30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
( [1]) ، اِنہی کے دَر سے بے یاروں کا نِباہ( [2]) ہے ، نہ جس طرح ایک بد مذہب کہتا ہے کہ جس کو چاہے گا اپنے حکم سے شَفِیْع بنادے گا ۔ یہ حدیثیں ظاہر کریں گی کہ ہمیں خدا اور رَسول نے کان کھول کر ’’شَفِیْع‘‘ کا پیارا نام بتادیا اور صاف فرمایا کہ وہ مُحَمَّدٌ رَّسُوْلُ اﷲ ہیں( صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَسَلَّم) نہ یہ کہ بات گول( [3]) رکھی ہو جیسے ایک بدبخت کہتا ہے کہ اُسی کے اختیار پر چھوڑ دیجئے جس کو وہ چاہے ہمارا شفیع کردے ۔
یہ حدیثیں مُژدہ جانفزا( [4]) دیں گی کہ حضور کی شفاعت نہ اس کے لیے ہے جس سے اتّفاقاً گناہ ہوگیا ہو اور وہ اس پر ہر وقت نادم و پریشان و تَرساں ولَرزاں( [5]) ہے جس طرح ایک دُزد ِباطن( [6]) کہتا ہے کہ چور پر تو چوری ثابت ہوگئی مگر وہ ہمیشہ کا چور نہیں اور چوری کو اس نے کچھ اپنا پیشہ نہیں ٹھہرایا مگر نفس کی شامت سے قُصُور ہوگیا( [7]) سواُس پر شرمندہ ہے اور رات دن ڈرتا ہے ۔ نہیں نہیں اُن کے رب کی قسم ! جس نے اُنہیں شَفِیْعُ الْمُذْنِبِیْنکیا ۔ اُن کی شفاعت ہم جیسے رُوسِیاہوں( [8]) ، پُرگناہوں( [9]) ، سیاہ کاروں( [10]) ستم گاروں( [11]) کے لیے ہے جن کا بال بال گناہ میں بندھا ہے جن کے نام سے گناہ بھی ننگ وعار( [12]) رکھتا ہے ۔ ع
ترسم آلودہ شَوَد دامنِ عصیاں اَز مَن
( میں ڈرتا ہوں کہ گناہوں کا دامن میری وجہ سے آلودہ ہوجائے گا ۔ ت)
وَحَسْبُنَا اللہُ تَعَالٰی وَنِعْمَ الْوَکِيْلُ وَالصَّلٰوةُ وَالسَّلَامُ عَلَی الشَّفِيْعِ الْجَمِيْلِ وَعَلٰی اٰلِهٖ وَصَحْبِهٖ بِأُلُوْفِ التَّبْجِيْلِ وَالْحَمْدُ لِلہِ رَبِّ الْعٰلَمِيْن.
( اور اللہتعالیٰ ہمارے لیے کافی ہے اور کیا ہی خوب کار ساز ہے اور دُرود و سلام نازل ہوں جمال والے شفیع پر اور ان کے آل و اصحاب پر ہزاروں تعظیم و تکریم کے ساتھ اور تمام تعریفیں اللہ کے لیے ہیں جو سب جہانوں کا پروردگار ہے ۔ ت)
حدیث ۱ و۲ :
امام احمد بسندِ صحیح اپنی ’’مسند‘‘ میں حضرت عبداللہ بن عمر رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُمَا سے اور ابنِ ماجہ حضرت ابوموسٰی اَشعری رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ سے راوِی ، حضور شَفِیْعُ الْمُذْنِبِیْن صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَسَلَّم فرماتے ہیں : ( ( خُيِّرْتُ بَيْنَ الشَّفَاعَةِ وَبَيْنَ أَنْ يَّدْخُلَ نِصْفُ أُمَّتِي الْجَنَّةَ فَاخْتَرْتُ الشَّفَاعَةَ لِأَنَّها أَعَمُّ وَأَکْفٰی أَتَرَوْنَهَا لِلْمُتَّقِيْنَ؟ ! لَا وَلٰکِنَّهَا لِلْمُذْنِبِيْنَ الْخَطَّائِيْنَ الْمُتَلَوِّثِيْنَ) ) ( [13])
اللہ تعالیٰ نے مجھے اختیار دیا کہ یا تو شفاعت لو یا یہ کہ تمہاری آدھی امّت جنت میں جائے ، میں نے شفاعت لی کہ وہ زیادہ تمام اور زیادہ کام آنے والی ہے ، کیا تم یہ سمجھ لیے ہو کہ میری شفاعت پاکیزہ مسلمانوں کے لیے ہے ؟ نہیں بلکہ وہ اُن گنہگاروں کے واسطے ہے جو گناہوں میں آلودہ اور سخت خطا کار ہیں ۔
[1] یعنی حضورصَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّم کی بارگاہ ہی بے سہاروں کا سہارا ہے ۔
[2] گزارا ۔
[3] مبہم ، غیر واضح ۔
[4] دل خوش کردینے والی بشارت ۔
[5] خوف زدہ ۔
[6] دل کا چور ۔
[7] خطا ہوگئی ۔
[8] ذلیلوں ۔
[9] گناہوں میں ملوث ۔
[10] بدکاروں ۔
[11] ظالموں ۔
[12] شرم ۔
[13] مسند امام احمد ، مسند عبد اﷲ بن عمر ، ۲/۳۶۶ ، حدیث : ۵۴۵۳ ، ابن ماجہ ، کتاب الزھد ، باب ذکر الشفاعۃ ، ۴/۵۲۴ ، حدیث : ۴۳۱۱ ۔