30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
فرماتے ہیں : ( ( شَفَاعَتِي يَوْمَ الْقِيَامَةِ حَقٌّ فَمَنْ لَمْ يُؤْمِنْ بِهَا لَمْ يَکُنْ مِنْ أَهْلِهَا) ) ( [1]) میری شفاعت روزِ قیامت حق ہے جو اس پر ایمان نہ لائے گا اس کے قابل نہ ہوگا ۔
مُنْکِرمسکین( [2]) اس حدیثِ مُتَواتر( [3]) کو دیکھے اور اپنی جان پر رحم کرکے شفاعتِ مصطفیٰ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَسَلَّم پر ایمان لائے ۔
اَللهم إِنَّكَ تَعْلَمُ هَدَيْتَ فَاٰمَنَّا بِشَفَاعَةِ حَبِيْبِكَ مُحَمَّدٍ صَلَّی اللهُ تَعَالٰی عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَاجْعَلْنَا مِنْ أَهْلِهَا فِی الدُّنْيَا وَالْآخِرَةِ يَا أَهْلَ التَّقْوٰی وَاَهْلَ الْمَغْفِرَةِ وَاجْعَلْ أَشْرَفَ صَلَوَاتِكَ وَأَنْمٰی بَرَکَاتِكَ وَأَزْکٰی تَحِيَّاتِكَ عَلٰی هٰذَا الْحَبِيْبِ الْمُجْتَبٰی وَالشَّفِيْعِ الْمُرْتَجٰی وَعَلٰی اٰلِهٖ وَصَحْبِهٖ دَائِمًا أَبَدًا ، آمِيْن يَا أَرْحَمَ الرَّاحِمِيْنَ وَالْحَمْدُ لِلہِ رَبِّ الْعٰلَمِيْن.
( اے اللہ عَزَّوَجَلَّ ! تو جانتا ہے ، بے شک تو نے ہدایت عطا فرمائی ہے تو ہم تیرے حبیب محمدِ مصطفیٰ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَسَلَّم کی شفاعت پر ایمان لائے ہیں ۔ اے اللہ ! تو ہمیں دُنیا وآخرت میں لائِقِ شفاعت بنادے ۔ اے تقویٰ ومغفرت والے ! اپنا افضل درود ، اکثر بَرکات اور پاکیزہ تحیات بھیج اُس منتخب محبوب پر جن کی شفاعت کی امید کی جاتی ہے اور ان کی آل اور اصحاب پر ہمیشہ ہمیشہ کے لیے ۔ اے بہترین رحم فرمانے والے ! ہماری دُعا کو قبول فرما ۔ اور تمام تعریفیں اللہ تعالیٰ کے لیے ہیں جو سب جہانوں کا پَروَرْدگار ہے ۔ ت)
|
القراٰن الكريم |
كلامِ بارى تعالىٰ |
||
|
كتاب |
ناشر و سنِ اشاعت |
کتاب |
ناشر و سنِ اشاعت |
|
كنزالايمان |
مکتبۃ المدینہ باب المدینہ |
صحيح ابن حبان |
دار الکتب العلمیہ بیروت ، ۱۴۱۷ھ |
|
مصنف عبد الرزاق |
دار الکتب العلمیہ بیروت ، ۱۴۲۱ھ |
الكامل لابن عدی |
دار الکتب العلمیہ بیروت ، ۱۴۱۸ھ |
|
مصنف ابن ابی شیبہ |
دار قرطبہ بیروت ، ۱۴۲۷ھ |
مستدرك حاكم |
دار المعرفۃ بیروت ، ۱۴۱۸ھ |
|
مسند احمد |
دار الفکر بیروت ، ۱۴۱۴ھ |
حلیۃ الاولياء |
دار الکتب العلمیہ بیروت ، ۱۴۱۹ھ |
|
سنن دارمی |
دار الکتاب العربی بیروت ، ۱۴۰۷ھ |
سنن كبری |
دار الکتب العلمیہ بیروت ، ۱۴۲۴ھ |
|
صحيح البخارى |
دار الکتب العلمیہ بیروت ، ۱۴۱۹ھ |
شعب الایمان |
دار الکتب العلمیہ بیروت ، ۱۴۲۱ھ |
|
صحيح مسلم |
دار الکتاب العربی بیروت ، ۱۴۲۷ھ |
تاريخ بغداد |
دار الکتب العلمیہ بیروت ، ۱۴۱۷ھ |
|
سنن ابن ماجہ |
دار المعرفہ بیروت ، ۱۴۲۰ھ |
مسند الفردوس |
دار الکتب العلمیہ بیروت ، ۱۴۰۶ھ |
|
سنن ابی داود |
دار احیاء التراث العربی۱۴۲۱ھ |
الشفا |
مرکز اہل سنت برکات رضا ، ۱۴۲۳ھ |
|
سنن ترمذی |
دار الفکر ، بیروت۱۴۱۲ھ |
المطالب العالیہ |
دار الکتب العلمیہ بیروت ، ۱۴۲٤ھ |
|
مسند البزار |
مکتبۃ العلوم والحکم مدینہ ، ۱۴۲۴ھ |
جامع صغير |
دار الکتب العلمیہ بیروت ، ۱۴۲۵ھ |
|
سنن نسائى |
دار الکتب العلمیہ بیروت ، 2009ء |
شرح زرقانی علی المواہب |
دار الکتب العلمیہ بیروت ، ۱۴۱۷ھ |
|
معجم كبير |
دار احیاء التراث العربی ، ۱۴۲۲ھ |
تیسیر مصطلح الحدیث |
مکتبہ المدینہباب المدینہ ، ۱۴۳۶ھ |
|
معجم اوسط |
دار الکتب العلمیہ بیروت ، ۱۴۲۰ھ |
نصاب اصول حدیث |
مکتبہ المدینہباب المدینہ ، ۱۴۳۰ھ |
[1] جامع صغیر ، حرف الشین ، ص۳۰۱ ، حدیث : ۴۸۹۶ ( عن ابن منیع) ۔
المطالب العالیۃ ، کتاب الفتن ، باب الشفاعۃ ، ۸/ ۶۹۱ ، حدیث : ۴۵۵۵ ۔
[2] یعنی انکار کرنے والا بے چارہ ۔
[3] حدیثِ متواتر : وہ حدیث جس کو سَنَد کے ہر طبقہ میں راویوں کی اتنی بڑی تعداد روایت کرے جس کا جھوٹ پر متفق ہونا عقلاً محال ہو اور سند کی انتہاء اَمرِحِسِّی پر ہو ۔ حدیث کے درجۂ تواتر تک پہنچنے کیلئے چار شرائط ہیں : ( 1) حدیث کے راوی کثیر ہوں ۔ ( 2) یہ کثرت سند کے تمام طبقات میں پائی جائے یعنی ابتداء سے انتہاء تک راوی کثیر ہوں ۔ ( 3) یہ کثرت اس درجہ کی ہوکہ عادۃً یا اتفاقاً اُن کا جھوٹ پر متفق ہونا محال ہو ۔ ( 4) سند کی انتہاء امرِ حسی پر ہو ۔ ( نصاب اصول حدیث ، ص۳۱)