باب : جنت اور دوزخ کی پیدائش

فتنوں کا بیان - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد 7

روایت ہے حضرت ابوہریرہ سے فرماتے ہیں فرمایا رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم نے کہ جنت اور دوزخ نے مناظرہ کیا ۱∞؎تو دوزخ بولی کہ میں غرور والوں جابروں سے خاص کی گئی ہوں۲؎جنت بولی کہ پھر میرا کیا حال ہے کہ مجھ میں صرف کمزور لوگ ان میں سے گرے پڑے سیدھے سادھے ہی داخل ہوں گے۳؎اللہ تعالٰی نے جنت سے فرمایا تو میری رحمت ہے تیرے ذریعے جس بندے پر چاہوں گارحم کروں گا۴؎اور دوزخ سے فرمایا تو میرا عذاب ہے تیرے ذریعہ جس بندے پر چاہوں گا عذاب کروں گا ۵؎تم میں سے ہر ایک کا بھرنا طے شدہ ہے۶؎لیکن آگ تو وہ نہ بھرے گا حتی کہ اللہ تعالٰی اپنا قدم رکھے گا۷؎تو کہے گی بس بس اس وقت بھرجاوے گی اور بعض بعض کی طرف سمٹ جاوے گی۸؎اللہ تعالٰی اپنی کسی مخلوق پر ظلم نہ کرے گا۹؎رہی جنت تو اللہ تعالٰی اس کے لیے ایک مخلوق پیدا کرے گا۱۰؎(مسلم،بخاری)

عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ -صلى اللَّه عليه وسلم-: "تَحَاجَّتِ الْجَنَّةُ وَالنَّارُ، فَقَالَتِ النَّارُ: أُوْثِرْتُ بِالْمُتَكَبِّرِينَ وَالْمُتَجَبِّرِينَ، وَقَالَتِ الْجَنَّةُ: فَمَا لِي لَا يَدْخُلُنِي إِلَّا ضُعَفَاءُ النَّاسِ وَسَقَطُهُمْ وَغِرَّتُهُمْ قَالَ اللَّهُ لِلْجَنَّةِ: إِنَّمَا أَنْتِ رَحْمَتِي أَرْحَمُ بِكِ مَنْ أَشَاءُ مِنْ عِبَادِي، وَقَالَ لِلنَّارِ: إِنَّمَا أَنْتِ عَذَابِي أُعَذِّبُ بِكِ مَنْ أَشَاءُ مِنْ عِبَادِي، وَلِكُلِّ وَاحِدَةٍ مِنْكُمَا مِلْؤُهَا، فَأَمَّا النَّارُ فَلَا تَمْتَلِئُ حَتَّى يَضَعَ اللَّهُ رِجْلَهُ تَقُولُ: قَطْ قَطْ قَطْ، فَهُنَالِكَ تَمْتَلِئُ وَيُزْوَى بَعْضُهَا إِلَى بَعْضٍ، فَلَا يَظْلِمُ اللَّهُ مِنْ خَلْقِهِ أَحَدًا، وَأَمَّا الْجَنَّةُ فإِنَّ اللَّهَ يُنْشِئُ لَهَا خَلْقًا مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ.

مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 5694 ، باب : جنت اور دوزخ کی پیدائش

روایت ہے حضرت انس رضی اللہ عنہ سے وہ نبی صلی اللہ علیہ و سلم سے راوی ہیں فرمایا دوزخ میں ڈالا جاتا رہے گا ۱∞؎اور وہ کہتی رہے گی کیا اور زیادتی بھی ہے۲؎حتی کہ اللہ تعالٰی اس میں اپنا قدم رکھ دے گا تب بعض بعض کی طرف سمٹ جاوے گا کہے گی تیری عزت و کرم کی قسم بس بس۳؎اور جنت میں بچی ہوئی جگہ رہے گی حتی کہ اللہ اس کے لیے ایک مخلوق پیدا فرمائے گا جنہیں جنت کے بچے ہوئے حصے میں رکھے گا ۴؎(مسلم،بخاری)اور حضرت انس رضی اللہ عنہ کی حدیث کہ جنت مشقتوں سے گھیر دی گئی،کتاب الرقاقمیں بیان کردی گئی۔

وَعَنْ أَنَسٍ عَنِ النَّبِيِّ -صلى اللَّه عليه وسلم- قَالَ: "لَا تَزَالُ جَهَنَّمُ يُلْقَى فِيهَا وَتَقُولُ: هَلْ مِنْ مَزِيدٍ؟ حَتَّى يَضَعَ رَبُّ العزَّةِ فِيهَا قَدَمَهُ فَيَنْزَوِيْ بَعْضُهَا إِلَى بَعْضٍ فَتَقُولُ: قَطْ قَطْ، بِعِزَّتِكَ وَكَرَمِكَ، وَلَا يَزَالُ فِي الْجَنَّةِ فَضْلٌ حَتَّى يُنْشِئَ اللَّهُ لَهَا خَلْقًا فَيُسْكِنُهُمْ فَضْلَ الْجَنَّةِ". مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ. [خ: 4848، م: 2848].
وَذُكِرَ حَدِيثُ أَنَسٍ: "حُفَّتِ الجَنَّةُ بِالْمَكَارِهِ" فِي "كِتَاب الرِّقَاقِ".

مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 5695 ، باب : جنت اور دوزخ کی پیدائش

روایت ہے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے وہ نبی صلی اللہ علیہ و سلم سے راوی فرمایا جب اللہ تعالٰی نے جنت پیدا کی تو حضرت جبریل علیہ السلام سے فرمایا کہ جاؤ اسے دیکھو وہ گئے اسے اور جو نعمتیں اس میں جنتیوں کے لیے اللہ نے تیار کی ہیں انہیں دیکھا پھر آئے ۱∞؎عرض کیا یا رب تیری عزت کی قسم نہ سنے گا اسے کوئی مگر اس میں داخل ہوگا۲؎پھر رب نے اسے مشقتوں سے گھیر دیا۳؎پھر فرمایا اے جبریل جاؤ اسے دیکھ کر آؤ،فرمایا تو وہ گئے اسے دیکھا۴؎پھر آئے عرض کیا یارب تیری عزت کی قسم مجھے خطرہ ہے کہ جنت میں کوئی داخل نہ ہوسکے گا ۵؎فرمایا پھر جب اللہ نے آگ پیدا کی تو فرمایا اے جبرئیل جاؤ اسے دیکھو، فرمایا وہ گئے اسے دیکھا پھر آئے ۶؎عرض کیا یارب تیری عزت کی قسم اسے کوئی نہ سنے گا کہ پھر اس میں داخل بھی ہو۷؎رب نے اسے لذتوں سے گھیر دیا ۸؎پھر فرمایا اے جبریل اسے دیکھو فرمایا وہ گئے اسے دیکھا عرض کیا یارب تیری عزت کی قسم مجھے خطرہ ہے کہ اس میں کوئی داخل ہوئے بغیر نہ بچے گا ۹؎(ترمذی،ابوداؤ د،نسائی)

عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ عَنِ النَّبِيِّ -صلى اللَّه عليه وسلم- قَالَ: "لَمَّا خَلَقَ اللَّهُ الْجَنَّةَ قَالَ لِجبْرِيلَ: اذْهَبْ فَانْظُرْ إِلَيْهَا، فَذَهَبَ فَنَظَرَ إِلَيْهَا وَإِلَى مَا أَعَدَّ اللَّهُ لأَهْلِهَا فِيهَا، ثُمَّ جَاءَ فَقَالَ: أَيْ رَبِّ! وَعِزَّتِكَ لَا يَسْمَعُ بِهَا أَحَدٌ إِلَّا دَخَلَهَا، ثُمَّ حَفَّهَا بِالْمَكَارِهِ ثُمَّ قَالَ: يَا جِبْرِيلُ! اذْهَبْ فَانْظُرْ إِلَيْهَا، قَالَ: فَذَهَبَ فَنَظَرَ إِلَيْهَا، ثُمَّ جَاءَ فَقَالَ: أَيْ رَبِّ! وَعِزَّتِكَ لَقَدْ خَشِيتُ أَنْ لَا يَدْخُلَهَا أَحَدٌ". قَالَ: "فَلَمَّا خَلَقَ اللَّهُ النَّارَ قَالَ: يَا جِبْرِيلُ! اذْهَبْ فَانْظُرْ إِلَيْهَا فَذَهَبَ فَنَظَرَ إِلَيْهَا فَقَالَ: أَيْ رَبِّ! وَعِزَّتِكَ لَا يَسْمَعُ بِهَا أَحَدٌ فَيَدْخُلُهَا، فَحَفَّهَا بِالشَّهَوَاتِ، ثُمَّ قَالَ: يَا جِبْرِيلُ اذْهَبْ فَانْظُرْ إِلَيْهَا، قَالَ: فَذَهَبَ فَنَظَرَ إِلَيْهَا فَقَالَ: أَيْ رَبِّ! وَعِزَّتِكَ لَقَدْ خَشِيتُ أَنْ لَا يَبْقَى أَحَدٌ إِلَّا دَخَلَهَا". رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ وَأَبُو دَاوُدَ وَالنَّسَائِيُّ.

مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 5696 ، باب : جنت اور دوزخ کی پیدائش

روایت ہے حضرت انس سے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم نے ایک دن ہم کو نماز پڑھائی پھرمنبر پر تشریف فرما ہوئے ۱∞؎تو اپنے ہاتھ سے مسجد کے قبلہ کی طرف اشارہ کیا،فرمایا ابھی جب میں نے تم کو نماز پڑھائی تو جنت و دوزخ اس دیوار کی جانب میں اپنی شکل میں دکھائی گئیں ۲؎میں نے آج کے دن کی طرح خیروشر کا جامع نہیں دیکھا ۳؎(بخاری)

عَنْ أَنَسٍ: أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ -صلى اللَّه عليه وسلم- صَلَّى لَنَا يَوْمًا الصَّلَاةَ، ثُمَّ رَقِيَ الْمِنْبَرَ فَأَشَارَ بِيَدِهِ قِبَلَ قِبْلَةِ الْمَسْجِدِ، فَقَالَ: "قَدْ أُرِيتُ الآنَ مُذْ صَلَّيْتُ لَكُمُ الصَّلَاةَ الْجَنَّةَ وَالنَّارَ مُمَثَّلَتَيْنِ فِي قِبَلِ هَذَا الْجِدَارِ، فَلَمْ أَرَ كَالْيَوْمِ فِي الْخَيْرِ وَالشَّرِّ". رَوَاهُ البُخَارِيُّ.

مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 5697 ، باب : جنت اور دوزخ کی پیدائش