیو! جس طرح اللہ پاک نے ہر انسان کو اسی کا مکلف کیا جس کی اُس میں طاقت ہے ، جس قدر ہوسکے انسان کوشش کرے ، اسی طرح دنیا بھر میں سنتوں کی خدمت کرنے والی عظیم تنظیم دعوتِ اسلامی بھی اپنے ہر اسلامی بھائی اور اسلامی بہن سے یہی تقاضا کرتی ہے کہ جیسے ممکن ہو ویسے اور جس قدر ممکن ہو اتنا دینی کام کر لیا جائے۔ یہ سوچ کر دینی کام کرنے سے انکار نہ کریں کہ میں مکمل طریقے سے دینی کام نہیں کرسکتا۔ یعنی کچھ کرنے کا جذبہ اور کڑھن ہو تو جس انداز میں دینی کام کرنا ممکن ہو ویسے کرلئے جائیں اور اس حوالے سے اپنے نگران سے مشاورت کر لی جائے ۔ اگرچہ تنظیمی طور پر دینی کام کرنے کا ایک انداز طے ہے لیکن موقع محل کے اعتبار سے تنظیم نے لچک رکھی ہے۔لہٰذا دینی کاموں میں کوئی رکاوٹ آ جائے تو اُسے دُور کیا جائے گا نہ یہ کہ دینی کام کو