- ہوم
- کتابیں
- مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح
- جلد 5
- نکاح کا بیان
- باب:استبراء کا بیان
باب:استبراء کا بیان
نکاح کا بیان - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد 5
روایت ہے حضرت ابوالدرداء سے فرماتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و سلم ایک حاملہ عورت پر گزرے ۱؎تو اس کے متعلق دریافت کیا ۲؎لوگوں نے کہا کہ فلاں کی لونڈی ہے ۳؎فرمایا کیا وہ اس سے صحبت کرتا ہے ؟ لوگ بولے ہاں ۴؎فرمایا میں نے ارادہ کیا کہ اس پر ایسی لعنت کروں جو اس کے ساتھ قبر میں جائے ۵؎اس سے خدمت کیسے لے سکتا ہے حالانکہ وہ اسے حلال نہیں بلکہ اسے وارث کیسے کرسکتا ہے اور وہ اسے حلال نہیں ۶؎(مسلم)
عَنْ أَبِي الدَّرْدَاءِ قَالَ: مَرَّ النَّبِيُّ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِامْرَأَةٍ مُجِحٍّ، فَسَأَلَ عَنْهَا فَقَالُوا: أَمَةٌ لِفُلَانٍ قَالَ: "أَيُلِمُّ بِهَا؟ " قَالُوا: نَعَمْ قَالَ: "لَقَدْ هَمَمْتُ أَنْ أَلْعَنَهُ لَعْنًا يَدْخُلُ مَعَهُ فِي قَبْرِهِ، كَيْفَ يَسْتَخْدِمُهُ وَهُوَ لَا يَحِلُّ لَهُ؟ أَمْ كَيْفَ يُوَرِّثُهُ وَهُوَ لَا يَحِلُّ لَهُ؟ ". رَوَاهُ مُسْلِمٌ.
مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 3337 ، باب:استبراء کا بیان
روایت ہے حضرت ابو سعید خدری سے وہ اسے نبی کریم صلی اللہ علیہ و سلم تک مرفوع کرتے ہیں کہ حضور نے اوطاس کی لونڈیوں کے متعلق فرمایا ۱؎کہ کسی حاملہ سے وطی نہ کی جائے حتی کہ حمل جن دے اور نہ غیر حاملہ سے صحبت کی جائے حتی کہ اسے حیض آجائے ۲؎(احمد،ابوداؤد،دارمی)
عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ رَفَعَهُ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ فِي سَبَايَا أَوْطَاسٍ: "لَا تُوطَأُ حَامِلٌ حَتَّى تَضَعَ، وَلَا غَيْرُ ذَاتِ حَمْلٍ حَتَّى تَحِيضَ حَيْضَةً". رَوَاهُ أَحْمَدُ وَأَبُو دَاوُدَ وَالدَّارِمِيُّ.
مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 3338 ، باب:استبراء کا بیان
روایت ہے حضرت رویفع ابن ثابت انصاری سے ۱؎فرماتے ہیں فرمایا رسول اﷲصلی اللہ علیہ و سلم نے حنین کے دن فرمایا ۲؎کہ کسی اس شخص کو جو اﷲاور قیامت کے دن پر ایمان رکھتا ہو یہ حلال نہیں کہ اپنے پانی سے دوسرے کا کھیت سینچے یعنی حاملہ سے صحبت کرنا۳؎اور جو شخص اﷲتعالٰی اور قیامت پر ایمان رکھتا ہو اسے یہ حلال نہیں کہ کسی قیدی عورت سے بغیر استبراء کئے صحبت کرے ۴؎اور جو شخص اﷲتعالٰی اور قیامت پر ایمان رکھتا ہو، اسے یہ حلال نہیں کہ تقسیم سے پہلے غنیمت فروخت کرے ۵؎(ابو داؤد)ترمذی نےغیرہتک روایت کی۔
وَعَنْ رُوَيْفِعِ بْنِ ثَابِتٍ الأَنْصَارِيِّ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْم حُنَيْنٍ: "لَا يَحِلُّ لِامْرِئٍ يُؤْمِنُ بِاللّٰهِ وَالْيَوْمِ الآخِرِ أَنْ يَسْقِيَ مَاءَهُ زَرْعَ غَيْرِهِ" يَعْنِي إِتْيَانَ الْحَبَالَى، "وَلَا يَحِلُّ لِامْرِئٍ يُؤْمِنُ بِاللّٰهِ وَالْيَوْمِ الآخِرِ أَنْ يَقَعَ عَلَى امْرَأَةٍ مِنَ السَّبْي حَتَّى يَسْتَبْرِئَهَا، وَلَا يَحِلُّ لِامْرِئٍ يُؤْمِنُ بِاللّٰهِ وَالْيَوْمِ الآخِرِ أَنْ يَبِيعَ مَغْنَمًا حَتَى يُقَسَّمَ". رَوَاهُ أَبُو دَاوُدَ، وَرَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ إِلَى قَوْله: "زَرْعَ غَيْرِهِ".
مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 3339 ، باب:استبراء کا بیان
روایت ہے حضرت مالک سے فرماتے ہیں کہ مجھے خبر پہنچی ہے ۱؎کہ رسول اﷲصلی اللہ علیہ و سلم لونڈی سے استبراء کرنے کا حکم دیتے تھے ایک حیض سے اگر وہ حائضہ میں سے ہو اور تین مہینوں سے اگر ان میں سے ہو جنہیں حیض نہیں آتا۲؎اور منع فرماتے تھے دوسرے کے پانی سے سیرابی سے ۳؎
عَن مَالِكٍ قَالَ: بَلَغَنِي أَنَّ رَسُولَ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يَأْمُرُ بِاسْتِبْرَاءِ الإِمَاءِ بِحَيْضَةٍ إِنْ كَانَتْ مِمَّنْ تَحِيضُ، وَثَلَاثَةِ أَشْهُرٍ إِنْ كَانَت مِمَّن لَا تَحِيضُ، وَيَنْهَى عَنْ سَقْيِ مَاءِ الْغَيْرِ.
مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 3340 ، باب:استبراء کا بیان
روایت ہے حضرت ابن عمر سے انہوں نے فرمایا کہ جب وہ لونڈی جس سے وطی کی جاتی تھی ہبہ کی جائے یا فروخت کی جائے یا آزاد کی جائے تو اس کا استبراء رحم ایک حیض سے کرلیا جائے اور کنواری کا استبراء نہ کیا جائے ۱؎(رزین)
وَعَنِ ابْنِ عُمَرَ: أَنَّهُ قَالَ: إِذَا وُهِبَتْ الْوَلِيدَةُ الَّتِي تُوطَأُ، أَوْ بِيعَتْ، أَوْ أُعْتِقَتْ فَلْتَسْتَبْرِئْ رَحِمَهَا بِحَيْضَةٍ وَلَا تُسْتَبْرَأُ الْعَذْرَاءُ،رَوَاهُمَا رَزِينٌ.
مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 3341 ، باب:استبراء کا بیان