zakat
دعوت اسلامی کی دینی خدمات دیگر ممالک میں بھی دیکھئے

تیسرا رکنِ اسلام

تیسرا رکن’’ وَإِيتَاءِ الزَّكَاةِ ‘‘ یعنی زکاۃ ادا کرنا :

اسلام ایک عالمگیر مذہب ہے دنیا کے تمام ادیان پر اسلام کو غلبہ حاصل ہے اور اسلام کا پیش کردہ نظام ہی دنیا کی سالمیت کا ضامن ہے۔اس دین کی سب سے بڑی خصوصیت ہےکہ یہ اپنے ماننے والوں کو دوسروں کے ساتھ ہمدری،خیر خواہی، باہمی امداد ، دست تعاون اور معاشرے میں موجود معاشی دوڑ میں پیچھے رہ جانے والوں کی مدد کرنے کا حکم دیتا ہے تاکہ وہ اپنے بھائیوں کے دیئے گئے عطیات سے فائدہ اٹھاکر معاشی بحران سے نکلنے کی کوشش کرسکیں۔اسلام  نےاس فلاحی نظام کی بقا کےلئے زکوۃ کا سسٹم متعارف کروایا اور رسول اللہ تعالی علیہ وسلم نے زکاۃ کی ادائیگی کو اسلام کا تیسرا اہم ستون قرار دیا ۔ حجۃ الوداع کے موقع پر آقا دوجہاں صلی اللہ تعالی علیہ وسلم حقو ق اللہ اور حقوق العباد سے متعلق پوری انسانیت کی فلاح وبہبود کےلئے ایک جامع خطبہ ارشاد فرمایا جس میں جہاں دیگر احکامات بیان فرمائیں وہیں زکوۃ کی ادائیگی  کے بارے میں بھی حکم ارشاد فرمایا۔

عَنْ اَبِیْ اُمَامَۃَ صُدَیِّ بْنِ عَجْلَانَ الْبَاھِلِی رَضِیَ اللہُ عَنْہُ قَالَ:سَمِعْتُ رَسُوْلَ اللہِ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ یَخْطُبُ فِیْ حَجَّۃِ الْوَدَاعِ فَقَالَ:اِتَّقُوااللہَ،وَصَلُّوْاخَمْسَکُمْ ،وَصُوْمُوْا شَہْرَکُمْ ،وَأَدُّوْا زَکَاۃَ اَمْوَالِکُمْ، واَطِیْعُوْا اُمَرَآئَکُمْ تَدْخُلُوْاجَنَّۃَ رَبِّکُمْ۔

(ترمذی، کتاب السفر ، باب ما ذکر فی فضل الصلوۃ، ۲/۱۱۹، حدیث:۶۱۶، بتغیر قلیل، فیضان ریاض الصالحین ، جلد ۱، ص ۶۲۱)

ترجمہ :حضرتِ سَیِّدُنا ابواُمامہ صُدَی ّبن عَجْلان باہِلی رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ فرماتے ہیں : میں نے نبی اکرم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کو حجۃ الوداع کے خطبہ میں یہ فرماتے ہوئے سنا : اپنے ربّ عزوجل سے ڈرو! اپنی پانچوں نمازیں پڑھو!اپنے رمضان کے روزے رکھو!اپنے اموال کی زکوۃ دو اور اپنے حکمرانوں کی اطاعت کرو!تم اپنے رَبّ عزوجل کی جنت میں داخل ہوجاؤگے۔

حضرتِ سَیِّدُنا مُلّا علی قاری عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْبَارِی مرقاۃ شرح مشکاۃ میں فرماتے ہیں :اس حدیث پاک میں نماز کاذکر زکوٰۃ سے پہلے اس لئے ہوا کہ نماز زکوٰۃ سے پہلے فرض ہوئی ۔ کثیرآیات ِمقدسہ واحادیثِ مبارکہ میں زکوۃ اور نماز کو ایک ساتھ ذکر کیا گیا اس وجہ سے کہ نماز عبادتِ بدنیہ کی اصل ہے اور زکوٰۃ عبادتِ مالیہ کی اصل ہے ۔

 حدیثِ پاک میں ’’أَدُّوْازَکَاتَکُمْ‘‘کے بجائے ’’اَدُّوْازکاۃَ اَمْوَالِکُم  ‘‘ کہا گیا کیونکہ زکوٰۃ مطلقاًمال میں فرض نہیں ہوتی بلکہ ایک مخصوص مال میں فرض ہوتی ہے ۔( فیضان ریاض الصالحین ، جلد ۱، ص ۶۲۱)

اعلیٰ حضرت ، امام اہلسنّت ، عظیم البرکت الشاہ امام احمد رضا خان فاضل بریلوی رضی اللہ عنہ اسلامی انسائیکلوپیڈیا ’’ فتاوی رضویہ ‘‘ میں زکوۃ سے متعلق ایک سوال کے جواب میں ارشاد فرماتے ہیں:’’ زکوٰۃ اعظم فروضِ دین واہم ارکانِ اسلام سے ہے ولہذاقرآن عظیم میں بتیس ۳۲جگہ نماز کے ساتھ اس کاذکر فرمایا اور طرح طرح سے بندوں کو اس فرضِ اہم کی طرف بُلایا، صاف فرمادیا کہ زنہار نہ سمجھنا کہ زکوٰۃ دی تو مال میں سے اتنا کم ہوگیا، بلکہ اس سے مال بڑھتا ہے۔ یَمْحَقُ اللّٰهُ الرِّبٰوا وَ یُرْبِی الصَّدَقٰتِ (البقرۃ :۲۷۶)  اہلاک کرتا ہے سود کو اور بڑھاتا ہے خیرات کو (ت)‘‘ (فتاوی رضویہ ، جلد ۱۰، کتاب الزکوۃ، صوم، حج ،ص ۲۸)

نظام ِزکوۃ کا مختصر تعارف:

شارح مشکاۃ المصابیح حضرت مفسرشہیر مفتی احمد یار خان نعیمی رحمۃ اللہ تعالی علیہ  فرماتے ہیں :’’زکوۃ کے لغوی معنی ہیں پاکی اور بڑھنا، رب تعالٰی فرماتا ہے:" قَدْ اَفْلَحَ مَنْ تَزَكّٰى"۔چونکہ زکوۃ کی برکت سے نفس انسانی بخل کے میل سے پاک و صاف ہوتاہے،نیز اس کی وجہ سے مال میں برکت ہوتی ہے اس لئے اسے زکوۃ کہتے ہیں۔زکوۃ کا سبب بڑھنے والا مال ہے اور اسکے شرائط: اسلام،آزادی،عقل،بلوغ اور قرض سے مال کا خالی ہوناہے لہذا کافر،غلام،بچے اور دیوانے پر زکوۃ فرض نہیں۔حق یہ ہے کہ زکوۃ کا اجمالی حکم ہجرت سے پہلے آیا اور اس کی تفصیل      ۱۱ھ؁ میں بیان ہوئی لہذا آیات قرآنیہ میں تعارض نہیں۔کُل چار مالوں میں زکوۃ فرض ہے:سونا چاندی،مال تجارت، جنگل میں چرنے والے جانور،زمینی پیداوار۔(از مرقاۃ و اشعہ)تفصیلی احکام کتب فقہ میں دیکھو۔پیداوار کی زکوۃ دسواں یا بیسواں حصّہ ہے،باقی مال تجارت و سونے چاندی کا چالیسواں حصّہ۔‘‘

زکوۃ کی تعریف:

علامہ شيخ نظام الدين حنفی رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ متوفی ۱۱۶۱ھ فرماتے ہيں:’’ ھي تمليک المال من فقير مسلم غير ہاشمي، ولا مولاہ بشرط قطع المنفعۃ عن الملک من کل وجہ للہ تعالی، ہذا في الشرع کذا في’’التبيين‘‘.

(الفتاوی الہنديۃ المعروف بعالمکيريۃ،کتاب الزکاۃ، الباب الأول في تفسيرہا... إلخ، ج۱،ص۱۷۰)

 

  يعنی، زکوٰۃ شرع ميں اللہ کے لئے مال کے ايک حصہ کا جو شرع نے مقرر کيا ہے مسلمان فقير کو مالک کردينا ہے اور فقير نہ ہاشمی ہو نہ ہاشمی کا آزاد کردہ غلام اور اپنا نفع اس سے بالکل جُدا کرلے۔(بہارِ شريعت،مسائل فقہیہ،حصہ۵، ص۷، ضیائے صدقات،ص ۳۳)

زکٰوۃ کی فرضیت:

  زکوٰۃ کی فرضیت کتاب وسنّت سے ثابت ہے ۔ اللہ عَزَّوَجَلَّ    قرآن پاک میں ارشاد فرماتا ہے :

وَ اَقِیْمُوا الصَّلٰوةَ وَ اٰتُوا الزَّكٰوةَ (پ ۱ ، البقرۃ:۴۳ )

ترجمۂ کنزالایمان:اور نماز قائم رکھو اور زکوٰۃ دو

  صدر الافاضل حضرت مولانا سیدمحمد نعیم الدین مراد آبادی علیہ رحمۃاللہ الھادی اس آیت کے تحت تفسیر خزائن العرفان میں لکھتے ہیں: ''اس آیت میں نمازو زکوٰۃ کی فرضیت کا بیان ہے ۔(تفیسر خزائن العرفان،فیضان زکاۃ، ص۲)

خُذْ مِنْ اَمْوَالِهِمْ صَدَقَةً تُطَهِّرُهُمْ وَ تُزَكِّیْهِمْ بِهَا وَصَلِّ عَلَیْهِمْؕ-اِنَّ صَلٰوتَكَ سَكَنٌ لَّهُمْؕ-وَ اللّٰهُ سَمِیْعٌ عَلِیْمٌ (التوبۃ:۱۰۳)

ترجمۂ کنزُالعِرفان: اے حبیب! تم ان کے مال سے زکوٰۃ وصول کرو جس سے تم انہیں ستھرا اور پاکیزہ کردو اور ان کے حق میں دعائے خیر کروبیشک تمہاری دعا ان کے دلوں کا چین ہے اور اللہ سننے والا، جاننے والا ہے۔

وَ یُقِیْمُوا الصَّلٰوةَ وَ یُؤْتُوا الزَّكٰوةَ وَ ذٰلِكَ دِیْنُ الْقَیِّمَةِ    (پ۳۰، البینة: ۵)

ترجمۂ کنزالایمان: اورنمازقائم کریں اورزکوٰۃ دیں اوریہ سیدھا دین ہے۔

مصارف زکوۃ کا تعارف:

اِنَّمَا الصَّدَقٰتُ لِلْفُقَرَآءِ وَ الْمَسٰكِیْنِ وَ الْعٰمِلِیْنَ عَلَیْهَا وَ الْمُؤَلَّفَةِ قُلُوْبُهُمْ وَ فِی الرِّقَابِ وَ الْغٰرِمِیْنَ وَ فِیْ سَبِیْلِ اللّٰهِ وَ ابْنِ السَّبِیْلِؕ-فَرِیْضَةً مِّنَ اللّٰهِؕ-وَ اللّٰهُ عَلِیْمٌ حَكِیْمٌ   (پ۱۰، التوبۃ: ۶۰)

ترجمۂ کنزُالعِرفان: زکوٰۃ صرف فقیروں اور بالکل محتاجوں اور زکوٰۃ کی وصولی پر مقرر کئے ہوئے لوگوں اور ان کیلئے ہے جن کے دلوں میں اسلام کی الفت ڈالی جائے اور غلام آزاد کرانے میں اور قرضداروں کیلئے اور اللہ کے راستے میں (جانے والوں کیلئے) اور مسافر کے لئے ہے۔ یہ اللہ کامقرر کیا ہوا حکم ہے اور اللہ علم والا، حکمت والا ہے۔

اس آیت کی تفسیر میں حضرت علامہ مفتی محمد قاسم قادری شیخ الحدیث والتفسیر فرماتے ہیں: ’’ اس آیت میں زکوٰۃ کے مصارف بیان گئے ہیں ،ان سے متعلق چند شرعی مسائل درج ذیل ہیں :

(1)… زکوٰۃ کے مستحق آٹھ قسم کے لوگ قرار دیئے گئے ہیں ان میں سے مُؤَلَّفَۃُ الْقُلُوْبْ صحابۂ کرام رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُم کے اِجماع کی وجہ سے ساقط ہوگئے کیونکہ جب اللہ تَبَارَکَ وَتَعَالٰی نے اسلام کو غلبہ دیا تو اب اس کی حاجت نہ رہی اور یہ اجماع حضرت ابو بکر صدیق رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ ُکے زمانے میں منعقد ہوا تھا۔ یہاں ایک اہم بات یاد رہے کہ مُؤَلَّفَۃُ الْقُلُوْبْ کے حصے کو ساقط کرنے میں ایسا نہیں ہے کہ صحابۂ کرام رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُم نے قرآنِ کریم کو ہی بدل دیا کیونکہ قرآنِ مجید ایسی کتاب ہے ہی نہیں کہ مخلوق میں سے کوئی اسے تبدیل کرسکے کہ یہ اللہ تعالیٰ کا کلام ہے اور ا س کی حفاظت بھی اللہ تعالیٰ کے ذمۂ کرم پر ہے، بلکہ صحابۂ کرام کا مُؤَلَّفَۃُ الْقُلُوْبْ کے حصے کو ساقِط کرنے میں اِجماع یقیناً کسی دلیل کی بنا پر تھا ، جیسا کہ علامہ کمال الدین محمد بن عبد الواحدرَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِ فرماتے ہیں ’’یقیناً ان کے پاس کوئی ایسی دلیل ہو گی جس سے انہیں علم ہو گا کہ نبیٔ کریم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے اپنی وفات سے پہلے اس حکم کو منسوخ کر دیا تھا۔ یا، اس حکم کے آپ کی (ظاہری) حیاتِ مبارکہ تک ہونے کی قید تھی۔ یا، یہ حکم کسی علت کی وجہ سے تھا اور اب وہ علت باقی نہ رہی تھی۔ (فتح القدیر، کتاب الزکاۃ، باب من یجوز دفع الصدقۃ الیہ ومن لا یجوز، ۲ / ۲۰۱)

(2)…فقیر وہ ہے جس کے پاس شرعی نصاب سے کم ہو اور جب تک اس کے پاس ایک وقت کے لئے کچھ ہو اس کو سوال حلال نہیں۔ ہاں بن مانگے اگر کوئی اسے زکوٰۃ دے تو وہ لے سکتا ہے اور مسکین وہ ہے جس کے پاس کچھ نہ ہو اور ایسا شخص سوال بھی کرسکتا ہے۔

(3)… عامِلین وہ لوگ ہیں جن کو حاکمِ اسلام نے صدقے وصول کرنے پر مقرر کیا ہو۔

(4)… اگر عامل غنی ہو تو بھی اس کو لینا جائز ہے۔

(5)… عامل سید یا ہاشمی ہو تو وہ زکوٰۃ میں سے نہ لے۔

(6)…گردنیں چھڑانے سے مراد یہ ہے کہ جن غلاموں کو ان کے مالکوں نے مُکَاتَبْ کردیا ہو اور ایک مقدار مال کی مقرر کردی ہو کہ اس قدر وہ ادا کردیں تو آزاد ہیں ، وہ بھی مستحق ہیں ، ان کو آزاد کرانے کے لئے مالِ زکوٰۃ دیا جائے۔

(7)…قرضدار جو بغیر کسی گناہ کے مبتلائے قرض ہوئے ہوں اور اتنا مال نہ رکھتے ہوں جس سے قرض ادا کریں انہیں ادائے قرض میں مالِ زکوٰۃ سے مدد دی جائے۔

(8)…اللہ عَزَّوَجَلَّ کی راہ میں خرچ کرنے سے بے سامان مجاہدین اور نادار حاجیوں پر صَرف کرنا مراد ہے۔

(9)…اِبنِ سبیل سے وہ مسافر مراد ہے جس کے پاس اُس وقت مال نہ ہو۔

(10)… زکوٰۃ دینے والے کو یہ بھی جائز ہے کہ وہ ان تمام اَقسام کے لوگوں کو زکوٰۃ دے اور یہ بھی جائز ہے کہ ان میں سے کسی ایک ہی قسم کو دے۔

(11)… زکوٰۃ انہیں لوگوں کے ساتھ خاص کی گئی لہٰذاان کے علاوہ اور دوسرے مَصرف میں خرچ نہ کی جائے گی، نہ مسجد کی تعمیر میں ،نہ مردے کے کفن میں ،نہ اس کے قرض کی ا دا ئیگی میں۔

(12)… زکوٰۃ بنی ہاشم اور غنی اور ان کے غلاموں کو نہ دی جائے اور نہ آدمی اپنی بیوی اور اولاد اور غلاموں کو دے (تفسیرات احمدیہ، براء ۃ، تحت الآیۃ: ۶۰، ص۴۶۶-۴۶۸، مدارک، التوبۃ، تحت الآیۃ: ۶۰، ص۴۴۱، ملتقطاً)۔‘‘

(صراط الجنان فی تفسیر القرآن ، جلد ۴ ، ص ۱۵۶،۱۵۷)

زکوۃ کی ادائیگی کی ترغیب:

امیر المؤمنین حضرت سیِّدُنا عمر فارو ق اعظم رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ نہ صرف لوگوں سے زکوۃ کی وصولی فرماتے تھے بلکہ وقتاً فوقتاً انہیں ترغیب بھی دلاتے رہتے تھے۔ چنانچہ امیر المؤمنین حضرت سیِّدُنا عمر فاروقِ اعظم رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ نے ارشاد فرمایا: ’’يَا اَهْلَ الْمَدِيْنَةِ اِنَّهُ لَا خَيْرَ فِيْ مَالٍ لَا يُزَكّٰى یعنی اے مدینے والو! اس مال میں کوئی خیر نہیں جس کی زکوۃ ادا نہ کی گئی ہو۔‘‘

(…کنز العمال، کتاب الزکاۃ، باب احکام الزکاۃ، الجزء:۶، ج۳، ص۲۳۳، الحدیث: ۱۶۸۹۱، فیضان فاروق اعظم، جلد ۲ ،ص ۷۹۸۔۷۹۹)

بارش نہ برسنےکا سبب:

حضرت سیِّدُنابُرَیْدہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ سےمروی ہےکہ حضورنبی پاک، صاحِبِ لولاک صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نےارشاد فرمایا: مَاحَبَسَ قَوْمُ الزَّ کَاۃَاِلَّاحَبَسَ اللہُ عَنْہُمُ الْقَطْرَیعنی جب کوئی قوم زکوٰۃ روکتی ہے تو      اللہ عَزَّ وَجَلّ َان سے بارش روک لیتا ہے۔

(  سنن کبری للبیھقی،کتاب الزکاة،باب الهدية للوالی بسبب الولاية، ۴/۲۶۸ ،حدیث:۷۶۶۶، دین ودنیا کی انوکھی باتیں،جلد ۱ ، ص ۲۲)

 

زکوۃ کے علاوہ صدقات وخیرات کی فضیلت:

اللہ عَزَّ وَجَلَّ قرآنِ مجیدمیں ارشادفرماتاہے:

اِنَّ اللّٰهَ یَجْزِی الْمُتَصَدِّقِیْنَ (۸۸)  (پ۱۳، یوسف: ۸۸)

ترجمۂ کنزالایمان: بےشک اللہ خیرات والوں کوصلہ دیتاہے۔

                             ایک مقام پرارشادہوتاہے:

وَ الْمُتَصَدِّقِیْنَ وَ الْمُتَصَدِّقٰتِ وَ الصَّآىٕمِیْنَ وَ الصّٰٓىٕمٰتِ وَ الْحٰفِظِیْنَ فُرُوْجَهُمْ وَ الْحٰفِظٰتِ وَ الذّٰكِرِیْنَ اللّٰهَ كَثِیْرًا وَّ الذّٰكِرٰتِۙ-اَعَدَّ اللّٰهُ لَهُمْ مَّغْفِرَةً وَّ اَجْرًا عَظِیْمًا (۳۵)  (پ۲۲، الاحزاب: ۳۵)

 ترجمۂ کنزالایمان: اورخیرات کرنےوالےاورخیرات کرنے والیاں اورروزےوالےاورروزےوالیاں اوراپنی پارسائی نگاہ رکھنےوالے اورنگاہ رکھنےوالیاں اور اللہ کوبہت یادکرنے والےاوریادکرنے والیاں ان سب کےلیے اللہ نےبخشش اوربڑاثواب تیارکررکھا ہے۔

)1(اَلصَّدَقَۃُ تَسُدُّسَبْعِیْنَ بَابًامِّنَ الشَّرِّیعنی صدقہ بُرائی کے70دروازوں کو بندکردیتا ہے۔  (معجم کبیر،۴/ ۲۷۴،حدیث: ۴۴۰۲)

)2(…مانگنے والےکواس کا حق دےکرلوٹاؤ اگرچہ پرندے کے سربرابر کھانا ہو۔  ( احیاء علوم الدین،کتاب اسرار الزکاة،بيان فضيلة الصدقة،۱/۳۰۳)

)3(رُدُّوْا السَّائِلَ وَلَوْبِظِلْفٍ مُحْرَقٍ یعنی سائل کواس کاحق دے کر لوٹاؤاگرچہ جلا ہواکھرہی کیوں نہ ہو۔(مسند امام احمد،حدیث حواء جدة عمرو بن معاذ،۱۰/ ۴۰۷،حدیث:۲۷۵۲۰)

)4(اِتَّقُواالنَّارَوَلَوْبِشِقِّ تَمْرَۃٍیعنی (دوزخ کی) آگ سےبچواگرچہ کھجورکےایک ٹکڑےکےذریعے۔( مسلم، کتاب الزکاة ، باب الحث علی الصدقة  الخ،ص۵۰۷،حدیث: ۱۰۱۶)

اَلْمُسْتَطْرَف فِیْ کُلِّ فَنٍّ مُسْتَظْرَف  ترجمہ دین و نیا کی انوکھی باتیں ، جلد ۱ ، ص ۲۵۔۲۶ )

 زکاۃ وعطیات کے بارےمکمل طور پر آگاہی کےلئےجس طرح قرآن و حدیث میں احکامات آئے ہیں اور ان احکامات کو عملی جہتوں سے بیان کرنے کےلئے فقہائے امت نے اپنی اپنی نگارشات میں بہت تفصیل سے لکھا ہے ایک محقق اور اسلام کے نظام زکاۃ کو سمجھنے والے کےلئے ان فقہائے امت کی کتابوں کا مطالعہ کرنا بہت مفید رہے گا۔موجودہ صدی میں زکاۃ کے نظام کو سہل اور آسان انداز میں بیان کرنے اور زکاۃ کےشرعی مسائل کی اشاعت میں علمی ،روحانی ،فلاحی  تبلیغ قرآن وسنت کی عظیم غیر سیاسی تحریک دعوت اسلامی کے پلیٹ فارم سے بھی ایک کتاب ’’فتاوی اہلسنت احکام زکاۃ‘‘  کے نام سے چھپی ہے ۔اس کتا ب کا مطالعہ اسلا م کے نظام زکاۃ کو سمجھنے میں بہت مفید رہے گا ۔