باب:جزیرہ عرب سے یہودیوں کے نکالنے کا بیان

جہاد کا بیان - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد 5

روایت ہے حضرت ابوہریرہ سے فرماتے ہیں کہ جب ہم نبی صلی اللہ علیہ و سلم کی مسجد میں تھے کہ حضور نے فرمایا یہود کی طرف چلو ۱؎چنانچہ ہم حضور کے ساتھ چلے حتی کہ ہم ان کے مدرسہ میں پہنچے تو ۲؎نبی کریم صلی اللہ علیہ و سلم نے قیام فرماکر فرمایا اے یہود کی جماعت اسلام قبول کرلو سلامت رہو گے ۳؎جان رکھو کہ زمین اللہ رسول کی ہے۴؎اور میں ارادہ کررہا ہوں کہ تم کو اس زمین سے جلا وطن کردوں ۵؎تو تم میں سے جو اپنا کچھ مال پائے تو اسے فروخت کردے ۶؎(مسلم،بخاری)

عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ: بَيْنَا نَحْنُ فِي الْمَسْجِدِ النبی ، خَرَجَ النَّبِيُّ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ: "انْطَلِقُوْا إِلَى يَهُوْدَ"، فَخَرَجْنَا مَعَهٗ حتّٰى جِئْنَا بَيْتَ الْمِدْرَاسِ فَقَامَ النَّبِيِّ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ: "يَا مَعْشَرَ يَهُوْدَ أَسْلِمُوْا تَسْلَمُوْا، اِعْلَمُوْا أَنَّ الأَرْضَ للّٰهِ وَلِرَسُوْلهِ،وَأَنِّي أُرِيدُ أَنْ أُجْلِيَكُمْ مِنْ هٰذِهِ الأَرْضِ، فَمَنْ وَجَدَ مِنْكُمْ بِمَالِهٖ شَيْئًا فَلْيَبِعْهُ". مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ.

مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 4050 ، باب:جزیرہ عرب سے یہودیوں کے نکالنے کا بیان

روایت ہے حضرت ابن عمر سے فرماتے ہیں کہ جناب عمر خطبہ فرمانے کھڑے ہوئے تو فرمایا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم نے خیبر کے یہود سے ان کے مالوں پر معاملہ طے کیا تھا اور فرمایا تھا جب تک اللہ تم کو برقرار رکھے ہم تم کو برقرار رکھیں گے ۱؎میں ان کی جلاوطنی مناسب سمجھتا ہوں ۲؎جب حضرت عمر نے اس کا پورا ارادہ کرلیا تو بنی ابوحقیق کا ایک شخص آیا۳؎بولا اے امیر المؤمنین آپ تو ہم کو نکال رہے ہیں حالانکہ حضور نے ہم کو برقرار رکھا تھا اور ہم سے مالوں پر معاملہ فرمایا تھا تو حضرت عمر نے فرمایا کہ کیا تو سمجھتا ہے کہ میں حضور صلی اللہ علیہ و سلم کا یہ فرمان بھول گیا کہ تیرا کیا حال ہوگا جب تو خیبر سے نکالا جائے گا کہ تجھ کو تیری اونٹنیاں رات بہ رات لیے پھرتی رہیں گی۴؎وہ بولا یہ تو ابوالقاسم کا تمسخر تھا تو آپ نے فرمایا اے اللہ کے دشمن تو جھوٹا ہے ۵؎چنانچہ ان کو نکال دیا اور ان کو ان کے جو کچھ پھل،مال،اونٹ،سامان،رسیاں وغیرہ تھیں ان کی قیمت دے دی ۶؎(بخاری)

وَعَنِ ابْنِ عُمَرَ قَالَ: قَامَ عُمَرُ خَطِيبًا فَقَالَ: إِنَّ رَسُوْلَ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ عَامَلَ يَهُوْدَ خَيْبَرَ عَلٰى أَمْوَالِهِمْ، وَقَالَ: "نُقِرُّكُمْ مَا أَقَرَّكُمُ اللّٰهُ". وَقَدْ رَأَيْتُ إِجْلَاءَهُمْ،فَلَمَّا أَجْمَعَ عُمَرُ عَلٰى ذٰلِكَ أَتَاهُ أَحَدُ بَنِي أَبِي الحُقَيقِ فَقَالَ: يَا أَمِيرَ الْمُؤْمِنِينَ! أَتُخْرِجُنَا وَقَدْ أَقَرَّنَا مُحَمَّدٌ وَعَامَلَنَا عَلَى الأَمْوَالِ؟ فَقَالَ عُمَرُ: أَظَنَنْتَ أَنِّي نَسِيتُ قَوْلَ رَسُوْلِ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: "كَيْفَ بِكَ إِذَا أُخْرِجْتَ مِنْ خَيْبَرَ، تَعْدُوْ بِكَ قَلُوْصُكَ لَيْلَةً بَعْدَ لَيْلَةٍ؟ فَقَالَ: هٰذِهٖ كَانَتْ هُزَيْلَةً مِنْ أَبِي الْقَاسِمِ. فَقَالَ: كَذَبْتَ يَا عَدُوَّ اللّٰهِ! فَأَجْلَاهُمْ عُمَرُ، وَأَعْطَاهُمْ قِيمَةَ مَا كَانَ لَهُمْ مِنَ الثَّمَرَةِ مَالًا وَإِبِلًا، وَعُرُوْضًا مِنْ أَقْتَابٍ وَحِبَالٍ وَغَيْرِ ذٰلِكَ. رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ.

مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 4051 ، باب:جزیرہ عرب سے یہودیوں کے نکالنے کا بیان

روایت ہے حضرت ابن عباس سے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم نے تین چیزوں کی وصیت کی مشرکین کو جزیرہ عرب سے نکال دو ۱؎اور وفود کو عطیہ دو جیسے انہیں عطیہ دیتا تھا ۲؎ابن عباس نے فرمایا کہ تیسری وصیت سے خاموشی فرمائی ۳؎یا کہا کہ میں بھول گیا۔(مسلم،بخاری)

وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ أَنَّ رَسُوْلَ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَوْصَى بِثَلَاثَةٍ؛ قَالَ: "أَخْرِجُوا الْمُشْرِكينَ مِنْ جَزِيرَةِ الْعَرَبِ، وَأَجِيزُوا الْوَفْدَ بِنَحْوِ مَا كُنْتُ أُجِيزُهُمْ". قَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ: وَسَكَتَ عَنِ الثَّالِثَةِ، أَو قَالَ: فَأُنْسِيتُهَا. مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ.

مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 4052 ، باب:جزیرہ عرب سے یہودیوں کے نکالنے کا بیان

روایت ہے حضرت جابر ابن عبداللہ سے فرماتے ہیں مجھے عمر ابن خطاب نے خبر دی کہ انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم کو فرماتے سنا کہ میں یہودیوں عیسائیوں کو جزیرہ عرب سے نکال دوں گا حتی کہ اس میں نہ چھوڑوں گا مگر مسلما ن کو ۱؎(مسلم)اور ایک روایت میں یوں ہے کہ اگر میں زندہ رہا توان شاءاﷲیہودو عیسائیوں کو جزیرہ عرب سے نکال دوں گا ۲؎

وَعَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللّٰهِ قَالَ: أَخْبَرَنِي عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ -رَضِيَ اللّٰهُ عَنْهُ-، أَنَّهٗ سَمِعَ رَسُوْلَ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُوْلُ: "لأُخْرِجَنَّ اليَهُوْدَ وَالنَّصَارَى مِنْ جَزِيرَةِ الْعَرَبِ حتّٰى لَا أَدَعَ فِيهَا إِلَّا مُسْلِمًا". رَوَاهُ مُسْلِمٌ.
وَفِي رِوَايَةٍ: "لَئِنْ عِشْتُ إِنْ شَاءَ اللّٰهُ لأُخْرِجَنَّ الْيَهُوْدَ وَالنَّصَارَى مِنْ جَزِيرَةِ الْعَرَبِ".

مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 4053 ، باب:جزیرہ عرب سے یہودیوں کے نکالنے کا بیان

روایت ہے حضرت ابن عمر سے کہ حضرت عمر ابن خطاب نے یہودونصاریٰ کو حجاز کی زمین سے نکال دیا ۱؎اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم جب خیبر والوں پر غالب ہوئے تھے تو وہاں سے یہود کو نکالنا چاہا تھا ۲؎جب حضور اس پر غالب ہوئے تو وہ زمینرسول اور سارے مسلمانوں کی تھی۳؎تب یہود نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم سے یہ سوال کیا کہ انہیں یہاں ہی چھوڑ دیں اس شرط پر کہ وہ لوگ کام کاج کریں اور مسلمانوں کے لیے آدھے پھل ہوں۴؎تب رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا کہ ہم تم کو اس ہی شرط پر رکھتے ہیں جب تک چاہیں چنانچہ وہ قائم رہے حتی کہ ان کو حضرت عمر نے اپنی خلافت میں تیما اور اریحا کی طرف جلاوطن کردیا ۵؎(مسلم،بخاری)

عَنِ ابْنِ عُمَرَ: أَنَّ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ أَجْلَى الْيَهُوْدَ وَالنَّصَارَى مِنْ أَرْضِ الْحِجَازِ، وَكَانَ رَسُوْلُ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَمَّا ظَهَرَ عَلٰى أَهْلِ خَيْبَرَ أَرَادَ أَنْ يُخْرِجَ الْيَهُوْدَ مِنْهَا، وَكَانَتِ الأَرْضُ لَمَّا ظُهِرَ عَلَيْهَا للّٰهِ وَلِرَسُوْلِهٖ وَلِلْمُسْلِمِينَ، فَسَأَلَ الْيَهُوْدُ رَسُوْلَ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ يَتْرُكَهُمْ عَلٰى أَنْ يَكْفُوا الْعَمَلَ وَلَهُمْ نِصْفُ الثَّمَرِ. فَقَالَ رَسُوْلُ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: "نُقِرُّكُمْ عَلٰى ذٰلِكَ مَا شِئْنَا"، فَأُقِرُّوْا حتّٰى أَجْلَاهُمْ عُمَرُ فِي إِمَارَتهِ إِلَى تَيْمَاءَ وَأَرِيحَاءَ. مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ.

مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 4054 ، باب:جزیرہ عرب سے یہودیوں کے نکالنے کا بیان