Share this link via
Personality Websites!
نے دیکھا کہ اُس کے سنگریزے موتیوں کے اور اُس کی مِٹّی مُشک کی تھی،([1]) پھر چار(4) نہریں دیکھیں،ایک پانی کی جو تبدیل نہیں ہوتا، دوسری دُودھ کی جس کا ذائقہ نہیں بدلتا، تیسری شَراب کی جس میں پینے والوں کے لئے صرف لذّت ہے(نشہ بالکل نہیں)،چوتھی نہر پاکیزہ اور صاف سُتھرے شہد(Honey) کی۔جنّت کے پرندے اُونٹوں کی طرح تھے، اُس میں اللہ کریم نے اپنے نیک بندوں کے لئے ایسے ایسے اِنْعَامات تیّار کر رکھے ہیں،جنہیں کسی آنکھ نے دیکھا نہ کسی کان نے سُنا اور نہ کسی انسان کے دِل میں اِس کا خَیَال گزرا۔([2])
اعلیٰ حضرت،امامِ اہلسنّت مولانا شاہ احمد رضا خان رَحْمَۃُ اللّٰہ ِتَعَالٰی عَلَیْہ سفرِ معراج کے دوران آقا صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ واٰلِہٖ وَسَلَّمَکے جنّت کی سیر کے دلنشین لمحات کو الفاظ کا جامہ پہناتے ہوئے لکھتے ہیں:
وہ بُرجِ بَطْحَا کا ماہ پَارہ بِہِشْتْ کی سَیر کو سِدَھارا
چمک پہ تھا خُلد کا سِتارہ کہ اِس قَمر کے قدم گئے تھے
(حدائق بخشش،ص۲۳۷)
شعر کی وضاحت:معراج کی رات وادیِ مکّہ کے چاند صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ جب جنّت کی سیر کو تشریف لے گئے تو جنّت کے مُقَدَّر کا ستارہ چمک اُٹھا، کیونکہ جنّت میں ماہتابِ رسالت صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کے مبارَک قدم جو لگ رہے تھے۔
سُرُورِ مَقْدَمْ کی روشنی تھی کہ تَابِشوں سے مَہِ عَرَب کی
جِنَاں کے گُلشن تھے جھاڑ فَرشی جو پُھول تھے سب کنول بنے تھے
BOOK TOPIC
©Copyright 2026 by I.T. Department of Dawat-e-Islami