- ہوم
- کتابیں
- مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح
- جلد 6
- اچھی باتوں کا بیان
- باب:وعدے کاباب
باب:وعدے کاباب
اچھی باتوں کا بیان - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد 6
روایت ہے جابر سے فرماتے ہیں کہ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے وفات پائی اور حضرت ابوبکر کے پاس علاء بن حضرمی کے پاس سے مال آیا ۱∞؎تو جناب ابوبکر نے اعلان فرمایا کہ جس کا نبی صلی اللہ علیہ وسلم پر کچھ قرض ہو یا اس سے حضور کا کوئی وعدہ ہو تو ہمارے پاس آئے ۲؎حضرت جابر فرماتے ہیں کہ میں نے کہا کہ مجھ سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے وعدہ فرمایا تھا کہ مجھے اتنا اور اتنا اور اتنا دیں گے ۳؎آپ نے اپنے دونوں ہاتھ پھیلائے تھے۴؎حضرت جابر کہتے ہیں کہ جناب صدیق نے مجھے ایک لپ بھردیا ۵؎میں نے گنا تو وہ پانچ سو تھے فرمایا اس کے دوگنے اور لے لو ۶؎(مسلم،بخاری)
عَنْ جابرٍ قَالَ: لَمَّا مَاتَ رَسُولُ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَجَاء أَبَابَكْرٍ مَالٌ مِنْ قِبَلِ الْعَلَاءِ بْنِ الْحَضْرَمِيِّ. فَقَالَ أَبُوْ بَكْرٍ: مَنْ كَانَ لَهٗ عَلَی النَّبِيِّ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ دَيْنٌ أَوْ كَانَتْ لَهٗ قِبَلَهٗ عِدَةٌ فَلْيَأْتِنَا. قَالَ جَابِرٌ: فَقُلْتُ: وَعَدَنِي رَسُولُ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ يُعْطِيَنِي هٰكَذَا وَهٰكَذَا وَهٰكَذَا. فَبَسَطَ يَدَيْهِ ثَلَاثَ مَرَّاتٍ. قَالَ جَابِرٌ: فَحَثَی لِي حَثْيَةً فَعَدَدْتُهَا فَإِذَا هِيَ خَمْسُمِائَةٍ وَقَالَ: خُذْ مِثْلَيْهَا. (مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ)
مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 4878 ، باب:وعدے کاباب
روایت ہے حضرت ابو جحیفہ سے ۱∞؎فرماتے ہیں میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو سفید رنگت والا دیکھا کہ بڑھاپا آگیا تھا۲؎اور حضرت حسن بن علی آپ کی ہم شکل تھے۳؎اور ہمارے لیے تیرہ اونٹنیوں کا حکم جاری فرمایا ہم قبضہ کرنے گئے تو ہم کو آپکی وفات کی خبرپہنچ گئی۴؎لوگوں نے ہم کو کچھ نہ دیا ۵؎پھر جب حضرت ابوبکر قائم مقام ہوئے تو فرمایا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس جس کا کوئی وعدہ ہو وہ آئے ۶؎میں آپ کے طرف گیا میں نے آپ کو یہ خبر دی تو آپ نے ہمارے لیے ان کا حکم دیا ۷؎(ترمذی)
عَنْ أَبِي جُحَيْفَةَ قَالَ: رَأَيْتُ رَسُولَ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَبْيَضَ قَدْ شَابَ وَكَانَ الْحَسَنُ بْنُ عَلِيٍّ يُشْبِهُهٗ وَأَمَرَ لَنَا بِثَلَاثَةَ عَشَرَ قَلُوصًا فَذَهَبْنَا نَقْبِضُهَا فَأَتَانَا مَوْتُهٗ فَلَمْ يُعْطُونَا شَيْئًا. فَلَمَّا قَامَ أَبُو بَكْرٍ قَالَ: مَنْ كَانَتْ لَهٗ عِنْدَ رَسُولِ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عِدَةٌ فَلْيَجِئْ فَقُمْتُ إِلَيْهِ فَأَخْبَرْتُهٗ فَأَمَرَ لَنَا بِهَا. رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ
مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 4879 ، باب:وعدے کاباب
روایت ہے حضرت عبداللہ ابن ابی الحسماء سے ۱∞؎فرماتے ہیں کہ میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی نبوت کے ظہور سے پہلے حضور سے خرید و فروخت کی ۲؎اورآپ کا کچھ بقایا رہ گیا میں نے وعدہ کیا کہ میں اسی جگہ وہ چیز لاتا ہوں پھر میں بھول گیا تین دن کے بعد مجھے یاد آیا تو حضور انور اس جگہ تھے ۳؎فرمایا کہ تم نے مجھ پر مشقت ڈال دی میں تین دن سے یہاں ہی تمہارا انتظار دیکھ رہا ہوں ۴؎(ابوداؤد)
وَعَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ أَبِي الْحَسْمَاءِ قَالَ: بَايَعْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَبْلَ أَنْ يُبْعَثَ وَبَقِيَتْ لَهٗ بَقِيَّةٌ فَوَعَدْتُهٗ أَنْ آتِيَهٗ بِهَا فِي مَكَانِهٖ فَنَسِيْتُ فَذَكَرْتُ بَعْدَ ثَلَاثٍ فَإِذَا هُوَ فِي مَكَانِهٖ فَقَالَ: لَقَدْ شَقَقْتَ عَلَيَّ أَنَا هَهُنَا مُنْذُ ثَلَاثٍ أَنْتَظِرُكَ . رَوَاهُ أَبُوْ دَاوُدَ
مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 4880 ، باب:وعدے کاباب
روایت ہے حضرت زید ابن ارقم سے وہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے راوی جب کوئی شخص اپنے بھائی سے وعدہ کرے اور اس کی نیت پورا کرنے کی ہو پھر پورا نہ کرسکے وعدہ پر نہ آسکے تو ا س پر گناہ نہیں ۱∞؎(ابوداؤد ،ترمذی)
وَعَنْ زَيْدِ بْنِ أَرْقَمْ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: إِذَا وَعَدَ الرَّجُلُ أَخَاهُ وَمِنْ نِيَّتِهٖ أَنْ يَّفِيَ لَهٗ فَلَمْ يَفِ وَلَمْ يَجِئْ لِلْمِيعَادِ فَلَا إِثْمَ عَلَيْهِ . رَوَاهُ أَبُوْدَاوُدَ وَالتِّرْمِذِيُّ
مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 4881 ، باب:وعدے کاباب
روایت ہے حضرت عبداللہ بن عامر سے ۱∞؎فرماتے ہیں مجھے میری ماں نے ایک دن بلایا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہمارے گھر تشریف فرما تھے وہ بولیں آتجھے دوں گی۲؎ان سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تم انہیں کیا دینا چاہتی ہو۳؎بولیں میں نے اسے کھجوریں دینے کا ارادہ کیا تب ان سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا آگاہ رہو اگر تم اسے کچھ نہ دیتیں تو تم پر جھوٹ لکھا جاتا ۴؎(ابوداؤد،بیہقی شعب الایمان)
وَعَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ عَامِرٍ قَالَ: دَعَتْنِي أُمِّي يَوْمًا وَرَسُولُ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَاعِدٌ فِي بَيْتِنَا فَقَالَتْ: هَا تَعَالَ أُعْطِيكَ. فَقَالَ لَهَا رَسُولُ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: مَا أَرَدْتِ أَنْ تُعْطِيْهِ؟ قَالَتْ: أَرَدْتُّ أَنْ أُعْطِيَهٗ تَمَرًا. فَقَالَ رَسُولُ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: أَمَا إِنَّكِ لَوْ لَمْ تُعْطِيْهِ شَيْئًا كُتِبَتْ عَلَيْكِ كَذِبَةٌ . رَوَاهُ أَبُوْدَاوُدَ وَالْبَيْهَقِيُّ فِي شُعَبِ الإِيمَانِ
مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 4882 ، باب:وعدے کاباب
روایت ہے حضرت زید ابن ارقم سے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جو کسی شخص سے وعدہ کرے پھر ان میں سے ایک نماز کے وقت تک نہ آئے ۱∞؎اور جانے والا نماز کے لیے چلا جاوے تو اس پر گناہ نہیں ۲؎(رزین)
عَنْ زَيْدِ بْنِ أَرْقَمَ أَنَّ رَسُولَ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: مَنْ وَعَدَ رَجُلًا فَلَمْ يَأْتِ أَحَدُهُمَا إِلٰى وَقْتِ الصَّلَاةِ وَذَهَبَ الَّذِيْ جَآءَ لِيُصَلِّيَ فَلَا إِثمَ عَلَيْهِ . رَوَاهُ رَزِيْنٌ
مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 4883 ، باب:وعدے کاباب