namaz
دعوت اسلامی کی دینی خدمات دیگر ممالک میں بھی دیکھئے

دوسرا رکنِ اسلام

دوسرا رکن  وَإِقَامِ الصَّلَاةِ  یعنی نماز قائم کرنا:

اسلام کا دوسرا رکن نماز قائم کرناہے۔نما ز اسلام کے نظام ِعبادت  میں سب سے اہم عبادت ہے ، یہ خالصا حقوق اللہ  میں سے  ایک حق ہے جو صرف  رب العزت کی بندگی کےلئے ادا کیاجاتا ہے جیساکہ اللہ تعالی نے سورہ  طہ  آیت نمبر 14 میں ارشاد فرمایا:

وَ اَقِمِ الصَّلٰوةَ لِذِكْرِیْ    (پ۱۶، طٰہٰ: ۱۴)

ترجمۂ کنز الایمان:  اور میری یاد کے لیے نماز قائم رکھ۔

مفسِّر شہیر، خلیفۂ اعلیٰحضرت، صدرالافاضل سیِّد محمد نعیم الدین مراد آبادی علیہ رحمۃ اللہ الہادی تفسیر خزائن العرفان میں اس آیتِ مبارکہ کے تحت فرماتے ہیں:’’ تاکہ تو اس میں مجھے یاد کرے اور میری یاد میں اخلاص ا ور میری رضا مقصود ہو کوئی دوسری غرض نہ ہو اسی طرح ریا کا دخل نہ ہو یا یہ معنٰی ہیں کہ تو میری نماز قائم رکھ تاکہ میں تجھے اپنی رحمت سے یاد فرماؤں ۔فائدہ : اس سے معلوم ہوا کہ ایمان کے بعد اعظم فرائض نماز ہے ۔‘‘(تفسیر خزائن العرفان)

صدر الشریعہ بدر الطریقہ حضرت علامہ مولانا مفتی محمد امجد علی اعظمی علیہ رحمۃ اللہ الغنی  اپنی مشہور زمانہ کتاب’’بہار شریعت‘‘   میں فرماتے ہیں:’’   ایمان و تصحیح عقائد مطابق مذہب اہل سنت و جماعت کے بعد نماز تمام فرائض میں نہایت اہم واعظم ہے۔ قرآن مجید و احادیث نبی کریم علیہ الصلوٰۃ والتسلیم اس کی اہمیت سے مالا مال ہیں ،جا بجا اس کی تاکید آئی اور اس کے تارکین پر وعید فرمائی ۔‘‘(بہار شریعت، جلد 1 ،حصہ  سوئم، ص ۴۳۳)

نَماز کس پر فرض ہے؟

ہر مسلمان عاقل بالغ مرد وعورت پر روزانہ پانچ وقت کی نمازفرض ہے۔ اس کی فرضیت (یعنی فرض ہونے)کا انکار کفر ہے۔ جو جان بوجھ کر ایک نماز ترک کرے وہ فاسق سخت گناہ گار وعذابِ نار کا حق دار ہے۔( فیضانِ نماز، ص  ۶)

نماز اور اس کی فضیلت

                             اللہ عَزَّ  وَجَلَّ ارشادفرماتاہے:

حٰفِظُوْا عَلَى الصَّلَوٰتِ وَ الصَّلٰوةِ الْوُسْطٰىۗ-وَ قُوْمُوْا لِلّٰهِ قٰنِتِیْنَ   (پ۲، البقرة: ۲۳۸)

ترجمۂ کنز الایمان: نگہبانی کرو سب نمازوں اور بیچ کی نماز کی اور کھڑے ہو اللہ کےحضور ادب سے۔

                             ایک مقام پرارشادہوتاہے:

وَ اَقِیْمُوا الصَّلٰوةَ وَ اٰتُوا الزَّكٰوةَ  (پ۱، البقرة: ۴۳)

 ترجمۂ کنز الایمان:  اور نماز قائم رکھو اور زکوٰۃ دو۔

                             ایک اورمقام پرارشادفرمایا:

اِنَّ الصَّلٰوةَ كَانَتْ عَلَى الْمُؤْمِنِیْنَ كِتٰبًا مَّوْقُوْتًا    (پ۵، النساء: ۱۰۳)

نماز کی ادائیگی کےلئے طہارت و پاکیزگی  کااہتمام:

یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْۤا اِذَا قُمْتُمْ اِلَى الصَّلٰوةِ فَاغْسِلُوْا وُجُوْهَكُمْ وَ اَیْدِیَكُمْ اِلَى الْمَرَافِقِ وَ امْسَحُوْا بِرُءُوْسِكُمْ وَ اَرْجُلَكُمْ اِلَى الْكَعْبَیْنِؕ-وَ اِنْ كُنْتُمْ جُنُبًا فَاطَّهَّرُوْاؕ-وَ اِنْ كُنْتُمْ مَّرْضٰۤى اَوْ عَلٰى سَفَرٍ اَوْ جَآءَ اَحَدٌ مِّنْكُمْ مِّنَ الْغَآىٕطِ اَوْ لٰمَسْتُمُ النِّسَآءَ فَلَمْ تَجِدُوْا مَآءً فَتَیَمَّمُوْا صَعِیْدًا طَیِّبًا فَامْسَحُوْا بِوُجُوْهِكُمْ وَ اَیْدِیْكُمْ مِّنْهُؕ-مَا یُرِیْدُ اللّٰهُ لِیَجْعَلَ عَلَیْكُمْ مِّنْ حَرَجٍ وَّ لٰكِنْ یُّرِیْدُ لِیُطَهِّرَكُمْ وَ لِیُتِمَّ نِعْمَتَهٗ عَلَیْكُمْ لَعَلَّكُمْ تَشْكُرُوْنَ  (پ۶، المآئدۃ: ۶)

 

ترجمۂ کنزُالعِرفان: اے ایمان والو! جب تم نماز کی طرف کھڑے ہونے لگو تو اپنے چہروں کو اور اپنے ہاتھ کہنیوں تک دھو لو اور سروں کا مسح کرو اور ٹخنوں تک پاؤ ں دھولو اور اگر تم بے غسل ہو تو خوب پاک ہوجاؤ اور اگر تم بیمار ہو یا سفر میں ہو یا تم میں سے کوئی بیتُ الخلاء سے آیا ہویا تم نے عورتوں سے صحبت کی ہواور ان صورتوں میں پانی نہ پاؤ توپاک مٹی سے تیمم کرلو تو اپنے چہروں اور ہاتھوں کا اس سے مسح کرلو۔ اللہ نہیں چاہتا کہ تم پر کچھ تنگی رکھے لیکن وہ یہ چاہتا ہے کہ تمہیں خوب پاک کردے اور اپنی نعمت تم پر پوری کردے تاکہ تم شکر ادا کرو۔

 ترجمۂ کنزالایمان: بےشک نمازمسلمانوں پروقت باندھاہوا فرض ہے۔

نمازکی ادائیگی کےلئے جماعت کی اہمیت:

ارشاد باری تعالی  ہے:

وَ اَقِیْمُوا الصَّلٰوةَ وَ اٰتُوا الزَّكٰوةَ وَ ارْكَعُوْا مَعَ الرّٰكِعِیْنَ (پ۱، البقرة: ۴۳)

ترجمۂ  کنزالعرفان:اور نماز قائم رکھو اور زکوٰۃ ادا کرو اور رکوع کرنے والوں کے ساتھ رکوع کرو۔

اس آیت کے تحت شیخ الحدیث و التفسیر مفتی محمد قاسم عطاری تفسیر صراط الجنان فی تفسیر القرآن میں فرماتے ہیں:’’ اس آیت میں جماعت کے ساتھ نماز اداکرنے کی ترغیب بھی ہے اور احادیث میں جماعت کے ساتھ نماز ادا کرنے کے کثیر فضائل بیان کئے گئے ہیں ،چنانچہ حضرت عبداللہ بن عمر رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہُمَاسے روایت ہے،نبیٔ اکرم  صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَسَلَّمَ  نے ارشاد فرمایا’’ جماعت کے ساتھ نماز پڑھنا تنہا پڑھنے سے ستائیس درجہ زیادہ فضیلت رکھتا ہے۔(بخاری،کتاب الاذان، باب فضل صلاۃ الجماعۃ،۱ / ۲۳۲، الحدیث: ۶۴۵)

حضرت عثمانِ غنی رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہُ کے غلام حضرت حمران رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہُ سے روایت ہے،حضور اقدس  صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَسَلَّمَ  نے ارشاد فرمایا: ’’جس نے کامل وضو کیا، پھر فرض نماز کے لیے چلا اور امام کے ساتھ نماز پڑھی، اس کے گناہ بخش دئیے جائیں گے۔‘‘ (شعب الایمان، باب العشرون من شعب الایمان وہو باب فی الطہارۃ، ۳ / ۹، الحدیث: ۲۷۲۷)

حضرت ابوہریرہ رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہُ سے روایت ہے،حضور پر نورصَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے ارشاد فرمایا: ’’جو اچھی طرح وضو کرکے مسجد کو جائے اورلوگوں کو اس حالت میں پائے کہ وہ نماز پڑھ چکے ہیں تو اللہ تعالٰی اسے بھی جماعت سے نمازپڑھنے والوں کی مثل ثواب دے گا اور اُن کے ثواب سے کچھ کم نہ ہوگا۔‘‘(ابو داؤد، کتاب الصلاۃ، باب فیمن خرج یرید الصلاۃ فسبق بھا، ۱ / ۲۳۴، الحدیث: ۵۶۴)                (تفسیر صراط الجنان  ، جلد 1 ، ص ۱۱۳،۱۱۴)

گھر والوں  کو نماز کا حکم دینا:

وَ اْمُرْ اَهْلَكَ بِالصَّلٰوةِ وَ اصْطَبِرْ عَلَیْهَاؕ-لَا نَسْــٴَـلُكَ رِزْقًاؕ-نَحْنُ نَرْزُقُكَؕ-وَ الْعَاقِبَةُ لِلتَّقْوٰى (پ۱۶، طٰہٰ:۱۳۲)

ترجمۂ کنزُالعِرفان: اور اپنے گھر والوں  کو نماز کا حکم دو اور خود بھی نماز پر ڈٹے رہو۔ ہم تجھ سے کوئی رزق نہیں  مانگتے (بلکہ) ہم تجھے روزی دیں  گے اور اچھاانجام پرہیزگاری کے لیے ہے۔ شیخ الحدیث و التفسیر حضرت علامہ مفتی محمد قاسم  عطاری قادر ی  صراط الجنان فی تفسیر القرآن  میں اس آیت کے تحت فرماتے ہیں:

ارشاد فرمایا کہ اے حبیب! صَلَّی  اللہ  تَعَالٰی  عَلَیْہِ  وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ، جس طرح ہم نے آپ کو نماز ادا کرنے کا حکم دیا اسی طرح آپ بھی اپنے گھر والوں  کو نماز پڑھنے کا حکم دیں  اور خود بھی نماز ادا کرنے پر ثابت قدم رہیں ۔( روح البیان، طہ، تحت الآیۃ: ۱۳۲، ۵ / ۴۴۸)

حضرت ابوسعید خدری رَضِیَ  اللہ  تَعَالٰی  عَنْہُ فرماتے ہیں ’’ جب یہ آیت کریمہ نازل ہوئی تونبی کریم صَلَّی  اللہ  تَعَالٰی  عَلَیْہِ  وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ آٹھ ماہ تک حضرت علی کَرَّمَ  اللہ  تَعَالٰی  وَجْہَہُ الْکَرِیْم کے دروازے پرصبح کی نمازکے وقت تشریف لاتے رہے اور فرماتے ’’اَلصَّلَاۃُ رَحِمَکُمُ اللّٰہُ،اِنَّمَا یُرِیْدُ اللّٰهُ لِیُذْهِبَ عَنْكُمُ الرِّجْسَ اَهْلَ الْبَیْتِ وَ یُطَهِّرَكُمْ تَطْهِیْرًا‘‘(ابن عساکر، حرف الطاء فی آباء من اسمہ علی، علی بن ابی طالب۔۔۔ الخ، ۴۲ / ۱۳۶)

نماز اور مسلمانوں  کا حال:

یاد رہے کہ اس خطاب میں  حضور پُر نور صَلَّی  اللہ  تَعَالٰی  عَلَیْہِ  وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کی امت بھی داخل ہے اور آپ صَلَّی  اللہ  تَعَالٰی  عَلَیْہِ  وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کے ہر امتی کو بھی یہ حکم ہے کہ وہ اپنے گھروالوں  کو نماز ادا کرنے کا حکم دے اور خود بھی نماز ادا کرنے پر ثابت قدم رہے ۔

ایک اور مقام پر  اللہ تعالیٰ ارشاد فرماتا ہے:

’’یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا قُوْۤا اَنْفُسَكُمْ وَ اَهْلِیْكُمْ نَارًا وَّ قُوْدُهَا النَّاسُ وَ الْحِجَارَةُ عَلَیْهَا مَلٰٓىٕكَةٌ غِلَاظٌ شِدَادٌ لَّا یَعْصُوْنَ اللّٰهَ مَاۤ اَمَرَهُمْ وَ یَفْعَلُوْنَ مَا یُؤْمَرُوْنَ ‘‘(التحریم:۶)

ترجمۂ کنزُالعِرفان: اے ایمان والو!اپنی جانوں  اور اپنے گھر والوں  کواس آگ سے بچاؤ جس کا ایندھن آدمی اور پتھر ہیں ، اس  پر سختی کرنے والے، طاقتور فرشتے مقرر ہیں  جو  اللہ کے حکم کی نافرمانینہیں  کرتے اور وہی کرتے ہیں  جو انہیں  حکم دیا جاتا ہے۔

افسوس! فی زمانہ نماز کے معاملے میں  مسلمانوں  کا حال یہ ہے کہ گھر والے نمازیں  چھوڑدیں  ، انہیں  ا س کی پرواہ  نہیں ۔خود کی نمازیں  ضائع ہو جائیں  ،انہیں  اس کی فکر نہیں  اورکوئی شخص نماز چھوڑنے پرانہیں  اُخروی حساب اور عذاب سے ڈرائے ،انہیں  اس کا احساس نہیں ۔ اللہ تعالیٰ انہیں  ہدایت عطا فرمائے اورنہ صرف خود نمازیں  ادا کرنے کی توفیق عطا فرمائے بلکہ اپنے گھر والوں  کو بھی نمازی بنانے کی ہمت و توفیق نصیب کرے،اٰمین۔

{لَا نَسْــٴَـلُكَ رِزْقًا: ہم تجھ سے کوئی رزق نہیں  مانگتے۔} ارشاد فرمایا کہ ہم تجھ سے کوئی رزق نہیں  مانگتے اور اس بات کا پابند نہیں  کرتے کہ ہماری مخلوق کو روزی دے یا اپنے نفس اور اپنے اہل کی روزی کے ذمہ دار ہو بلکہ ہم تجھے روزی دیں  گے اور انہیں  بھی ، تو روزی کے غم میں  نہ پڑ ،بلکہ اپنے دل کو امر ِآخرت کے لئے فارغ رکھ کہ جو  اللہ تعالیٰ کے کام میں  ہوتا ہے  اللہ تعالیٰ اس کی کارسازی کرتا ہے اور آخرت کا اچھاانجام پرہیزگاری اختیار کرنے والوں  کے لیے ہے۔( مدارک، طہ، تحت الآیۃ: ۱۳۲، ص۷۰۷-۷۰۸)

(صراط الجنان فی تفسیر القرآن ، جلد  ششم ، ص ۲۶۲۔۲۶۳)

 

ایمان کی نشانی:

حضورنبی رحمت، شفیْعِ امت صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم  کافرمانِ عالیشان ہے: نمازایمان کی نشانی ہے ، جس نے اپنے دل کو نمازکے لئے فارغ کیا اور اس کی حدود کی حفاظت کی تو وہ کامل  مومن ہے۔    

(مسندالفردوس،۲/ ۶۹،حدیث: ۳۹۲۰،دین ودنیاکی انوکھی باتیں، جلد۱ ، ص ۱۳)      

امیرالمؤمنین حضرت سیِّدُناعُمَر فارُوقِ اعظم  رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہ نےمنبرپرفرمایا: ایک شخص اسلام کی حالت میں بوڑھا تو ہوجاتا ہے لیکن اس کی نماز کامل نہیں ہوتی۔عرض کی گئی : وہ کیسے؟ ارشاد فرمایا: نہ تو وہ نماز کے رکوع و سجود کو کامل ادا کرتا ہے اور نہ ہی نماز میں خشوع وخضوع کا اہتمام کرتا ہے۔

(دین ودنیاکی انوکھی باتیں، جلد۱ ، ص ۱۳)

گناہوں کاکفارہ:

حضرت سیِّدُناابوطفیل رَحْمَۃُ اللہ تَعَالٰی عَلَیْہ  بیان کرتےہیں : میں نے امیرالمؤمنین حضرت سیِّدُناابوبکر صِدِّیق  رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہ کو فرماتےسناکہ اےلوگو! (اپنےگناہوں کےسبب لگائی ہوئی) آگ کی طرف اٹھواور (نماز کےذریعے) اسےبجھادوکہ میں نےرسولُاللہ صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم  کوارشادفرماتےسنا’’ اَلصَّلٰوۃُ اِلَی الصَّلٰوۃِ کَفَّارَۃٌ لِّمَابَیْنَہُمَامَااجْتُنِبَتِ الْکَبَائِرُ یعنی ایک نمازدوسری نمازتک کےدرمیانی گناہوں کے لئے کفارہ ہے جب تک کبیرہ گناہوں سے بچاجائے۔ ‘‘

(مسلم،كتاب الطهارة،باب الصلوات الخمس والجمعة...الخ،ص۱۴۴،حدیث:۲۳۳،عن ابی ھریرة، دین ودنیاکی انوکھی باتیں، جلد۱ ، ص ۱۵)

نَماز میں شِفا ہے

حضرت سیِّدُنا ابو ہُریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ ایک بار میں نماز پڑھ کرسرکارِ مدینہ صَلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم کے پاس بیٹھ گیا،آپ  صَلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم نے فرمایا:کیا تجھے پیٹ میں دَرد ہے؟ میں نے عر ض کی: جی ہاں ۔ فرمایا: قُمْ فَصَلِّ، فَاِنَّ فِی الصَّلَاۃِ شِفَآءً۔ یعنی ’’اُٹھو اور نماز پڑھو کیونکہ نماز میں شِفا ہے۔‘‘

 (ابن ماجہ ج۴ص۹۸حدیث ۳۴۵۸، فیضانِ نماز، ص  ۲۶)

نماز جیسے اہم فریضہ کی مکمل وضاحت ،اس کی شرائط ، اس کے فرائص ، واجبات، سنن اور نماز کے مکروہات وغیرہ  فقہا کرام نے اپنی اپنی کتابوں میں بڑی وضاحت کے ساتھ بیان  کیا ہے ۔دور حاضر  یعنی موجودہ دور میں نما ز کے احکامات سے متعلق اردو اور انگلش زبان میں سب سے آسان  انداز کے ساتھ ایک کتاب ’’ نما ز کے احکام ‘‘ مصنفہ حضرت  علامہ مولانا  محمد الیاس قادری رضوی  امیر اہلسنت  نے  مرتب کی ہے ۔یہ کتاب نماز سے متعلق  بہت آسان اور جامع کتا ب ہے   اس میں رکن اسلام  نماز سےمتعلق تقریبا سارے مسائل کا احاطہ کیا گیا ہے، یہ کتاب نماز سے متعلق  مطالعہ  کےلئے بہت مفید رہے گی۔اس کےعلاوہ  اس کتاب میں فرض نمازوں کےعلاوہ دیگر نوافل کے بارے میں بھی مفید معلومات درج کی گئیں ہیں۔