- ہوم
- کتابیں
- مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح
- جلد 5
- حاکم اور قاضی بننے کا بیان
- باب :اس کا بیان کہ والیوں پر آسانی کرنا واجب ہے
باب :اس کا بیان کہ والیوں پر آسانی کرنا واجب ہے
حاکم اور قاضی بننے کا بیان - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد 5
روایت ہے حضرت ابوموسیٰ سے فرماتے ہیں کہ رسولﷲصلی اللہ علیہ و سلم جب اپنے صحابہ میں سے کسی کو اپنے بعض کاموں کے لیے بھیجتے تھے ۱؎تو فرماتے تھے کہ خوشخبریاں دو متنفرنہ کرو ۲؎اور آسانی کروسختی وتنگی نہ کرو ۳؎(مسلم،بخاری)
عَنْ أَبِيْ مُوْسٰى قَالَ: كَانَ رَسُوْلُ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا بَعَثَ أَحَدًا مِنْ أَصْحَابِهٖ فِيْ بَعْضِ أَمْرِهٖ قَالَ: "بَشِّرُوْا وَلَا تُنَفِّرُوْا، وَيَسِّرُوْا وَلَا تُعَسِّرُوْا". مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ.
مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 3722 ، باب :اس کا بیان کہ والیوں پر آسانی کرنا واجب ہے
روایت ہے حضرت انس سے فرماتے ہیں فرمایا رسولﷲصلی اللہ علیہ و سلم نے آسانیاں کروسختی نہ کرو اور تسکین دو بھڑکاؤ نہیں ۱؎(مسلم،بخاری)
وَعَنْ أَنَسٍ قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: "يَسِّرُوْا وَلَا تُعَسِّرُوْا، وَسَكِّنُوْا وَلَا تُنَفِّرُوْا". مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ.
مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 3723 ، باب :اس کا بیان کہ والیوں پر آسانی کرنا واجب ہے
روایت ہے حضرت ابوبردہ سے ۱؎فرماتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و سلم نے ان کے دادا ابو موسیٰ کو ۲؎اور معاذ کو یمن کی طرف بھیجا تو فرمایا تم دونوں آسانی کرنا تنگی نہ کرنا اور خوشخبری دینا نفرت نہ پھیلانا۳؎ایک دوسرے کی اطاعت کرنا آپس میں جھگڑنا مت۴؎(مسلم،بخاری)
وَعَنْ أَبِيْ بُرْدَةَ قَالَ: "بَعَثَ النَّبِيُّ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ جَدَّهٗ أَبَا مُوْسٰى وَمُعَاذًا إِلَى الْيَمَنِ، فَقَالَ: "يَسِّرَا وَلَا تُعَسِّرَا، وَبَشِّرَا وَلَا تُنَفِّرَا، وَتَطَاوَعَا وَلَا تَخْتَلِفَا". مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ.
مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 3724 ، باب :اس کا بیان کہ والیوں پر آسانی کرنا واجب ہے
روایت ہے حضرت ابن عمر سے کہ رسولﷲصلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا کہ بدعہد کے لیے قیامت کے دن جھنڈا گاڑھا جائے گا تو کہا جائے گا کہ یہ فلاں ابن فلاں کی بدعہدی ہے ۱؎(مسلم،بخاری)
وَعَنِ ابْنِ عُمَرَ أَنَّ رَسُوْلَ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: "إِنَّ الْغَادِرَ يُنْصَبُ لَهٗ لِوَاءٌ يَوْمَ الْقِيَامَةِ فَيُقَالُ: هٰذِهٖ غَدْرَةُ فُلَانِ بْنِ فُلَانٍ". مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ.
مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 3725 ، باب :اس کا بیان کہ والیوں پر آسانی کرنا واجب ہے
روایت ہے حضرت انس سے وہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و سلم سے راوی فرمایا ہر بدعہد کے لیے جھنڈا ہوگا قیامت کے دن جس سے وہ پہنچانا جائے گا ۱؎(مسلم،بخاری)
وَعَنْ أَنَسٍ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: "لِكُلِّ غَادِرٍ لِوَاءٌ يَوْمَ الْقِيَامَةِ يُعْرَفُ بِهٖ". مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ.
مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 3726 ، باب :اس کا بیان کہ والیوں پر آسانی کرنا واجب ہے
روایت ہے حضرت ابوسعید سے وہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و سلم سے راوی فرمایا ہر بدعہد غدار کا جھنڈا اس کے چوتڑوں کے پاس ہوگا ۱؎قیامت کے دن اور ایک روایت میں یوں ہے کہ ہر غدار کا جھنڈا قیامت کےدن اس کی غداری کے مطابق اونچا کیا جائے گا ۲؎ہوشیار رہو کہ عوام کے سلطان کی غداری سے بڑھ کر کوئی غدار(بدعہد)نہیں ۳؎(مسلم)
وَعَنْ أَبِيْ سَعِيْدٍ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: "لِكُلِّ غَادِرٍ لِوَاءٌ عِنْدَ اسْتِهِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ". وَفِيْ رِوَايَةٍ: "لِكُلِّ غَادِرٍ لِوَاءٌ يَوْمَ الْقِيَامَةِ يُرْفَعُ لَهٗ بِقَدْرِ غَدْرِهٖ، أَلَا وَلَا غَادِرَ أَعْظَمُ غَدْرًا مِنْ أَمِيْرِ عَامَّةٍ". رَوَاهُ مُسْلِمٌ.
مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 3727 ، باب :اس کا بیان کہ والیوں پر آسانی کرنا واجب ہے
روایت ہے حضرت عمرو ابن مرۃ سے ۱؎کہ انہوں نے حضرت معاویہ سے فرمایا ۲؎میں نے رسولﷲصلی اللہ علیہ و سلم کو فرماتے سنا کہ جسےﷲمسلمین کی کسی چیز کا والی و حاکم بنائے پھر وہ مسلمانوں کی حاجت و ضرورت و محتاجی کے سامنے حجاب کردے ۳؎توﷲاس کی حاجت و ضرورت و محتاجی کے سامنے آڑ فرمادے گا۴؎چنانچہ حضرت معاویہ نے لوگوں کی حاجت پر ایک آدمی مقرر فرمادیا ۵؎(ابوداؤد،ترمذی) احمد اور ترمذی کی ایک روایت میں ہے کہﷲاس کی ضرورت و حاجت و محتاجی کے سامنے آسمان کے دروازے بند فرمادے گا ۶؎
عَنْ عَمْرِو بْنِ مُرَّةَ أَنَّهٗ قَالَ لِمُعَاوِيَةَ: سَمِعْتُ رَسُوْلَ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُوْلُ: "مَنْ وَلَّاهُ اللّٰهُ شَيْئًا مِنْ أَمْرِ الْمُسْلِمِيْنَ فَاحْتَجَبَ دُوْنَ حَاجَتِهِمْ وَخَلَّتِهِمْ وَفَقْرِهِمُ، احْتَجَبَ اللّٰهُ دُوْنَ حَاجَتِهٖ وَخَلَّتِهٖ وَفَقْرِهٖ" فَجَعَلَ مُعَاوِيَةُ رَجُلًا عَلٰى حَوَائِجِ النَّاسِ. رَوَاهُ أَبُوْ دَاوُدَ وَالتِّرْمِذِيُّ، وَفِيْ رِوَايَةٍ لَهٗ وَلِأَحْمَدَ: "أَغْلَقَ اللّٰهُ لَهٗ أَبْوَابَ السَّمَاءِ دُوْنَ خَلَّتِهٖ وَحَاجَتِهٖ وَمَسْكَنِهٖ".
مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 3728 ، باب :اس کا بیان کہ والیوں پر آسانی کرنا واجب ہے
روایت ہے حضرت ابو شماخ ازدی سے وہ اپنے چچازاد سے راوی ۱؎جو نبی کریم صلی اللہ علیہ و سلم کے صحابہ میں سے ہیں کہ وہ جناب معاویہ کے پاس گئے ۲؎پھر فرمایا کہ میں نے رسولﷲصلی اللہ علیہ و سلم کو فرماتے سنا کہ جو لوگوں کی کسی چیز کا والی بنایا گیا۳؎پھر اس نے مسلمانوں یا مظلوموں یا حاجت مندوں پر اپنا دروازہ بندکرلیا۴؎توﷲاس کی محتاجی اس کی فقیری کے وقت اس پر اپنی رحمت کے دروازے بند کرلے گا ۵؎جب کہ اسے ان سے سخت محتاجی ہوگی ۶؎
عَنْ أَبِي الشَّمَّاخِ الأَزْدِيِّ عَنِ ابْنِ عَمٍّ لَهٗ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهٗ أَتَى مُعَاوِيَةَ فَدَخَلَ عَلَيْهِ، فَقَالَ: سَمِعْتُ رَسُوْلَ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُوْلُ: "مَنْ ولِيَ مِنْ أَمْرِ النَّاسِ شَيْئًا، ثُمَّ أَغْلَقَ بَابَهٗ دُوْنَ الْمُسْلِمِيْنَ، أَوِ الْمَظْلُوْمِ، أَوْ ذِي الْحَاجَةِ أَغْلَقَ اللّٰهُ دُوْنَهٗ أَبْوَابَ رَحْمَتِهٖ عِنْدَ حَاجَتِهٖ وَفَقْرِهٖ أَفْقَرَ مَا يَكُوْنُ إِلَيهِ".
مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 3729 ، باب :اس کا بیان کہ والیوں پر آسانی کرنا واجب ہے
روایت ہے حضرت عمر ابن خطاب سے کہ آپ جب اپنے حکام کو بھیجتے تھے ۱؎تو ان پر شرط لگاتے تھے کہ ترکی گھوڑے پر سوار نہ ہونا ۲؎اور میدہ نہ کھانا اور باریک لباس نہ پہننا۳؎اور اپنے دروازے لوگوں کی ضرورتوں سے بند نہ کرنا۴؎اگر تم نے ان میں سے کچھ کیا تو تم پر سزا واقع ہوگی ۵؎پھر انہیں پہنچانے جاتے تھے۶؎یہ دونوں حدیثیں بیہقی نےشعب الایمان میں روایت کیں۔
وَعَنْ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ أَنَّهٗ كَانَ إِذَا بَعَثَ عُمَّالَهٗ شَرَطَ عَلَيْهِمْ أَنْ لَا تَرْكَبُوْا بِرْذَوْنًا، وَلَا تَأْكُلُوْا نَقِيًّا، وَلَا تَلْبَسُوْا رَقِيْقًا، وَلَا تُغْلِقُوْا أَبْوَابَكُمْ دُوْنَ حَوَائِج النَّاسِ، فَإِنْ فَعَلْتُمْ شَيْئًا مِنْ ذٰلِكَ فَقَدْ حَلَّتْ بِكُمُ الْعُقُوْبَةُ، ثُمَّ يُشَيِّعُهُمْ. رَوَاهُمَا الْبَيْهَقِيُّ فِيْ "شُعَبِ الإِيْمَانِ".
مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 3730 ، باب :اس کا بیان کہ والیوں پر آسانی کرنا واجب ہے