Share this link via
Personality Websites!
حضرت سیِّدُنا ابو بُرَیْدَہ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُ سے روایت ہے کہ رسولِ اکرم صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ واٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے اِرْشاد فرمایا:(شبِ معراج) جب میں جنّت میں داخل ہوا تو سونے سے آراستہ ایک محل کے پاس سے میرا گزر ہوا۔ میں نے پوچھا:”لِمَنْ هٰذَا الْقَصْرُ یہ محل کس کا ہے؟‘‘فِرِشتوں نے عَرْض کی:”لِرَجُلٍ مِّنَ الْعَرَبِ یہ ایک عَرَبی نوجوان کا ہے۔“میں نے کہا:”اَنَا عَرَبِیٌّ میں عَرَبی ہوں۔“فِرِشتوں نے عرض کی:”لِرَجُلٍ مِنْ قُرَيْشٍ یہ ایک قَرَشِی نوجوان کا ہے۔“میں نے کہا:”اَنَا قُرَشِيٌّ میں قَرَشِی ہوں“،فِرِشتوں نے عَرْض کی:’’لِرَجُلٍ مِّنْ اُمَّۃِ مُحَمَّدٍ یہ اُمّتِ محمدیہ کے ایک شخص کا ہے۔“میں نے کہا:’’اَنَا مُحَمَّدٌ محمد تو میں ہوں۔فِرِشتوں نے عرض کی:’’لِعُمَرَ بْنِِ الْخَطَّابِ یہ محل عُمَر بن خطّاب رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُ کا ہے۔“نبیِّ کریم صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ واٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے اِرْشاد فرمایا:”فَاَرَدْتُ اَنْ اَدْخُلَهُ فَاَنْظُرَ اِلَيْهِ، فَذَكَرْتُ غَيْرَتَكَ تو میں نے چاہا کہ میں اُُس محل میں داخل ہوجاؤں تاکہ اُسے دیکھ سکوں مگر مجھے تمہاری غیرت یاد آگئی۔“یہ سُن کر امیرُ المؤمنین حضرت سیِّدُنا عُمَر فاروقِ اعظم رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُ عرض کرنے لگے:”بِاَبِیْ وَاُمِّیْ يَا رَسُولَ اللہ،اَعَلَیْکَ اَغَارُ؟یارسولَ اللہ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ واٰلِہٖ وَسَلَّمَ!میرے ماں باپ آپ پر قربان!کیا میں آپ پر بھی غیرت کروں گا۔“(ترمذی، کتاب المناقب، باب فی مناقب ابی حفص۔۔۔الخ،۵/۳۸۵،حدیث:۳۷۰۹ملتقطاً)(بخاری،کتاب فضائل اصحاب النبی،باب مناقب عمر بن الخطاب۔۔۔الخ، ۲/۵۲۵، حدیث:۳۶۷۹)
رہے تیری عطا سے یاخدا! تیری عنایت سے ہمارے ہاتھ میں دامن سدا فاروقِ اعظم کا
(وسائل بخشش مرمم،ص۵۲۶)
BOOK TOPIC
©Copyright 2026 by I.T. Department of Dawat-e-Islami