Book Name:Oraad-o-Wazaef Ki Barakaein

اُسے کثرت سے لَاحَوْلَ وَلَا قُوَّۃَ اِلَّابِاللہپڑھنے کاحکم دیتے ہیں۔

حضرت سیدنا عوف بن مالکرَضِیَ اللّٰہُ عَنْہُ کو دشمنوں نے بیڑیوں میں جکڑا ہوا تھا، مگراس وظیفے کی برکت سے ان کی بیڑیاں ٹُوٹ گئیں،وہ دشمنوں کی قید سے نکل کر ان کی ایک اُونٹنی پر سوار ہوکر چل پڑے ۔ راستے میں ایک چراگاہ میں دشمنوں کےجانور چر رہے تھے ۔آپ نے انہیں پکارا تو وہ سب کے سب دوڑتے بھاگتے ہوئے آپ کے پیچھے پیچھے چل پڑے۔جب آپ گھر پہنچے تو دروازے(Door)پر آکر اپنے والدین کو پکار ا تو ان کے والدین خوشی سے جھُوم اُٹھے اور حیرت بھی کررہے تھے کہ عوف تو قید میں تھے پھر کیسے یہاں آگئے ؟۔بہرحال  جب ان کے والدین اور ان کا خادم دروازے کی طرف گئے تو دیکھا کہ حضرت عوف رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہُ اُونٹوں کے زبردست ریوڑکے ساتھ موجود ہیں،آپ نے اپنے والدین سے اپنے اور اُونٹوں کے معاملے سے آگاہ کیا ۔آپ کے والدِ محترم نے آپ سےفرمایا:ٹھہرو! میںرسولاللہصَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ واٰلِہٖ وَسَلَّمَ کی بارگاہ میں حاضر ہوکران اُونٹوں کے بارے میں سوال کروں گا(کہ یہ اونٹ ہمارے لئے حلال ہیں یا نہیں؟)چنانچہ آپ کے والدِ محترم نے بارگاہِ رسالت میں حاضر ہوکر عوف اور اُونٹوں کےبارے میں عرض کی،سرکارِ مدینہ، راحتِ قلب و سینہ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ واٰلِہٖ وَسَلَّمَ نےان سے ارشادفرمایا:ان اُونٹوں کو تم جو چاہو کرو(یعنی وہ اُونٹ تمہارے لئے حلال ہیں)۔تفسیر ابن کثیر، پ۲۸،سورۃ الطلاق،تحت الاٰیۃ: ۲،۳،۸/۱۷۰

شُکر ایک کرم کا بھی ادا ہو نہیں سکتا        

دل اُن پہ فِدا جانِ حَسنؔ اُن پہ فِدا ہو