- ہوم
- کتابیں
- مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح
- جلد 3
- زکوۃ کا بیان
- باب: خاوند کے مال سے بیوی کی خیرات
باب: خاوند کے مال سے بیوی کی خیرات
زکوۃ کا بیان - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد 3
روایت ہے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے فرماتی ہیں فرمایا رسولﷲصلی اللہ علیہ وسلم نے جب عورت اپنے گھر کے کھانے سے کچھ خیرات کرے بشرطیکہ بربادی کی نیت نہ ہو تو اسے خیرات کرنے کا ثواب ہوگا ۱؎اور اس کے خاوند کو کمانے کا ثواب اور خزانچی کو بھی اس کے برابر جن میں کوئی دوسرے کے ثواب سے کچھ کم نہ کرے گا ۲؎(مسلم،بخاری)
عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ: قَالَ رَسُولُ اللّٰهِ -صَلَّی اللّٰہُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ-: "إِذْ أَنْفَقَتِ الْمَرْأَةُ مِنْ طَعَامِ بَيْتِهَا غَيْرَ مُفْسِدَةٍ كَانَ لَهَا أَجْرُهَا بِمَا أَنْفَقَتْ، وَلِزَوْجِهَا أَجْرُهُ بِمَا كَسَبَ، وَلِلْخَازِنِ مِثْلُ ذَلِكَ، لَا يَنْقُصُ بَعْضُهُمْ أَجْرَ بَعْضٍ شَيْئًا". مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ.
مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 1947 ، باب: خاوند کے مال سے بیوی کی خیرات
روایت ہے حضرت ابوہریرہ سے فرماتے ہیں فرمایا رسولﷲصلی اللہ علیہ وسلم نے کہ جب عورت اپنے خاوند کی کمائی سے ۱؎اس کے صریحی حکم کے بغیر خیرات کرے تو اسے خاوند سے آدھا ثواب ہوگا ۲؎(مسلم،بخاری)
وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللّٰهِ -صَلَّی اللّٰہُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ-: "إِذَا أَنْفَقَتِ الْمَرْأَةُ مِنْ كَسْبِ زَوْجِهَا مِنْ غَيْرِ أَمْرِهِ فَلَهَا نِصْفُ أَجْرِهِ". مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ .
مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 1948 ، باب: خاوند کے مال سے بیوی کی خیرات
روایت ہے حضرت ابو موسیٰ اشعری سے فرماتے ہیں فرمایا رسولﷲصلی اللہ علیہ وسلم نے مسلمان امانت دار خزانچی کو ۱؎جو اسے حکم دیا جائے وہ پورا اور مکمل خوش دلی سے خیرات کر دے اور اس کو دے جسے دینے کو کہا گیا وہ بھی دو میں سے ایک صدقہ دینے والا ہے ۲؎(مسلم،بخاری)
وَعَنْ أَبِي مُوسَى الأَشْعَرِيِّ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللّٰهِ -صَلَّی اللّٰہُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ-: "الْخَازِنُ الْمُسْلِمُ الأَمِينُ الَّذِي يُعْطِي مَا أُمِرَ بِهِ كَامِلًا مُوَفَّرًا طَيِّبَةً بِهِ نَفْسُهُ، فَيَدْفَعُهُ إِلَى الَّذِي أُمِرَ لَهٗ بِهِ أَحَدُ الْمُتَصَدِّقَيْنِ". مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ.
مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 1949 ، باب: خاوند کے مال سے بیوی کی خیرات
روایت ہے حضرت عائشہ سے فرماتی ہیں کہ ایک شخص نے حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں عرض کیا کہ میری ماں اچانک فوت ہوگئی میرا خیال ہے کہ اگر کچھ بولتیں تو خیرات کرتیں ۱؎تو کیا انہیں ثواب ہوگا اگر میں ان کی طرف سے خیرات کردوں فرمایا ہاں ۲؎(مسلم،بخاری)
وَعَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ: إنَّ رَجُلًا قَالَ لِلنَّبِيِّ -صَلَّی اللّٰہُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ-: إِنَّ أُمِّي افْتُلِتَتْ نَفْسُهَا، وَأَظُنُّهَا لَوْ تَكَلَّمَتْ تَصَدَّقَتْ، فَهَلْ لَهَا أَجْرٌ إِنْ تَصَدَّقْتُ عَنْهَا؟ قَالَ: "نعم". مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ.
مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 1950 ، باب: خاوند کے مال سے بیوی کی خیرات
روایت ہے حضرت ابو امامہ سے فرماتے ہیں کہ میں نے رسولﷲصلی اللہ علیہ وسلم کو حجۃ الوداع کے سال خطبہ میں فرماتے سنا کہ کوئی عورت اپنے خاوند کے گھر سے بغیر خاوند کی اجازت کچھ خرچ نہ کرے ۱؎عرض کیا گیا یارسولﷲکھانا بھی نہیں فرمایا یہ تو ہمارا بہترین مال ہے ۲؎(ترمذی)
عَنْ أَبِي أُمَامَةَ قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللّٰهِ -صَلَّی اللّٰہُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ- يَقُولُ فِي خُطْبَتِهِ عَامَ حُجَّةِ الْوَدَاعِ: "لَا تُنْفِقُ امْرَأَةٌ شَيْئًا مِنْ بَيْتِ زَوْجِهَا إِلَّا بِإِذْنِ زَوْجِهَا". قِيلَ: يَا رَسُولَ اللّٰهِ! وَلَا الطَّعَامَ؟ قَالَ: "ذٰلِكَ أفضَلُ أَمْوَالِنَا". رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ.
مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 1951 ، باب: خاوند کے مال سے بیوی کی خیرات
روایت ہے حضرت سعد سے فرماتے ہیں کہ جب رسولﷲصلی اللہ علیہ وسلم نے عورتوں سے بیعت لی تو ایک شاندار عورت شاید وہ مضر کی عورتوں سے تھی ۱؎اٹھی اور بولی یا نبیﷲہم تو اپنے باپ،دادوں،اولاد اور خاوندوں پر بوجھ ہیں ۲؎ہمیں ان کے مالوں سے کس قدر درست ہے فرمایا تر کھانا جسے تم کھالو اور ہدیہ دے سکو۳؎(ابوداؤد)
وَعَنْ سَعْدٍ قَالَ: لَمَّا بَايَعَ رَسُولُ اللّٰهِ -صَلَّی اللّٰہُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ- النِّسَاءَ قَامَتِ امْرَأَةٌ جَلِيلَةٌ كَأَنَّهَا مِنْ نِسَاءِ مُضَرَ،فَقَالَتْ: يَا نَبِيَّ اللّٰهِ! إِنَّا كَلٌّ عَلَى آبَائِنَا وَأَبْنَائِنَا وَأَزْوَاجِنَا، فَمَا يَحِلُّ لَنَا مِنْ أَمْوَالِهِمْ؟ قَالَ: "الرَّطْبُ تَأْكُلْنَهُ وَتُهْدِينَهُ". رَوَاهُ أَبُو دَاوُدَ.
مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 1952 ، باب: خاوند کے مال سے بیوی کی خیرات
روایت ہے حضرت عمیر سے جو ابی اللحم کے غلام ہیں ۱؎فرماتے ہیں کہ میرے مولا نے مجھے گوشت سکھانے کا حکم دیا ۲؎کہ ایک مسکین آگیا جسے میں نے اس میں سے کچھ دے دیا۳؎اس کی خبر میرے مولا کو ہوئی تو اس نے مجھے مارا میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا اور یہ ماجرا حضور سے عرض کیا ۴؎حضور نے انہیں بلایا فرمایا تم نے انہیں کیوں مارا عرض کیا کہ یہ میرا کھانا میری بغیر اجازت دے دیتا ہے فرمایا ثواب تم دونوں کو ہے ۵؎ایک روایت میں یوں ہے کہ فرماتے ہیں میں مظلوم تھا میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا کہ کیا اپنے مولا کے مال سے کچھ خیرات کردیا کروں فرمایا ہاں اور ثواب تم دونوں کو آدھا آدھا ہو گا۶؎(مسلم)
عَنْ عُمَيْرٍ مَوْلَى اَبِيْ اللَّحْمِ قَالَ: أَمَرَنِي مَوْلَايَ أَنْ أُقَدِّدَ لَحْمًا، فَجَاءَنِي مِسْكِينٌ فَأَطْعَمْتُهُ مِنْهُ، فَعَلِمَ بِذلِكَ مَوْلَايَ فَضَرَبَنِي، فَأَتَيْتُ رَسُولَ اللّٰهِ -صَلَّی اللّٰہُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ- فَذَكَرْتُ ذٰلِكَ لَهُ، فَدَعَاهُ فَقَالَ: "لِمَ ضَرَبْتَهُ؟ " فَقَالَ: يُعْطِي طَعَامِي بِغَيْرِ أَنْ آمُرَهُ، فَقَالَ: "الأَجْرُ بَيْنَكُمَا". وَفِي رِوَايَةٍ قَالَ:كُنْتُ مَمْلُوكًا فَسَأَلْتُ رَسُولَ اللّٰهِ -صَلَّی اللّٰہُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ-: أَتَصَدَّقُ مِنْ مَالِ مَوَالِيَّ بِشَيْءٍ؟ قَالَ: "نَعَمْ، وَالأَجْرُ بَيْنَكُمَا نِصْفَانِ". رَوَاهُ مُسْلِمٌ.
مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 1953 ، باب: خاوند کے مال سے بیوی کی خیرات