30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
حضورشَفِیْعُ الْمُذْنِبِیْن صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَسَلَّمفرماتے ہیں : ( ( شَفَاعَتِيْ لِمَنْ شَهِدَ أَنْ لَا إِلٰهَ إِلَّا اللہُ مُخْلِصًا يُصَدِّقُ قَلْبُه لِسَانَه) ) ( [1]) میری شفاعت ہر کلمہ گو کے لیے ہے جو سچے دل سے کلمہ پڑھے کہ زبان کی تصدیق دل کرتا ہو ۔
حدیث ۱۳ :
احمد ، طبرانی وبزار حضرت مُعاذ بن جبل و حضرت ابو موسیٰ اَشعری رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ سے راوی ، حضورشَفِیْعُ الْمُذْنِبِیْنصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَسَلَّمفرماتے ہیں : ( ( أَنَّهَا أَوْسَعُ لَهُمْ وَهِیَ لِمَنْ مَاتَ وَلَا يُشْرِكُ بِاللہِ شَيْئًا) ) ( [2]) شفاعت میں امت کے لیے زیادہ وُسعت ہے کہ وہ ہر شخص کے واسطے ہے جو اللہ تعالیٰ کے ساتھ کسی کو شریک نہ ٹھہرائے یعنی جس کا خاتمہ ایمان پر ہو ۔
حدیث ۱۴ :
طبرانی ’’معجم اَوسط‘‘ میں حضرت ابوہریرہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ سے راوی ، حضور شَفِیْعُ الْمُذْنِبِیْن صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَسَلَّمفرماتے ہیں : ( ( آتِیْ جَهَنَّمَ فَأَضْرِبُ بَابَهَا فَيُفْتَحُ لِیْ فَأَدْخُلُهَا فَأَحْمَدُ اللہَ مَحَامِدَ مَا حَمِدَهٗ أَحَدٌ قَبْلِيْ مِثْلَهَا وَلَا يَحْمَدُ أَحَدٌ بَعْدِيْ ثُمَّ أُخْرِجُ مِنْهَا مَنْ قَالَ : لَا اِلٰهَ إِلَّا الله) ) ، ملخّصاً ( [3]) ۔ میں جہنم کا دروازہ کھلوا کر تشریف لے جاؤں گا وہاں خُدا کی تعریف کروں گا ، ایسی نہ مجھ سے پہلے کسی نے کی ، نہ میرے بعد کوئی کرے پھر دوزخ سے ہر اس شخص کو نکال لوں گا جس نے خالص دل سے لَا اِلٰهَ إِلَّا الله کہا ۔ ( خلاصَۂ حدیث ۔ ت)
حدیث ۱۵ :
حاکم بافادۂ تصحیح اور طبرانی و بیہقی حضرت عبداللہ بن عباس رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ سے راوی ، حضورشَفِیْعُ الْمُذْنِبِیْنصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَسَلَّم فرماتے ہیں : ( ( يُوْضَعُ لِلْاَنْبِيَاءِ مَنَابِرُ مِنْ ذَهَبٍ فَيَجْلِسُوْنَ عَلَيْهَا وَيَبْقٰی مِنْبَرِيْ لَا أَجْلِسُ عَلَيْهِ أَوْ لَا أَقْعُدُ عَلَيْهِ قَائِمًا بَيْنَ يَدَيْ رَبِّي مَخَافَةَ أَنْ يُبْعَثَ بِیْ إِلَی الْجَنَّةِ وَيَبْقٰی أُمَّتِيْ بَعْدِيْ فَأَقُوْلُ : يَارَبِّ أُمَّتِيْ أُمَّتِيْ فَيَقُوْلُ اللہُ عَزَّوَجَلَّ : يَا مُحَمَّدُ مَا تُرِيْدُ أَنْ أَصْنَعَ بِأُمِّتِكَ؟ فَأَقُوْلُ : يَا رَبِّ عَجِّلْ حِسَابَهُمْ فَمَا أَزَالُ أَشْفَعُ حَتّٰی أُعْطٰی صِکَاکًا بِرِجَالٍ قَدْ بُعِثَ بِهِمْ إِلَی النَّارِ حَتّٰی أَنَّ مَالِکاً خَازِنَ النَّارِ يَقُوْلُ : يَا مُحَمَّدُ مَا تَرَکْتَ لِغَضَبِ رَبِّكَ فِیْ أُمَّتِكَ مِنْ نِقْمَةٍ) ) ( [4])
انبیا کے لیے سونے کے منبر بچھائیں گے وہ ان پر بیٹھیں گے ، اور میرا منبر باقی رہے گا کہ میں اس پر جلوس نہ فرماؤں گا ( [5]) بلکہ اپنے رب کے حُضور سَر وقَد( [6]) کھڑا رہوں گا اس ڈر سے کہ کہیں ایسا نہ ہو مجھے جنّت میں بھیج دے اور میری امّت میرے بعد رہ جائے ، پھر عرض کروں گا : اے رب میرے ! میری امّت ، میری امّت ۔ اللہ تعالیٰ فرمائے گا : اے محمد ! تیری کیا مرضی ہے میں تیری امّت کے ساتھ کیا کروں؟ عرض کروں گا : اے رب میرے ! اِن کا حساب جلد فرمادے ۔ پس میں شفاعت کرتا رہوں گا یہاں تک کہ مجھے اُن کی رہائی کی چٹھیاں ملیں گی جنہیں دوزخ بھیج چکے تھے یہاں تک کہ مالک داروغَۂ دوزخ( [7]) عَرْض کرے گا : اے محمد ! آپ نے اپنی اُمت میں رب کا غضب نام کو نہ چھوڑا( [8]) ۔
[1] مستدرک حاکم ، کتاب الایمان ، شفاعتی لمن شھد ان لا الہ الا اللہ ... الخ ، ۱/۲۴۸ ، حدیث : ۲۴۱ ۔
[2] مسند امام احمد ، مسند الکوفیین ، حدیث ابی موسی الاشعری ، ۷/۱۷۰ ، حدیث : ۱۹۷۴۵ ۔
معجم کبیر ، ۲۰/۱۶۳ ، حدیث : ۳۴۳ ، ۳۴۲ ۔
مسند البزار ، مسند معاذ بن جبل ، ۷/۱۱۹ ، حدیث : ۲۶۷۴ ۔
[3] معجم اوسط ، ذکر من اسمہ علی ، ۳/۵۳ ، حدیث : ۳۸۴۵ ۔
[4] مستدرک حاکم ، کتاب الایمان ، للانبیاء منابر من ذھب ، ۱/۲۴۲ ، حدیث : ۲۲۸ ۔
معجم اوسط ، ذکر من اسمہ ابراھیم ، ۲/۱۷۸ ، حدیث : ۲۹۳۷ ۔
[5] نہ بیٹھوں گا ۔
[6] سیدھا ۔
[7] جہنم پر مقرر فرشتہ حضرت مالک عَلَیْہِ السَّلَام ۔
[8] یعنی اپنی امت کے معاملے میں آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَسَلَّمنے اپنے رب عَزَّوَجَلَّ کے غضب کو بجھا دیا ہے ۔