30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
اللّٰہ عَزَّوَجَلَّ کی رحمت بہت بڑی ہے جو مسلمان دنیا سے رخصت ہوجاتے ہیں ان کے لیے بھی اُس نے اپنے فضل و کرم کے دروازے کھلے ہی رکھے ہیں اور جو اُن کے لیے ایصالِ ثواب اور دعائے مغفرت کرتے ہیں تو اس کی بر کت سے بھی اللّٰہ عَزَّوَجَلَّ ان پر کرم فرماتاہے، آئیے اللّٰہ عَزَّوَجَلَّ کی کرم نوازی سے متعلق ایک حدیث مبارکہ ملاحظہ فرمائیے، چنانچہ
حضرت سَیِّدُنا ابوہریرہ رَضِیَاللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہسے مروی ہے، انہوں نے کہا کہ رسول اللّٰہ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے فرمایا ہے کہ بے شک اللّٰہ تعالیٰ ایک نیک بندے کا درَجہ جنت میں بلندفرمائے گاتووہ کہے گاکہ اے میرے رب! عَزَّوَجَلَّ کہاں سے یہ مرتبہ مجھ کوملا؟ تواللّٰہتعالیٰ فرمائے گاکہ تیرے بیٹے نے تیرے لیے مغفرت کی دعا مانگی ہے اس لیے تجھے یہ درَجہ ملا ہے۔(مشکاۃالمصابیح،کتاب الدعوات،باب الاستغفار و التوبۃ، ۱ / ۴۴۰، حدیث: ۲۳۴۵)
حضرت محمد طوسی معلّم رَحْمَۃُ اللّٰہِ تَعَالٰی عَلَیْہ
ابوبکر رشیدی رَحْمَۃُ اللّٰہِ تَعَالٰی عَلَیْہکہتے ہیں کہ میں نے حضرت محمد طوسی معلم رَحْمَۃُ اللّٰہِ تَعَالٰی عَلَیْہ کو خواب میں دیکھا تو انہوں نے فرمایا کہ ابوسعید صفَّار رَحْمَۃُ اللّٰہِ تَعَالٰی عَلَیْہ سے کہہ دینا کہ ہمارا تمہارا تو معاہدہ تھا کہ ہم ایک دوسرے کو نہیں بھولیں گے تو ہم تو نہیں بدلے مگر تم بدل گئے۔ میری آنکھ کھل گئی اور میں نے ابو سعید صفَّاررَحْمَۃُ اللّٰہِ تَعَالٰی عَلَیْہ سے اس خواب کا تذکرہ کیا تو انہوں نے کہا کہ کیا بتاؤں میں ہر جمعہ کو ان کی قبر کی زِیارت کے لیے جایا کرتا تھا اور کچھ ایصالِ ثواب کیا کرتا تھا لیکن اس جمعہ کو میں نہیں جاسکا اسی کی ان کو مجھ سے شکایت ہوگئی ہے۔ (احیاء علوم الدین،کتاب ذکر الموت وما بعدہ، الباب الثامن، بیان منامات المشائخ ،۵ / ۲۶۷)
ایصالِ ثواب یعنی قرآنِ مجید یا دُرُود شریف یا کلمہ طیبہ یا کسی نیک عمل کا ثواب دوسرے کو پہنچانا جائز ہے۔ عبادتِ مالیہ یا بدنیہ فرض و نفل سب کا ثواب دوسروں کو پہنچایا جاسکتا ہے، زندوں کے ایصالِ ثواب سے مردوں کو فائدہ پہنچتا ہے۔ (بہار شریعت،حصہ۱۶،۳ / ۶۴۲)
شیخ مُحِیُّ الدین ابن عر َبی رَحْمَۃُ اللّٰہِ تَعَالٰی عَلَیْہ فرماتے ہیں کہ مجھے حدیث پہنچی تھی کہ جو ستر ہزار بار کلمہ شریف پڑھ لے یا پڑھ کر کسی کو بخش دیا جائے تو اس کی مغفرت ہوتی ہے میں نے اتنا کلمہ پڑھ لیا تھا،ایک دن میرے ہاں دعوت میں ایک صاحب کشف جوان حاضر تھا اچانک رونے لگا،سبب پوچھا بولا کہ میں اپنی ماں کو دوزخ میں دیکھتا ہوں ،میں نے اپنے دل میں پڑھا ہوا وہ کلمہ اس کی ماں کو بخش دیا وہ جوان اچانک ہنس پڑا اور بولا کہ اب میں اسے جنت میں دیکھتا ہوں ،میں نے اس حدیث کی صِحَّت اس وَلی کے کشف سے معلوم کی اور اس کے کشف کی صِحَّت حدیث سے۔(مرقاۃ المفاتیح، کتاب الصلاۃ،باب ما علی الماموم۔۔۔الخ،الفصل الثانی،۳ / ۲۲۲،تحت حدیث۱۱۴۲) لہٰذاستر ہزار بار کلمہ طیبہ کا ختم کرکے اپنے مرحوم عزیز کو ایصالِ ثواب کیجئے!
آئیے امیر اہلسنّت دَامَتْ بَرَکَاتُہُمُ الْعَالِیَۃکے رسالے ’’ایصالِ ثواب اور فاتحہ کا طریقہ‘‘ سے ایصالِ ثواب کے مدنی پھول (کچھ ترمیم کے ساتھ) ملاحظہ فرمائیے:
’’ا للّٰہکی رحمت کے کیا کہنے! ‘‘ کے اُنیس حروف کی نسبت سے ایصالِ ثواب کے 19مَدَنی پھول
٭ ایصالِ ثواب کے لفظی معنی ہیں : ’’ ثواب پہچانا ‘‘اِ س کو’’ ثواب بخشنا ‘‘بھی کہتے ہیں مگر بزرگوں کیلئے ’’ثواب بخشنا‘‘ کہنا مناسب نہیں ،’’ثواب نذر کرنا‘‘ کہنا ادب کے زیادہ قریب ہے۔امام اَحمد رَضا خان عَلَیْہِ رَحْمَۃُ الرَّحْمٰن فرماتے ہیں : حضورِاَقدس عَلَیْہِ اَفْضَلُ الصَّلٰوۃِوَالتَّسْلِیْمخواہ اورنبی یاولی کو ’’ثواب بخشنا ‘‘کہنابے اَدَبی ہے کہ بخشنا بڑے کی طرف سے چھوٹے کوہوتاہے بلکہ نذر کرنایاہدیَّہ کرناکہے۔ (فتاویٰ رضویہ ، ۲۶ / ۶۰۹)
٭ فرض، واجب، سنت، نفل، نماز، روزہ، زکوٰۃ، حج، تلاوت، نعت شریف، ذِکْرُاللّٰہ، درود شریف،بیان،درس،مدنی قافلے میں سفر،مدنی انعامات، علاقائی دورہ برائے نیکی کی دعوت،دینی کتاب کا مطالَعہ، مدنی کاموں کیلئے انفرادی کوشش وغیرہ ہر نیک کام کا ایصالِ ثواب کرسکتے ہیں ۔
٭ میّت کا تیجہ، دسواں ،چالیسواں اور برسی کرنا بہت اچھے کام ہیں کہ یہ ایصال ثواب کے ہی ذرائع ہیں ۔ شریعت میں تیجے وغیرہ کے عَدْمِ جواز(یعنی ناجائزہونے) کی دلیل نہ ہونا خود دلیل جواز (جائزہونے کی دلیل)ہے اور میّت کیلئے زندوں کا دعا کرناقرآنِ کریم سے ثابت ہے جو کہ ایصالِ ثواب کی اصل ہے۔ چنانچہ پارہ28، سورۃُ الحشر، آیت10 میں ارشادِ رَبُّ الْعِبَاد ہے:
وَ الَّذِیْنَ جَآءُوْ مِنْۢ بَعْدِهِمْ یَقُوْلُوْنَ رَبَّنَا اغْفِرْ لَنَا وَ لِاِخْوَانِنَا الَّذِیْنَ سَبَقُوْنَا بِالْاِیْمَانِ
ترجمۂ کنزالایمان:اور وہ جواُن کے بعد آئے عرض کرتے ہیں اے ہمارے رب ہمیں بخش دے اور ہمارے بھائیوں کو جو ہم سے پہلے ایمان لائے۔
٭ تیجے وغیرہ کا کھانا صرف اِسی صورت میں میت کے چھوڑے ہوئے مال سے کرسکتے ہیں جبکہ سارے وُرَثا بالغ ہوں اور سب کے سب اجازت بھی دیں اگر ایک بھی وارِث نابالغ ہے توسخت حرام ہے۔ ہاں بالغ اپنے حصے سے کرسکتا ہے۔ ( فتاوی خانیۃ، کتاب الحظر و الاباحۃ، ۴ / ۳۶۶ وفتاوی رضویہ، ۹ / ۶۶۴ وبہار شریعت، حصہ۴، ۱ / ۸۵۳ ملخصاً)
٭ تیجے کا کھاناچونکہ عموماً دعوت کی صورت میں ہوتا ہے اِس لئے اَغنیا کے لئے جائز نہیں صرْف غربا و مساکین کھائیں ، تین دن کے بعد بھی میت کے کھانے سے اَغنیا (یعنی جو فقیر نہ ہوں اُن) کوبچنا چاہئے۔ فتاویٰ رضویہ جلد9 صفحہ667 سے میّت کے کھانے سے متعلق ایک مفید سوال جواب ملاحظہ ہوں ، سوال: مقولہ طَعَامُ الْمَیِّتِ یُمِیْتُ الْقَلْب(میّت کا کھانا دل کو مردہ کر دیتا ہے) مستند قول ہے، اگر مستند ہے تو اس کے کیا معنی ہیں ؟
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع