Share this link via
Personality Websites!
دونوں نمازوں کے درمیان جو گناہ ہوئے اللہ عَزَّ وَجَلَّ معاف فرمادیتاہے،جیساکہ
حَضْرتِ حارثرَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُ روایت کرتے ہیں کہ حَضْرتِ عُثمان رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُ ایک دن تَشْرِیْف فرما تھے اور ہم بھی بیٹھے تھے کہ مُؤذِّن آگیا، حَضْرتِ عُثمانرَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُ نے پانی منگوا کر وضو کیا، پھر فرمایا کہ میں نے مَدنی تاجدارصَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ واٰلِہٖ وَسَلَّمَ کو اسی طَرح وضو کرتے دیکھا ہے اور میں نے سرکارِ مدینہصَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ واٰلِہٖ وَسَلَّمَ کو یہ اِرْشاد فرماتے ہوئے بھی سُنا کہ جو شَخْص میرے اس وضو کی طرح وضو کرے پھر وہ ظُہر کی نَماز پڑھ لے تو اللہ عَزَّ وَجَلَّ اس کے گُناہوں کو مُعاف فرمادیتا ہے یعنی وہ گُناہ جو فَجْر کی نَماز اور اس ظُہر کی نَماز کے دَرْمیان ہوئے ہوں،پھر جب عَصْر کی نَماز پڑھتا ہے تو ظُہر اور عَصْر کے مابَیْن ( بیچ) کے گُناہوں کومُعاف فرمادیتا ہے، پھر جب مَغْرب کی نَماز پڑھتا ہے تو عَصْر اور مَغْرب کے دَرْمِیان کے گُناہوں کو مُعاف فرمادیتا ہے، پھر عِشاء کی نَماز پڑھتا ہے تو اُس کے اور مَغْرب کے دَرْمِیان کے گُناہوں کو مُعاف فرمادیتا ہے،پھر ہوسکتا ہے کہ رات بھر وہ لیٹ کر ہی گُزار دے اور پھر جب اُٹھ کر وُضو کرے اور فَجْر کی نَماز پڑھے تو عِشاء اور فَجْر کے مابَیْن (بیچ) کے گُناہوں کی بَخْشش ہوجاتی ہے اوریہی وہ نیکیاں ہیں جو بُرائیوں کو دُور کردیتی ہیں۔(الاحادیث المختارۃ،ج١،ص٤٥٠،حدیث ٣٢٤ملتقطا)
جوخوش نصیب پانچوں نمازیں اداکرتے ہیں اللہ عَزَّ وَجَلَّ اس کی برکت سے انہیں بیماریوں سے شفاعطافرماتاہے ۔آج ہمارے یہاں ایسی نئی نئی بیماریاں ظاہر ہورہی ہیں، جن کا آج سے پہلے نام تک نہ سنا تھا،ان کے علاج معالجے کیلئے لاکھوں روپے خرچ کرنے کے باوجود بھی بیماریاں بڑھتی جاتی ہیں،اگر ہم اللہ عَزَّ وَجَلَّ اور اس کے رسول صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ واٰلِہٖ وَسَلَّمَ کےفرامین پر عمل کرتے ہوئے نماز کی پابندی شروع کردیں تو اِنْ شَآءَ اللہعَزَّ وَجَلَّ بیماریوں سے نجات مل سکتی ہے۔جیساکہ
BOOK TOPIC
©Copyright 2026 by I.T. Department of Dawat-e-Islami