30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
تَعَالٰی عَنْہُ والی حدیث کے الفاظ کی طرف رجوع کرتے ہیں ، باقی راویوں کے الفاظ معنیٰ کے اعتبار سے اُن ہی کی مِثل ہیں ۔ سرکارِ دو عالَم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَسَلَّم نے فرمایا : ”میں نے اپنی دعا کو قیامت کے دن اپنی امّت کی شفاعت کے لیے بچا رکھا ہے ۔ “ ابو موسٰی نے اپنی روایت میں ان الفاظ کا اضافہ کیا کہ میں ہر اُس امّتی کے لیے شفاعت کروں گا جو اس حال پر مَرا کہ اللہ تعالیٰ کے ساتھ کسی کو شریک نہیں ٹھہراتا تھا ۔ ت)
یعنی انبیاء عَلَیْہِمُ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کی اگرچہ ہزاروں دُعائیں قَبول ہوتی ہیں مگر ایک دُعا انہیں خاص جناب باری تَبَارَک وَ تَعَالٰی سے ملتی ہے کہ جو چاہے مانگ لو بے شک دیا جائے گا ۔ تمام انبیاء آدم سے عیسٰی( عَلَیْہِمُ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام) تک سب اپنی اپنی وہ دُعا دنیا میں کرچکے اور میں نے آخرت کے لیے اٹھا رکھی ، وہ میری شفاعت ہے میری امّت کے لیے قیامت کے دن ، میں نے اسے اپنی ساری امت کے لیے رکھا ہے جو ایمان پر دنیا سے اُٹھی ۔ اَللهم ارْزُقْنَا بِجَاهِهٖ عِنْدَكَ آمِيْن ! ( اے اللہ عَزَّوَجَلَّ ! ہمیں ان کی اِس وجاہت کے صدقے میں عطا فرما جو اُن کو تیری بارگاہ میں حاصل ہے ۔ ت)
اللہ اکبر ! اے گنہگارانِ اُمّت ! کیا تم نے اپنے مالک و مولیٰ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَسَلَّم کی یہ کمالِ رأفت و رحمت اپنے حال پر نہ دیکھی( [1]) کہ بارگاہِ الٰہی عَزَّجَلَالُہٗ سے تین سوال حضور کو ملے کہ جو چاہو مانگ لو عطا ہوگا ۔ حضور نے ان میں کوئی سوال اپنی ذاتِ پاک کے لیے نہ رکھا ، سب تمہارے ہی کام میں صَرف فرمادیئے ، دو سوال دنیا میں کیے وہ بھی تمہارے ہی واسطے ، تیسرا آخرت کو اٹھا رکھا( [2]) ، وہ تمہاری اس عظیم حاجت کے واسطے جب اس مہربان مولیٰ رؤف و رحیم آقا صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَسَلَّم کے سوا کوئی کام آنے والا ، بگڑی بنانے والا نہ ہوگا( صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَسَلَّم) ۔ حق فرما یا حضرت حق عَزَّوَجَلَّ نے :
عَزِیْزٌ عَلَیْهِ مَا عَنِتُّمْ حَرِیْصٌ عَلَیْكُمْ بِالْمُؤْمِنِیْنَ رَءُوْفٌ رَّحِیْمٌ( ۱۲۸) ( پ۱۱ ، توبه : ۱۲۸)
ترجمۂ کنزالایمان : جن پر تمہارا مشقت میں پڑنا گِراں ہے تمہاری بھلائی کے نہایت چاہنے والے مسلمانوں پر کمال مہربان مہربان ۔
وَاللہِ الْعَظِيْم ! قسم اُس کی جس نے انہیں آپ پر مہربان کیا ہر گز ہر گز کوئی ماں اپنے عزیز پیارے اکلوتے بیٹے پر زِنْہار( [3]) اتنی مہربان نہیں جس قدر وہ اپنے ایک ایک اُمّتی پر مہربان ہیں( صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَسَلَّم) ۔ الٰہی ! تو ہمارا عجزو ضعف( [4]) اور اُن کے حقوقِ عظیمہ( [5]) کی عظمت جانتا ہے ۔ اے قادِر ! اے واجِد ! ہماری طرف سے اُن پر اور اُن کی آل پر وہ برکت والی درودیں نازل فرما جو اُن کے حُقوق کو وافِی ہوں اور اُن کی رَحمتوں کو مکافِی ( [6]) ۔
اَللهم صَلِّ وَسَلِّمْ وَبَارِكْ عَلَيْهِ وَعَلٰی اٰلِهٖ وَصَحْبِهٖ قَدْرَ رَأْفَتِهٖ وَرَحْمَتِهٖ بِأُمَّتِهٖ وَقَدْرَ رَأْفَتِكَ وَرَحْمَتِكَ بِهٖ آمِيْن آمِيْن اِلٰهَ الْحَقّ ، آمِيْن.
( اے اللہ ! درود وسلام اور برکت نازل فرما آپ پر ، آپ کی آل پر اور آپ کے اصحاب پر جتنا کہ وہ اپنی اُمت پر مہربان اور رحمت والے ہیں اور جس قدر تو اُن پر مہربان اور رحیم ہے ۔ اے معبودِ برحق ! ہماری دُعا قبول فرما ۔ ت)
سُبْحٰنَ اللہ ! امّتیوں نے اُن کی رحمتوں کا یہ مُعاوَضَہ( [7]) رکھا کہ کوئی افضلیت میں تَشْکِیْکِیْں( [8]) نکالتا ہے ، کوئی اُن کی تعریف اپنی
[1] اے امت کے گناہگارو ! کیا تم نے اپنے معاملے میں حضور صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَسَلَّم کی کامل شفقت ورحمت نہیں دیکھی ۔
[2] تیسرا آخرت کیلئے باقی رکھا ۔
[3] ہرگز ۔
[4] ہمارا عاجز وکمزور ہونا ۔
[5] یعنی امت پرلازم پیارے آقا صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَسَلَّمکے عظیم حقوق ۔
[6] جو اُن کے ہم پر لازم حقوق اوران کی رحمتوں اور شفقتوں کو کافی ہوں ۔
[7] بدلہ ۔
[8] یعنی شکوک وشبہات ۔