Book Name:Seerat e Sayyiduna Zubair bin awam

بہترین شخص ہیں اوررسولُاللہ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَکواُن سے بَہُت مَحَبَّت تھی۔ (صحیح البخاری،کتاب المناقب ،مناقب زُبَیْر بن العوّام،الحدیث:۳۷۱۷ ،ج۲ ص۵۳۹ از حضرتِ زبیر بن عوام،ص۶۶)

(5)تاجدارِ رِسالت،شَہَنْشَاہِ نُبوّتصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے آپ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ سے  فرمایا: ”فِدَاکَ اَبِیْ وَ اُمِّی“ یعنی اے زُبَیْر!تم پر میرے ماں باپ قربان۔ ( صحیح البخاری،کتاب المناقب ،مناقب زُبَیْر بن العوّام،الحدیث:۳۷۱۷ ،ج۲ ص۵۲۰)

صَلُّوْا عَلَی الْحَبِیْب!                 صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد

میٹھے میٹھے اِسلامی بھائیو!حَضْرتِ سیِّدُنا زُبَیْر بن عوّام رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ نے جَنّتی ہونے کی ضَمَانَت پانے کے باوُجُود ساری زندگی رِضائے رَبُّالْاَنَام کے حُصُول میں بَسَر کی، دِیْنِ اِسْلام کی خَاطِر ایسی قُربانیاں دِیں جو تاقِیَامَت مُسلمانوں کے لیے نُمُونَہ ہیں،بلکہ آپ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ نے تو اپنی جان ہی اسلام پر قُربان کر دی اور  شَہَادَت کے عَظِیْمُ الشَّان مَرتبہ پر فائز ہوئے۔ چنانچہ

حَضْرتِ سیِّدُنا زُبَیْر بن عوّام رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ جب جنگِ جُمَل چھوڑ کر واپس جا رہے تھے، تو۱۱جُمَادَی الاُخْریٰ   ۳۶   ؁ھ ابنِ جُرْمُوْز نے تَعَاقُب کر کے آپ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ کو دھوکے سے شہید کر دیا۔ (المستدرک، کتاب معرفۃ الصحابۃ، رجوع الزُبَیْر عن معرکۃ الجمل، الحدیث:۵۶۲۸، ج۴، ص۴۴۵)آپ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ کا مَزَار مُبَارَک عِرَاق کی سر زمین پر جس علاقے میں واقع ہے،اس کا نام ہی ”مَدِیْنَةُ الزُّبَیْر “ہے۔(یہ بصرہ صُوبے کی وادیِ سِبَاع  میں واقع ہے)

 (حضرت سیدنا زُبَیْر بن عوّام، ص۶۷)

صَلُّوْا عَلَی الْحَبِیْب!                 صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد

بیان  کا خلاصہ