باب:متفرقات

کتاب ارکان حج - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد 4

روایت ہے حضرت عبداللّٰه ابن عمرو ابن عاص سے کہ رسولاللّٰهصلی اللّٰہ علیہ و سلم نے حجۃ الوداع کے موقعہ پر منٰی میں لوگوں کے سامنے قیام فرمایا ۱؎لوگ آپ سے مسائل پوچھتے تھے کہ ایک آدمی حاضر ہوا عرض کیا مجھے خبر نہ تھی ذبح سے پہلے سر منڈالیا ۲؎فرمایا اب ذبح کرلو کوئی حرج نہیں پھر دوسرا آیا عرض کیا مجھے مسئلہ معلوم نہ تھا میں نے رمی سے پہلے قربانی کرلی فرمایا اب رمی کر لو کوئی حرج نہیں ۳؎تو نبی کریم صلی اللّٰہ علیہ و سلم سے کسی چیز کے متعلق جو آگے پیچھے کردی گئی ہو سوال نہ ہوا مگر حضور نے یہ ہی فرمایا اب کرلو کوئی حرج نہیں ۴؎(مسلم بخاری)مسلم کی روایت میں ہے کہ حضور کی خدمت میں ایک شخص آیا عرض کیا میں نے رمی سے پہلے سر منڈالیا فرمایا اب رمی کرلوکوئی حرج نہیں دوسرا آیا عرض کیا میں نے بیت اللّٰه کا طواف رمی سے پہلے کرلیا فرمایا اب رمی کرلو کوئی حرج نہیں ۵؎

عَنْ عَبْدِ اللّٰهِ بْنِ عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ: أَنَّ رَسُولَ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَقَفَ فِي حَجَّةِ الْوَدَاعِ بِمِنًى لِلنَّاسِ يَسْأَلُونَهٗ فَجَاءَهٗ رَجُلٌ فَقَالَ: لَمْ أَشْعُرْ فَحَلَقْتُ قَبْلَ أَنْ أَذْبَحَ. فَقَالَ: «اذْبَحْ وَلَا حَرَجَ» فَجَاءَ آخَرُ فَقَالَ: لَمْ أَشْعُرْ فَنَحَرْتُ قَبْلَ أَنْ أَرْمِيَ. فَقَالَ: «ارْمِ وَلَا حَرَجَ» . فَمَا سُئِلَ النَّبِيُّ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ شَيْءٍ قُدِّمَ وَلَا أُخِّرَ إِلَّا قَالَ: «اِفْعَلْ وَلَا حَرَجَ» (مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ)وَفِي رِوَايَةٍ لِمُسْلِمٍ: أَتَاهُ رَجُلٌ فَقَالَ: حَلَقْتُ قَبْلَ أَنْ أَرْمِيَ. قَالَ: «ارْمِ وَلَا حَرَجَ» و أَتَاهُ آخرُ فَقَالَ: أفَضتُ إِلَى الْبَيْتِ قَبْلَ أَنْ أَرْمِيَ. قَالَ: «ارْمِ وَلَا حَرَجَ»

مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 2655 ، باب:متفرقات

روایت ہے حضرت ابن عباس سے فرماتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللّٰہ علیہ و سلم منٰی میں بقرعید کے دن سوالات کیے جاتے تھے حضور یہ ہی فرماتے تھے ۱؎کوئی حرج نہیں ایک شخص نے آپ سے پوچھا کہ میں نے شام کے بعد رمی کی فرمایا کوئی حرج نہیں ۲؎(بخاری)

وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ: كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُسْأَلُ يَوْمَ النَّحْرِ بِمِنًى فَيَقُولُ: «لَا حَرَجَ، فَسَأَلَهُ رَجُلٌ، فَقَالَ: رَمَيْتُ بَعْدَمَا أَمْسَيْتُ. فَقَالَ: «لَا حَرَجَ » . رَوَاهُ البُخَارِيُّ

مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 2656 ، باب:متفرقات

روایت ہے حضرت علی سے فرماتے ہیں کہ ایک شخص آیا بولا یارسول اللّٰه میں نے سر منڈانے سے پہلے طواف کر لیا فرمایا کوئی حرج نہیں اب منڈالو یا کتروالو ۱؎دوسرا آیا عرض کیا میں نے رمی سے پہلے ذبح کرلیا فرمایا کوئی حرج نہیں رمی کرلو ۲؎(ترمذی)

عَنْ عَلِيٍّ قَالَ: أَتَاهُ رَجُلٌ فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللّٰهِ إِنِّي أَفَضْتُ قَبْلَ أَنْ أَحْلِقَ فَقَالَ: اِحْلِقْ أَوْ قَصِّرْ وَلَا حَرَجَ . وَجَاءَ آخَرُ فَقَالَ: ذَبَحْتُ قَبْلَ أَنْ أَرْمِيَ. قَالَ:اِرْمِ وَلَا حَرَجَرَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ

مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 2657 ، باب:متفرقات

روایت ہے حضرت اسامہ ابن شریک سے ۱؎فرماتے ہیں میں رسولاللّٰهصلی اللّٰہ علیہ و سلم کے ساتھ حج میں نکلا لوگ آپ کے پاس آتے تھے تو کوئی ملنے والا کہتا یا رسول اللّٰه میں نے طواف سے پہلے سعی کرلی ۱؎یا کوئی رکن پیچھے کر دیا ۲؎یا آگے کر لیاتو آپ فرماتے تھے کوئی حرج نہیں ۳؎ہاں حرج اس شخص پر ہے جو ظلم کر تے ہوئے کسی مسلمان کی آبرو ریزی کرے یہ وہ شخص ہے جو نقصان میں گیا اور ہلاک ہوگیا۴؎(ابوداؤد)

عَنْ أُسَامَةَ بْنِ شَرِيكٍ قَالَ: خَرَجْتُ مَعَ رَسُولِ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَاجًّا فَكَانَ النَّاسُ يَأْتُونَهٗ فَمِنْ قَائِلٍ: يَا رَسُولَ اللّٰهِ سَعَيْتُ قَبْلَ أَنْ أَطُوفَ أَوْ أَخَّرْتُ شَيْئًا أَوْ قَدَّمْتُ شَيْئًا فَكَانَ يَقُولُ: «لَا حَرَجَ إِلَّا عَلٰى رَجُلٍ اقْتَرَضَ عِرْضَ مُسْلِمٍ وَهُوَ ظَالِمٌ فَذٰلِكَ الَّذِي حَرَجَ وهَلَكَ» . رَوَاهُ أَبُوْ دَاوُدَ

مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 2658 ، باب:متفرقات