Share this link via
Personality Websites!
مقابلے اور فساد انگیزی کی کوشش کرتے ہوئے ایمان قبول کرنے سے منہ موڑ لیا اوراس نے جادوگروں کو اور اپنے لشکر وں کو جمع کیا ،جب وہ جمع ہو گئے تو فرعون نے انہیں پکارا اور ان سے کہا ’’میں تمہاراسب سے اعلیٰ رب ہوں ، میرے اوپر اور کوئی رب نہیں ،تو اللہ پاک نے اسے دنیا و آخرت دونوں کے عذاب میں اس طرح پکڑا کہ دنیا میں اسے غرق کر دیا اور آخرت میں جہنم میں داخل فرمائے گا۔([1])
پیارے اسلامی بھائیو! ہمیں چاہئے کہ ہم اپنے اندر حق بات قبول کرنے کی صفت پیدا کریں کہ حق بات معلوم ہونے کے باوجود محض اپنی اَنانِیَت کی وجہ سے اُسے قبول نہ کرنا فرعونیوں اور اللہ پاک کے ناپسندیدہ لوگوں کا طریقہ ہے اور یہی ضد اور ہٹ دھرمی ہے ۔
ضد اور ہٹ دھرمی کے کئی اسباب ہو سکتے ہیں البتہ اسکے نمایاں اسباب چار (4) طرح کے ہیں جو کہ درج ذیل ہیں:
(1) جہالت (علم کی کمی ) (2)تکبر (3) اَنا (4)عِناد(دشمنی)
یہ چار اسباب ایسے ہیں جن کی وجہ سے بندہ ضد اور ہٹ دھرمی کر رہا ہوتا ہے۔ ہمیں چاہئے کہ ہم اپنے اندر یہ اسباب پیدا ہی نہ ہونے دیں ، کہ اگر ہم اِن اسباب پر نظر رکھیں اور اِن کو کنٹرول کر لیں ،اِنہیں اپنے اندر جگہ نہ بنانے دیں تو ان شاء اللہ الکریم پھر ہم ضد اور ہٹ دھرمی سے بچنے میں کامیاب ہو جائیں گے۔
ضد اور ہٹ دھرمی انسان کو حق قبول کرنے سے روکتی ہیں ، اس لئے ہمارا پیارا دین اسلام اِن منفی صفات کو ترک کرنےاور عاجزی و انکسار بجا لاتے ہوئے حق کو قبول کرنے کا
©Copyright 2026 by I.T. Department of Dawat-e-Islami