باب: محدود کو بددعا نہ کی جائے

مقررہ سزاؤں کا بیان - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد 5

روایت ہے حضرت عمر ابن خطاب سے کہ ایک شخص جس کا نام عبدلقب حمار تھا ۱؎وہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و سلم کو ہنسایا کرتے تھے ۲؎اور نبی کریم صلی اللہ علیہ و سلم نے انہیں شراب کے بارے میں کوڑے لگائے تھے ۳؎انہیں ایک دن لایا گیا حضور نے حکم دیا تو انہیں کوڑے لگائے گئے تو قوم سے ایک شخص بولا خدایا اس پر لعنت کر کتنا زیادہ اسے لایا جاتا ہے ۴؎تو نبی کریم صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا کہ ان پر لعنت نہ کرو ۵؎خدا کی قسم جہاں تک میں جانتا ہوں یہرسول سے محبت کرتا ہے ۶؎(بخاری)

عَنْ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ: أَنَّ رَجُلًا اِسْمُهٗ عَبْدُ اللّٰهِ يُلَقَّبُ حِمَارًا كَانَ يُضْحِكُ النَّبِيَّ -صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَكَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَدْ جَلَدَهٗ فِي الشَّرَابِ، فَأُتِيَ بِهٖ يَوْمًا، فَأَمَرَ بِهٖ فَجُلِدَ، فَقَالَ رَجُل مِنَ الْقَوْمِ: اَللّٰهُمَّ الْعَنْهُ مَا أَكْثَرَ مَا يُؤْتٰى بِهٖ فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:"لَا تَلْعَنُوْهُ فَوَاللّٰهِ مَا عَلِمْتُ أَنَّهٗ يُحِبُّ اللّٰهَ ورَسُوْلَهٗ". رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ.

مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 3625 ، باب: محدود کو بددعا نہ کی جائے

روایت ہے حضرت ابوہریرہ سے فرماتے ہیں کہ ایک شخص نبی کریم صلی اللہ علیہ و سلم کے پاس لایا گیا جس نے شراب پی لی تو فرمایا اسے مارو تو ہم میں سے بعض نے اپنے ہاتھ سے مارا بعض نے اپنے جوتے سے اور بعض نے اپنے کپڑے سے پھر جب فارغ ہوئے تو بعض نے کہا کہ تجھےرسوا کرے تو فرمایا یوں نہ کہو اور اس پر شیطان کو مدد نہ دو ۱؎(بخاری)

وَعَنْ أَبِيْ هُرَيْرَةَ قَالَ: أُتِيَ النَّبِيُّ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِرَجُلٍ قَدْ شَرِبَ فَقَالَ: "اضْرِبُوْهُ" فَمِنَّا الضَّارِبُ بِيَدِهٖ، وَالضَّارِبُ بِنَعْلِهٖ، وَالضَّارِبُ بِثَوْبِهٖ، فَلَمَّا انْصَرَفَ قَالَ بَعْضُ الْقَوْمِ: أَخْزَاكَ اللّٰهُ قَالَ: "لَا تَقُوْلُوْا هٰكَذَا، لَا تُعِيْنُوْا عَلَيْهِ الشَّيْطَانَ". رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ.

مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 3626 ، باب: محدود کو بددعا نہ کی جائے

روایت ہے حضرت ابوہریرہ سے فرماتے ہیں کہ اسلمی ۱؎نبی کریم صلی اللہ علیہ و سلم کی خدمت میں حاضر ہوئے تو انہوں نے اپنی ذات پر چار بارگواہی دی کہ انہوں نے ایک عورت سے حرام کیا ۲؎اس پر ہر دفعہ ان سے حضور منہ پھیرتے رہے۳؎پانچویں بار میں متوجہ ہوئے تو فرمایا کہ کیا تو نے اس سے صحبت کی ۴؎بولے ہاں فرمایا حتی کہ تیرا یہ اس عورت کی اس میں غائب ہوگیا ۵؎بولے ہاں فرمایا جیسے سلائی سرمہ دانی میں ۶؎اور رسی کنویں میں غائب ہوجاتی ہے ۷؎بولے ہاں فرمایا کیا تو جانتا ہے کہ زنا کیا ہے ۸؎فرمایا ہاں میں نے اس سے وہ کام حرام کیا ہے جو خاوند اپنی بیوی سے حلال کرتا ہے ۹؎فرمایا تم اس سے چاہتے کیا ہو عرض کیا یہ چاہتا ہوں کہ آپ مجھے پاک فرمادیں ۱۰؎تب آپ نے حکم دیا وہ رجم کیے گئے ۱۱؎پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ و سلم نے اپنے صحابہ میں سے دو شخصوں کو سنا ان میں سے ایک اپنے ساتھی سے کہہ رہا تھا اسے تو دیکھو جس کینے پردہ پوشی فرمائی تھی مگر اس نے اپنے کو نہ چھوڑا حتی کہ کتے کی سنگساری کی طرح رجم کیا گیا ۱۲؎حضور انور اولًا دونوں سے خاموش رہے پھر گھڑی بھر چلے حتی کہ مردار گدھے پرگزرے جو ٹانگ اٹھائے تھا۱۳؎تو فرمایا فلاں فلاں کہاں ہیں وہ بولے یارسولہم یہ ہیں تو فرمایا کہ اترو اور اس مردار گدھے میں سے کھاؤ ۱۴؎انہوں نے عرض کیا یانبیاسے کون کھاتا ہے ۱۵؎فرمایا کہ تم نے جو اپنے بھائی کی آبرو ریزی ابھی کی وہ اس میں سے کھالینے سے زیادہ بری ہے۱۶؎اس کی قسم جس کے قبضہ میں میری جان ہے وہ اب جنت کی نہروں میں غوطے لگارہا ہے ۱۷؎(ابوداؤد)

عَنْ أَبِيْ هُرَيْرَةَ قَالَ: جَاءَ الأَسْلَمِيُّ إِلَى نَبِيِّ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَشَهِدَ عَلٰى نَفْسِهٖ أَنَّهٗ أَصَابَ امْرَأَةً حَرَامًا أَرْبَعَ مَرَّاتٍ، كُلَّ ذٰلِكَ يُعْرِضُ عَنْهُ، فَأَقْبَلَ فِي الْخَامِسَةِ فَقَالَ: "أَنِكْتَهَا؟ " قَالَ: نَعَمْ قَالَ: "حتّٰى غَابَ ذٰلِكَ مِنْكَ فِيْ ذٰلِكَ مِنْهَا؟ " قَالَ: نَعَمْ قَالَ: "كَمَا يَغِيْبُ الْمِرْوَدُ فِي الْمُكْحُلَةِ وَالرِّشَاءُ فِي الْبِئْرِ؟ " قَالَ: نَعَمْ قَالَ: "هَلْ تَدْرِيْ مَا الزِّنَا؟ " قَالَ: نَعَمْ، أَتَيْتُ مِنْهَا حَرَامًا مَا يَأْتِي الرَّجُلُ مِنْ أَهْلِهٖ حَلَالًا، قَالَ: "فَمَا تُرِيْدُ بِهٰذَا الْقَوْلِ؟ " قَالَ: أُرِيْدُ أَنْ تُطَهِّرَنِيْ، فَأَمَرَ بِهٖ فَرُجِمَ، فَسَمِعَ نَبِيُّ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَجُلَيْنِ مِنْ أَصْحَابِهٖ يَقُوْلُ أَحَدُهُمَا لِصَاحِبِهٖ: اُنْظُرْ إِلٰى هٰذَا الَّذِيْ سَتَرَ اللّٰهُ عَلَيْهِ، فَلَمْ تَدَعْهُ نَفْسُهٗ حتّٰى رُجِمَ رَجْمَ الْكَلْبِ، فَسَكَتَ عَنْهُمَا، ثُمَّ سَارَ سَاعَةً حتّٰى مَرَّ يِجِيْفَةِ حِمَارٍ شَائِلٍ بِرِجْلِهٖ، فَقَالَ: "أَيْنَ فُلَانٌ وَفُلَانٌ؟ " فَقَالَا: نَحْنُ ذَانِ يَا رَسُوْلَ اللّٰهِ -صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ! فَقَالَ: "انْزِلَا فَكُلَا مِنْ جِيْفَةِ هٰذَا الْحِمَارِ"، فَقَالَا: يَا نَبِيَّ اللّٰهِ! مَنْ یَأكُلُ مِنْ هٰذَا؟ قَالَ: "فَمَا نِلْتُمَا مِنْ عِرْضِ أَخِيْكُمَا آنِفًا أَشَدُّ مِنْ أَكْلٍ مِنْهُ، وَالَّذِيْ نَفْسِيْ بِيَدِهٖ إِنَّهُ الآنَ لَفِيْ أَنْهَارِ الْجَنَّةِ يَنْغَمِسُ فِيْهَا". رَوَاهُ أَبُوْ دَاوُدَ.

مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 3627 ، باب: محدود کو بددعا نہ کی جائے

روایت ہے حضرت خزیمہ ابن ثابت سے ۱؎فرماتے ہیں فرمایا رسولصلی اللہ علیہ و سلم نے کہ جو گناہ کو پہنچے اس پر اس گناہ کی سزا قائم کردی جائے تو وہ سزا اس کا کفارہ ہے ۲؎(شرح سنہ)

وَعَنْ خُزَيْمَةَ بْنِ ثَابِتٍ قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: "مَنْ أَصَابَ ذَنْبًا أُقِيْمَ عَلَيْهِ حَدُّ ذٰلِكَ الذَّنْبِ فَهُوَ كفَّارتُهٗ". رَوَاهُ فِيْ شَرْحِ السُّنَّةِ.

مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 3628 ، باب: محدود کو بددعا نہ کی جائے

روایت ہے حضرت علی سے وہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و سلم سے راوی فرماتے ہیں جو سزا کو پہنچا ۱؎پھر دنیا میں اسے سزا دے دی گئی ۲؎توتعالٰی اس سے عادل تر ہے کہ اپنے بندے پر آخرت میں سزا مکرر فرمادے ۳؎اور جو سزا کا مستحق ہوا پھرنے اس کی پردہ پوشی فرمالی ۴؎اور اسے معافی دے دی توکریم تر ہے اس سے کہ اس چیز کو لوٹائے جس سے معافی دے چکا۵؎(ترمذی، ابن ماجہ)اور ترمذی نے فرمایا یہ حدیث غریب ہے۔

وَعَنْ عَلِيٍّ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: مَنْ أَصَابَ حَدًّا، فَعُجِّلَ عُقُوْبتَهٗ فِي الدُّنْيَا، فَاللّٰهُ أَعْدَلُ مِنْ أَنْ يُثَنِّيَ عَلٰى عَبْدِهِ الْعُقُوْبَةَ فِي الآخِرَةِ، وَمَنْ أَصَابَ حَدًّا فَسَتَرَهُ اللّٰهُ عَلَيْهِ وَعَفَا عَنْهُ فَاللّٰهُ أَكْرَمُ مِنْ أَنْ يَعُوْدَ فِيْ شَيْءٍ قَدْ عَفَا عَنْهُ". رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ وَابْنُ مَاجَهْ، وَقَالَ التِّرْمِذِيُّ: هٰذَا حَدِيْثٌ غَرِيْبٌ.

مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 3629 ، باب: محدود کو بددعا نہ کی جائے