- ہوم
- کتابیں
- مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح
- جلد 2
- نماز کا بیان
- باب : تسبیح کی نماز
باب : تسبیح کی نماز
نماز کا بیان - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد 2
روایت ہےحضرت ابن عباس سے کہ نبی کریم صلی الله علیہ وسلم نےحضرت عباس ابن عبدالمطلب سے فرمایا کہ اے عباس اے چچا کیا میں تمہیں کچھ نہ دوں کچھ عطا نہ کروں کچھ نہ بتاؤں کیا تمہارے ساتھ دس بھلائیاں نہ کروں ۱∞؎جب تم وہ کرلوتو الله تمہارے اگلےپچھلے نئےپرانے دانستہ یا نادانستہ چھوٹے بڑے چھپے کھلے گناہ معا ف کردے۲؎تم چار رکعتیں پڑھو ہر رکعت میں سورۂ فاتحہ اور کوئی سورۃ پڑھ لو۳؎جب تم پہلی رکعت میں قرأت سے فارغ ہو تو کھڑے ہوکر پندرہ بار کہو"سُبْحَانَ اللهِ وَالْحَمْدُ لِلّٰهِ وَلَا إِلٰهَ إِلَّا اللهُ وَاللهُ أَكْبَرُ"۴؎پھر رکوع کرو تو رکوع میں دس بار یہ کہہ لو پھر رکوع سے سر اٹھاؤ تو دس بار کہہ لو پھر سجدہ میں جاؤ تو دس بارسجدہ میں کہہ لو پھرسجدہ سے اپنا سراٹھاؤ تو دس بار کہہ لو پھرسجدہ کرو تو دس بار کہہ لو پھر سجدہ سے اپنا سر اٹھاؤ تو دس بار کہہ لو ۵؎یہ ایک رکعت میں پچھتر بار ہوئے ایسا چار رکعتوں میں کرلو ۶؎اگر کرسکو تو ہر دن میں یہ نماز ایک بار پڑھ لو ۷؎اگر نہ کرسکو تو ہر ہفتہ میں ایک بار ۸؎اگر یہ بھی نہ کرسکو تو ہرسال میں ایک بار ۹؎اگر یہ بھی نہ کرسکو تو عمر میں ایک بار۔(ابوداؤد،ابن ماجہ،بیہقی نےدعوات کبیرمیں)
عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: لِلْعَبَّاسِ بْنِ عَبْدِ الْمُطَّلِبِ: " يَا عَبَّاسُ يَا عَمَّاهُ أَلَا أُعْطِيكَ؟ أَلَا أَمْنَحُكَ؟ أَلَا أُخْبِرُكَ؟ أَلَا أَفْعَلُ بِكَ عَشْرَ خِصَالٍ إِذَا أَنْتَ فَعَلْتَ ذٰلِكَ غَفَرَ اللهُ لَكَ ذَنْبَكَ أَوَّلَهٗ وَآخِرَهٗ قَدِيمَهٗ وَحَدِيثَهٗ خَطَأَهٗ وَعَمْدَهٗ صَغِيرَهٗ وَكَبِيرَهٗ سِرَّهٗ وَعَلَانِيَتَهُ: أَنْ تُصَلِّيَ أَرْبَعَ رَكَعَاتٍ تَقْرَأُ فِي كُلِّ رَكْعَةٍ فَاتِحَةَ الْكِتَابِ وَسُورَةً. فَإِذَا فَرَغْتَ مِنَ الْقِرَاءَةِ فِي أَوَّلِ رَكْعَةٍ وَأَنْتَ قَائِمٌ قُلْتَ سُبْحَانَ اللهِ وَالْحَمْدُ لِلّٰهِ وَلَا إِلٰهَ إِلَّا اللهُ وَاللهُ أَكْبَرُ خَمْسَ عَشْرَةَ مَرَّةً ثُمَّ تَرْكَعُ فَتَقُولُهَا وَأَنْتَ رَاكِعٌ عَشْرًا ثُمَّ تَرْفَعُ رَأْسَكَ مِنَ الرُّكُوعِ فَتَقُولُهَا عَشْرًا ثُمَّ تَهْوِي سَاجِدًا فَتَقُولُهَا وَأَنْتَ سَاجِدٌ عَشْرًا ثُمَّ تَرْفَعُ رَأْسَكَ مِنَ السُّجُودِ فَتَقُولُهَا عَشْرًا ثُمَّ تَسْجُدُ فَتَقُولُهَا عَشْرًا ثُمَّ تَرْفَعُ رَأْسَكَ فَتَقُولُهَا عَشْرًا فَذٰلِكَ خَمْسٌ وَسَبْعُونَ فِي كُلِّ رَكْعَةٍ تَفْعَلُ ذٰلِكَ فِي أَرْبَعِ رَكَعَاتٍ إِنِ اسْتَطَعْتَ أَنْ تُصَلِّيْهَا فِيْ كُلِّ يَوْمٍ مَرَّۃً فَافْعَلْ فَإِنْ لَمْ تَفْعَلْ فَفِي كُلِّ جُمُعَةٍ مَرَّةً فَإِنْ لَمْ تَفْعَلْ فَفِي كُلِّ شَهْرٍ مَرَّةً فَإِنْ لَمْ تَفْعَلْ فَفِي كُلِّ سَنَةٍ مَرَّةً فَإِنْ لَمْ تَفْعَلْ فَفِي عُمْرِكَ مَرَّةً ". رَوَاهُ أَبُو دَاوُدَ وَابْنُ مَاجَهْ وَالْبَيْهَقِيُّ فِي الدَّعْوَاتِ الْكَبِيْرِ
مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 1328 ، باب : تسبیح کی نماز
اور ترمذی نے ابورافع سے اس کی مثل روایت کی ۱∞؎
وَرَوَى التِّرْمِذِيْ عَنْ أَبِيْ رَافِعٍ نَحْوَهٗ
مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 1329 ، باب : تسبیح کی نماز
روایت ہےحضرت ابوہریرہ سے فرماتے ہیں کہ میں نے رسول الله صلی الله علیہ وسلم کو فرماتے سنا کہ بندے کا وہ عمل جس کا قیامت کے دن پہلے حساب ہوگا وہ اس کی نمازہے ۱∞؎اگرنماز ٹھیک ہوگئی تو بندہ کامیاب ہوگیا اور نجات پاگیا اور اگر نماز بگڑ گئی تو محروم رہ گیا اور نقصان پاگیا اگر بندے کے فرضوں میں کمی ہوگی تو رب تعالٰی فرمائے گا کہ دیکھو کیا میرے بندے کے پاس کچھ نفل ہیں ان سے فرض کی کمی پوری کردی جائے گی۲؎پھر بقیہ اعمال اسی طرح ہوں گے اور ایک روایت میں ہے کہ پھر زکوۃ اسی طرح ہے پھر دوسرے اعمال اسی طرح کیے جائیں گے ۳؎(ابوداؤد)
وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: " إِنَّ أَوَّلَ مَا يُحَاسَبُ بِهٖ الْعَبْدُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ مِنْ عَمَلِهٖ صَلَاتُه فَإِنْ صَلُحَتْ فَقَدْ أَفْلَحَ وَأَنْجَحَ وَإِنْ فَسَدَتْ فَقَدْ خَابَ وَخَسِرَ فَإِنِ انْتَقَصَ مِنْ فَرِيضَتِهٖ شَيْءٌ قَالَ الرَّبُّ تَبَارَكَ وَتَعَالٰى: أُنْظُرُوْا هَلْ لِعَبْدِي مِنْ تَطَوُّعٍ؟ فَيُكَمَّلُ بِهَا مَا انْتَقَصَ مِنَ الْفَرِيضَةِ ثُمَّ يَكُونُ سَائِرُ عَمَلِهٖ عَلیٰ ذٰلِكَ ". وَفِي رِوَايَةٍ: «ثُمَّ الزَّكَاةُ مِثْلَ ذٰلِكَ ثمَّ تُؤْخَذُ الْأَعْمَالُ عَلٰی حَسْبِ ذٰلِكَ» . رَوَاهُ أَبُو دَاوُدَ
مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 1330 ، باب : تسبیح کی نماز
اور احمدنے ایک مرد سے۔
وَرَوَاهُ أَحْمدُ عَنْ رَجُلٍ
مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 1331 ، باب : تسبیح کی نماز
روایت ہے حضرت ابو امامہ سے فرماتے ہیں فرمایا رسول الله صلی الله علیہ وسلم نے کہ الله تعالٰی نے بندے کو دو رکعتوں سے جنہیں وہ ادا کرے زیادہ تاکیدی حکم کسی اور چیز کا نہ دیا ۱∞؎اور جب تک بندہ نماز میں رہتاہےبھلائی اس کےسر پرنثارہوتی رہتی ہے۲؎اور بندہ رب کی طرف کسی چیز سے اتنا قرب حاصل نہیں کرتا جتنا اپنے منہ سے ادا کیئے ہوئےیعنی قرآن۳؎(احمدوترمذی)
وَعَنْ أَبِي أُمَامَةَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : «مَا أَذِنَ اللهُ لَعَبْدٍ فِي شَيْءٍ أَفْضَلَ مِنَ الرَّكْعَتَيْنِ يُصَلِّيهِمَا وَإِنَّ الْبِرَّ لَيُذَرُّ عَلیٰ رَأْسِ الْعَبْدِ مَا دَامَ فِي صَلَاتِهٖ وَمَا تَقَرَّبَ الْعِبَادُ إِلَى اللهِ بِمِثْلِ مَا خَرَجَ مِنْهُ» يَعْنِي الْقُرْآنَ. رَوَاهُ أَحْمدُ وَالتِّرْمِذِيْ
مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 1332 ، باب : تسبیح کی نماز