Jahan Chah Wahan Rah

Book Name:Jahan Chah Wahan Rah

یا دینی معلومات رکھنے والا ہی  بہتر انداز میں کر سکتا ہے ۔امام صاحب فہیم کی بات پر خاموش رہے  اور اگلے دن امام صاحب نے فیضان سے   یہ بات کہی، وہ    نہ  عالم تھا نہ خطیب، بس دین سے محبت رکھتا تھا۔فیضان  نے کہا:میرے پاس بھی کوئی خاص دینی علم  تو نہیں، البتہ  میں کوشش ضرور کروں گا۔اس کے بعد  فیضان  نے دوسروں سے تعلقات قائم کرنے کے لئے   چھوٹے چھوٹے ہدف مقررکیے جس سے لوگوں کو اس سے انسیت ہو اور وہ لوگوں کو نیکی کے کاموں کو کرنے اور  نماز باجماعت ادا کرنے کی دعوت دے سکے :

کہ وہ سلام  میں پہل کیا کرے گا ،نماز کی پابندی کرے  گا،نرم لہجہ اپنائے گا ،ان کو نماز کی دعوت دے گا ، ہر ایک  سے خیرخواہی کرے گا۔

اس کی کوششوں سے  کچھ ہی عرصے میں لوگ مسجد سے جڑنے لگے اور نمازوں میں لوگوں کی تعداد بڑھنے لگ گئی  یوں اس ایک بندے کی کاوش سے اس علاقے میں نیکیوں کی بہار آگئی اور مسجد کی رونق میں اضافہ ہوا ۔

فہیم نے  کہا: یہ تو وہی کام ہے جسے میں نے لوگوں کے مختلف مزاج ہونے اور ان کے ردِ عمل کے خوف سے ٹال دیا تھا۔امام صاحب نے کہا: چھوٹی چھوٹی کوششیں بھی بڑا اثر پیدا کرسکتی ہیں اور دین کی خدمت میں  تو ہر کوشش قیمتی ہے۔ فیضان نے اپنے خلوصِ عمل سے ہی  اس دینی کام کو سرانجام دیا ہے ۔

پیارے اسلامی بھائیو! عمل کی سادگی اور مستقل مزاجی ہی سب سے بڑی قوت ہے اور  کسی کام کو سرانجام دینے کےلئے اس میں پختہ ارادہ ہونا بڑی  اہمیت کا حامل ہوتا ہےکہ جب کسی کام کو کرنے کا عزم مصمم ہو اور کوشش سچی ہو تو وہ کام پایۂ تکمیل تک پہنچ جاتا ہے۔ایک مشہور مقولہ ہے  کہ ”جہاں چاہ، وہاں راہ“  یعنی  جہاں کوشش کی جاتی ہے وہاں