30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
سِی جانتا ہے ( [1]) ، کوئی اُن کی تعظیم پر بگڑ کرکَرَّاتا( [2]) ہے ۔ اَفعالِ محبت کا بدعت نام ، اِجْلال واَدَب پر شرک کے اَحکام( [3]) ، اِنَّا لِلّٰهِ وَ اِنَّاۤ اِلَیْهِ رٰجِعُوْنَ وَ سَیَعْلَمُ الَّذِیْنَ ظَلَمُوْۤا اَیَّ مُنْقَلَبٍ یَّنْقَلِبُوْنَ وَلَا حَوْلَ وَلَا قُوَّةَ اِلَّا بِاﷲِ الْعَلِیِّ الْعَظِيْم ( بے شک ہم اللہ تعالیٰ کے لیے ہیں اور ہم کو اُسی کی طرف لوٹنا ہے ، عنقریب ظالم جان لیں گے کہ کس کروٹ پر پلٹتے ہیں اور اللہ بلند و عظیم کی توفیق کے بغیر نہ تو گناہ سے بچنے کی طاقت ہے اور نہ ہی نیکی کرنے کی قوت ۔ ت)
حدیث ۲۴ :
’’صحیح مسلم‘‘ میں حضرت اُبَی بن کعب رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ سے مَرْوِی ، حضور شَفِیْعُ الْمُذْنِبِیْن صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَسَلَّمفرماتے ہیں : اللہ تعالیٰ نے مجھے تین سوال عطا فرمائے ، میں نے دو بار تو دنیامیں عرض کرلی : ( ( اَللّٰهُمَّ اغْفِرْ لِأُمَّتِي اَللّٰهُمَّ اغْفِرْ لِأُمَّتِي) ) الٰہی ! میری اُمت کی مغفرت فرما ، الٰہی ! میری اُمت کی مغفرت فرما ۔ ( ( وَأَخَّرْتُ الثَّالِثَةَ لِيَوْمٍ يَرْغَبُ إلَیَّ فِيْهِ الْخَلْقُ حَتّٰی إِبْرَاهِيْم) ) ( [4]) اور تیسری عرض اُس دن کے لیے اُٹھا رکھی( [5]) جس میں مخلوقِ الٰہی میری طرف نیاز مند( [6]) ہوگی یہاں تک کہ ابراہیم خلیلُ اللہ عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام ۔
وَصَلِّ وَسَلِّمْ وَبَارِكْ عَلَيْهِ وَالْحَمْدُ لِلہِ رَبِّ الْعٰلَمِيْن ( اور دُرود و سلام و برکت نازل فرما اُن پر اور تمام تعریفیں اللہ تعالیٰ کے لیے ہیں جو سب جہانوں کا پروردگار ہے ۔ ت)
حدیث ۲۵ :
بیہقی حضرت ابوہریرہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ سے راوی ، حضور شَفِیْعُ الْمُذْنِبِیْن صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَسَلَّم نے شبِ اَسریٰ اپنے ربّ سے عرض کی : تو نے انبیاء عَلَیْہِمُ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلامکو یہ یہ فضائل بخشے ، رب عَزَّ مَجْدُہٗ نے فرمایا : ( ( أَعْطَيْتُكَ خَيْرًا مِنْ ذٰلِكَ -اِلٰی قَوْلِهٖ : -خَبَأْتُ شَفَاعَتَكَ وَلَمْ أَخْبَأْهَا النَّبِيَّ غَيْرَكَ) ) ( [7]) میں نے تجھے جو عطا فرمایا وہ ان سب سے بہتر ہے ، میں نے تیرے لیے شفاعت چھپا رکھی اور تیرے سوا دوسرے کو نہ دی ۔
حدیث ۲۶ :
ابنِ ابی شیبہ و ترمذی بافادۂ تحسین وتصحیح اور ابنِ ماجہ و حاکم بحکمِ تصحیح حضرت اُبَی بن کعب رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ سے راوی حُضور شَفِیْعُ الْمُذْنِبِیْن صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَسَلَّم فرماتے ہیں : ( ( إِذَا کَانَ يَوْمُ الْقِيَامَةِ کُنْتُ إِمَامَ النَّبِيِّيْنَ وَخَطِيْبَهُمْ وَصَاحِبَ شَفَاعَتِهِمْ غَيْرَ فَخْرٍ) ) ( [8]) قیامت کے دن میں انبیاء کا پیشوااور ان کا خطیب اور ان کا شفاعت والا ہوں اور یہ کچھ فخر کی راہ سے ( [9]) نہیں فرماتا ۔
حدیث ۲۷ تا ۴۰ :
ابنِ مَنِیع حضرت زید بن اَرقم وغیرہ چودہ صحابَۂ کرام رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُمْسے راوی ، حضرت شَفِیْعُ الْمُذْنِبِیْن صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَسَلَّم
[1] اپنی جیسی سمجھتا ہے ۔
[2] شورکرتا ۔
[3] یعنی عشقِ رسول میں انجام دئیے جانے والے کاموں کو بدعت اور آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَسَلَّم کی تعظیم وادب بجالانے کومَعَاذَ اللہ شرک قرار دینا ۔
[4] مسلم ، کتاب صلاۃ المسافرین ، باب بیان انّ القرآن علی سبعۃ ... الخ ، ص۳۱۸ ، حدیث : ۱۹۰۴ ۔
[5] باقی رکھی ۔
[6] محتاج ۔
[7] الشفا ، الباب الثالث ، الفصل الاول ، ص۱۷۰ ، الجزء الاول ( عن ابن وھب ) ۔
[8] مصنف ابن ابی شیبہ ، کتاب الفضائل ، ما اعطی اللہ محمداً صلی اللہ علیہ وسلم ، ۱۶/۳۸۷ ، حدیث : ۳۲۲۹۷ ۔
ترمذی ، کتاب المناقب ، باب ما جاء فی فضل النبی ، ۵/۳۵۳ ، حدیث : ۳۶۳۳ ۔
ابن ماجہ ، کتاب الزھد ، باب ذکر الشفاعۃ ، ۴/۵۲۷ ، حدیث : ۴۳۱۴ ۔
مستدرک حاکم ، کتاب الایمان ، اذا کان یوم القیامۃ ... الخ ، ۱/۲۵۱ ، حدیث : ۲۴۹ ۔
[9] یعنی بطورِ فخر ۔