تقویٰ کیسے حاصل ہو؟

فرمانِ باری تعالیٰ ہے:) یٰۤاَیُّهَا  الَّذِیْنَ  اٰمَنُوا  اتَّقُوا  اللّٰهَ  حَقَّ  تُقٰتِهٖ  (ترجمہ:اے ایمان والو! اللہ سے ڈرو جیسا اس سے ڈرنے کا حق ہے۔(پ4،آل عمرٰن:102)

مذکورہ آیتِ مبارکہ میں اللہ تعالیٰ نے تقویٰ کے متعلق اہلِ ایمان کو بڑا واضح حکم ارشاد فرمایا ہے۔ اب ہمارےذہنوں میں یہ سوال پیدا ہوتا  ہےکہ اللہ  کا ڈر(تقویٰ) اور اس ڈر پر مُوَاظبت (استقامت) کا حصول کیسے ہو؟ بنیادی بات  یہ ہےکہ جب انسان اپنے نفس کی مخالفت میں اس بات کا پختہ ارادہ کر لےکہ نفس کو گناہوں سے باز رکھے گانیز گناہوں کے ساتھ ساتھ ضرورت سے زائد حلال اشیاء کے استعمال سے بھی بچ کر رہے گا اور آنکھ، زبان  ، شرمگاہ اور دل الغرض تمام اَعضاء کے معاملے میں اللہ تعالیٰ سےڈرے گا تو ان شاء اللہ اسے وہ تقویٰ حاصل ہو جائے گا جس کا اہلِ ایمان سے مطالبہ کیا گیا ہے۔بنیادی اعضاء کا تقویٰانسانی جسم میں چند اَعضاء کو بڑی بنیادی اور اصولی حیثیت حاصل ہےمثلاًآنکھ، کان ، دل اور زبان وغیرہ، کیونکہ بالواسطہ یا بلا واسطہ کئی گناہوں کا اِرتکاب اِنہی اعضاء سے  ہوتا ہے۔ جب ان اعضاء کا تقویٰ حاصل ہو جائےتو امید ہے کہ تمام اعضاء تقویٰ کی صِفَت سے متّصِف ہو جائیں گے اور انسان صاحبانِ تقویٰ کی صف میں شامل ہو جائے گا۔اب ان بنیادی اعضاء کے تقویٰ کی کچھ تفصیل پیش کی جاتی ہے۔

آنکھ:بے شک آنکھ ہر فتنے اور آفت کے وقوع پذیر ہونے کا سبب بنتی ہے۔ آنکھ کے تقویٰ کے حصول کے بارے میں 2بنیادی اسلامی تعلیمات پیشِ خدمت ہیں:

(1)فرمانِ باری تعالیٰ ہے: ’’مسلمان مردوں کو حکم دو کہ اپنی نگاہیں کچھ نیچی رکھیں اور اپنی شرمگاہوں کی حفاظت کریں، یہ ان کے لئے زیادہ پاکیزہ ہے، بیشک اللہ ان کے کاموں سے خبردار ہے۔‘‘(پ18،النور:30) یہ حکمِ الہی مختصر ہے،مگر اختصار کے باوجود اس میں دو  نہایت خوبصورت معانی موجود ہیں۔ اوّل  یہ کہ اس میں ادب اور بہترین تہذیب سکھائی جا رہی ہےکہ مؤمنین کو چاہئےکہ وہ اپنی نگاہوں کو کچھ نیچا رکھیں۔ دوسرا معنیٰ یہ کہ اس آیت میں اِس چیز سے بھی خبر دار کیا جارہا ہے کہ ”یہ ان کے لئے بہت ستھرا ہے“ نیز نیکیوں کو بڑھانے اور زیادہ کرنے والا ہے۔ اور یہ بڑی بدیہی(واضح) سی بات ہے کہ جب انسان اپنی نگاہوں کو بے لگام چھوڑ دے اور بے پرواہ ہو کر ہر طرف نظر اٹھانے کا عادی ہو جائے تو اس چیز کا قوی اندیشہ ہےکہ وہ حرام کی طرف بھی نظر اٹھائے اور گناہ میں جا پڑے اور دل کو سیاہ کر بیٹھے۔ لہٰذا نگاہوں کو نیچا رکھنے میں ہی دلوں کی ستھرائی اور صفائی ہے۔

لطیف اشارہ:آنکھوں کے جھکا ہونے اور حیادار ہونے کو دل کی صفائی کا سبب قرار دیا گیا۔ پتا چلا کہ جب آنکھ بہکتی ہے تو اس کے نتیجے میں دل بھی بہکتا ہے، لہٰذا دل کی خرابی یا درستی آنکھ کے حیادار ہونے ،نہ ہونے پر موقوف ہے۔مروی ہےکہ”بندہ کبھی ایسی نظر اٹھاتا ہےکہ دل ایسا بگڑ جاتا ہے جیسے کھال بگڑ جاتی ہے،اب اُس(کھال) سے کبھی فائدہ نہیں اٹھایا جا سکتا۔“

(2)سیّدُالاتقیاء صلَّی اللہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم کا فرمانِ عالیشان ہے:عورت کے حُسن وجمال کی طرف نظر کرنا ابلیس کے زہرآلود تیروں میں سے ایک تیر ہے، تو جس نے اسے ترک کیا تو اللہ تعالیٰ اُسے عبادت کا ایسا مزہ چکھائے گا جو (مزہ) اسے خوش کر دے گا۔(نوادرالاصول، حدیث:1287) عبادت کی شیرینی اور مناجات کی لذّت سے درحقیقت اہلِ تقویٰ ہی واقف ہوتے ہیں۔ چونکہ آج کل تقویٰ کا فقدان ہےاس لئے عبادت میں لذّت اور سوز نہیں ہے۔مذکورہ حدیثِ مبارک میں اس نعمت کو پانے کامجرب نسخہ عطا کر دیا گیاہے لہٰذا جو شخص اپنی عبادت میں لُطف پانا چاہتا ہےوہ حدیثِ مبارک پر عمل کرے تو  یقیناً ایسی حلاوت پائے گا جو اس سے قبل اس نے کبھی محسوس نہ کی ہو گی۔ خلاصۂ کلام یہ ہے کہ تقویٰ جیسے نادِر خزانے کے حصول کےلئےاپنی آنکھوں کو حرام کی آلودگی سےبچانا لازمی ہے۔

کان:فحش اور فُضول گفتگو سننا دل میں وساوِس پیدا کرنے کامُوجِب ہےاور انہی وسوسوں   کے نتیجے میں ہمارے بدن میں اِضطراب، بےچینی اور عبادت میں دل نہ لگنے کی سنگین صورت ِحال پیدا ہوتی ہے۔ اِس کو دوسرے انداز میں یوں سمجھئےکہ کان میں پڑ کر دل میں اُترنے والی گفتگوپیٹ میں جانے والے کھانے کی طرح ہے بلکہ اس سے بڑھ کر ہےکہ گفتگو کی تاثیر کھانے کے مقابلے میں دیر پا یعنی زیادہ دیر باقی  رہتی ہےکیونکہ کھانا تو چَہَل قَدَمی اور نیند کے سبب ہضم ہو کر معدے سے خارج ہو جاتاہےمگر اس کے برعکس دل میں داخل ہونے والی گفتگو بعض اوقات پوری زندگی کے لئے سامِع(یعنی سننے والے) کے ذہن میں راسِخ اور مرتسِم(یعنی مضبوط اورنقش) ہو جاتی ہےجسے وہ بھول نہیں پاتا۔اگروہ نُقوش بُری باتوں پر مشتمل ہوں تو انسان کو عیب دار کرتے اور بُرے خیالات لانے کا سبب بنتے ہیں،لہٰذا تقویٰ کے حصول کے لئے کانوں کو بُری اور فضول باتوں سے بچانا اَزحد ضروری ہے۔

زبان:ایک صحابی رضی اللہ تعالٰی عنہ نے حضورِ انور صلَّی اللہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم کی بارگاہ میں حاضر ہو کر عرض کی: آپ مجھ پر سب سے زیادہ کس چیز کا خوف رکھتے ہیں؟آپ نے اپنی زبان اقدس پکڑ کر ارشاد فرمایا:”اِس(زبان) کا“۔ (ترمذی،ج 4،ص184، حدیث:2418) زبان ہی انسان کو ہلاکت کے دہانے تک پہنچا دیتی ہے اور یہی زبان انسانی کامیابی کا سبب بھی  ہے۔ جنت میں داخل ہونا ہو یا جہنم کا اِیندھن بننا ہو! اس زبان کا ہر دو طرح کےمعاملے میں نہایت کلِیدی کردار ہے۔ہم یہاں زبان کے متعلق چند مدنی پھول پیش کرتے ہیں تا کہ تقویٰ کے حصول میں زبان کے کردارکی اہمیت واضح ہو۔(1)تمام اعضاء کا دُرُست اور نادُرُست رہنا اسی زبان پر موقوف ہے چنانچہ مروی ہےکہ ”جب انسان صبح کرتا ہے تو تمام اعضاء زبان سے کہتے ہیں: ہم تجھے خدا کا واسطہ دیتے ہیں کہ تُو سیدھی رہناکیونکہ اگر تُو سیدھی رہی تو ہم سیدھے رہیں گے اور اگر تُو ٹیڑھی ہو گئی تو ہم بھی ٹیڑھے ہو جائیں گے۔“ (ترمذی،ج 4،ص183، حدیث:2415) (2)زبان کی حفاظت نہ کرنا اعمال کے ضِیاع(یعنی ضائع ہونے) کا سبب ہے  کیونکہ زبان کے استعمال میں بے احتیاطیاں لامحالہ (لازمی) گناہوں کی طرف لے جانے والی ہیں مثلاً غیبت وغیرہ اور گناہوں کا ارتکاب تقویٰ کے منافی ہے۔ مقولہ ہے کہ ”جو زیادہ بولتا ہے زیادہ غلَطیاں کرتا ہے۔“(3)زبان کی حفاظت سے عزت وشان برقرار رہتی ہے۔ ایک بزرگ کا قول ہے:اپنی زبان کو اتنا دراز مت کرو کہ تمہاری عزت وشان خراب ہو جائے۔(4)اُخروِی انجام کو یاد کر کے زبان کو تقویٰ کی عادت ڈالئے۔ حضور ِ اکرمصلَّی اللہتعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم نے ارشاد فرمایا :علماء اور طلبہ سے اپنی زبان کو روکے رکھواور اپنی زبان سے لوگوں کی آبروریزی (یعنی بے عزتی) نہ کرو ورنہ جہنَم کے کتے تمہیں پھاڑ ڈالیں گے۔(الترغیب والترھیب،ج 1،ص50، رقم:59)

اللہ تعالیٰ سے دعا ہے کہ ہمیں بھی متّقِین کے صدقے اہلِ تقویٰ میں سے بنائے اور سیّدالاتقیاء صلَّی اللہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم کے”پیچھے پیچھے“جنت میں داخلہ کی سعادت عطا فرمائے۔آمین

ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ

٭…مفتی محمد قاسم عطاری 

٭…دارالافتاءاہل سنت عالمی مدنی مرکز فیضان مدینہ باب المدینہ کراچی

Share

Articles

Comments


Security Code