دعوت اسلامی کی دینی خدمات دیگر ممالک میں بھی دیکھئے
ہسٹری

مخصوص سرچ

30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں

Qurbani Kay Fatawa | قربانی کےفتاویٰ

Qurbani Ke Janwar Main Uyoob Ka Bayan Aur Mazeed Tafseel

book_icon
قربانی کےفتاویٰ
            

قربانی کے جانوروں میں عیوب

بکرے کے پیدائشی سینگ نہ ہوں ، تو قربانی کا حکم

فتویٰ نمبر :31 کیا فرماتے ہیں علمائے دین و مفتیان شرع متین اس مسئلے کے بارے میں کہ میرے پاس ایک گھر کا پالا ہوا بکرا ہے ۔جب وہ پیدا ہوا تھا ،تو اسی وقت یہ نیت تھی کہ اس کی قربانی کروں گا ۔ابھی وہ تقریباً آٹھ ماہ کا ہو چکا ہے اور بڑی عید تک ایک سا ل سے زیادہ عرصے کا ہو جائے گا،لیکن ابھی تک اس کے سینگ نہیں نکلے ۔کچھ لوگ کہتے ہیں کہ اس کی جگہ کسی اور کی قربانی کر دیں ،کیونکہ اس کے سینگ نہیں نکلے ۔براہِ کرم شرعی رہنمائی فرمائیں کہ جس بکرے کے سینگ نہ ہوں کیا اس کی قربانی نہیں ہوتی ؟اگر نہیں ہوتی تب بھی بتا دیں ،تاکہ میں اس کی جگہ کسی اور بکرے کی قربانی کر لوں ۔ بِسْمِ اللّٰہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ اَلْجَوَابُ بِعَوْنِ الْمَلِکِ الْوَھَّابِ اَللّٰھُمَّ ھِدَایَۃَ الْحَقِّ وَالصَّوَابِ جس بکرے کے پیدائشی سینگ نہ ہوں ،اس کی قربانی بلا شبہ جائز ہے ،جبکہ اس میں قربانی کی دیگر شرائط موجود ہوں۔ فقہ حنفی کی مشہور کتاب الہدایہ میں ہے:’’ ویجوز ان یضحی بالجماء وھی التی لا قرن لھا ،لان القرن لا یتعلق بہ مقصود ‘‘ ترجمہ:جماءکی قربانی جائز ہے اور جماء ایسا جانور کہلاتا ہے ،جس کے سینگ نہ ہوں ،کیونکہ سینگوں کے ساتھ مقصود کا تعلق نہیں ہوتا۔ (الہدایہ،کتا ب الاضحیہ،ج4،ص448،مطبوعہ لاہور) اورصدر الشریعہ مفتی محمد امجد علی اعظمی رَحْمَۃُ اللہِ عَلَیْہ ارشاد فرماتے ہیں:’’جس کے پیدائشی سینگ نہ ہوں ،اس کی قربانی جائز ہے ۔‘‘(بہارِ شریعت،ج3،ص340،مطبوعہ مکتبۃ المدینہ،کراچی) وَاللہُ اَعْلَمُ عَزَّوَجَلَّ وَ رَسُوْلُہٗ اَعْلَم صلَّی اللہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم کتبـــــــــــــــــــــــــہ مفتی محمد قاسم عطاری 06ربیع الاول1440ھ/15نومبر 2018ء

گائے کا ایک تھن خشک ہوجائے ، تو قربانی کا حکم

فتویٰ نمبر :32 کیا فرماتے ہیں علمائے دین و مفتیان شرع متین اس مسئلے کے بارے میں کہ ایسی گائے جس کا ایک تھن خشک ہو جائے اور اس میں سے دودھ نہ آئے، لیکن بقیہ تین تھنوں سے دودھ آتا ہو، اس کی قربانی کا کیا حکم ہے؟ سائل:حافظ حمزہ عطاری (آزاد کشمیر) بِسْمِ اللّٰہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ اَلْجَوَابُ بِعَوْنِ الْمَلِکِ الْوَھَّابِ اَللّٰھُمَّ ھِدَایَۃَ الْحَقِّ وَالصَّوَابِ ایسی گائے، بھینس جس کا ایک تھن خشک ہو جائے، بقیہ تین تھن ٹھیک ہوں، تو (دیگر شرائط کی موجودگی میں) اس کی قربانی جائز ہے، لیکن بہتر نہیں ، کیونکہ قربانی کے لیے ایسا جانور قربان کرنا بہتر ہےجس میں معمولی عیب بھی نہ ہو۔ رد المحتار میں ہے:’’ في الشاة والمعز اذا لم يكن لهما احدى حلمتيهما خلقة او ذهبت بآفة وبقيت واحدة لم يجز وفي الابل والبقر ان ذهبت واحدة يجوز او اثنتان لا،وذکر فیھا جواز التی لا ینزل لھا لبن من غیر علۃ وفي التتارخانية: والشطور لا تجزئ، وهي من الشاة ما قطع اللبن عن احدى ضرعيها ومن الابل والبقر ما قطع من ضرعيها، لان لكل واحد منهما اربع اضرع ‘‘ ترجمہ: اگر بکری اور بھیڑ کے دو تھنوں میں سے ایک تھن پیدائشی نہ ہو یا کسی آفت کی وجہ سے ضائع ہو جائے اور ایک باقی ہو، تو اس کی قربانی جائز نہیں، (البتہ) اونٹ اور گائے کا ایک تھن ضائع ہو جائے، تو اس کی قربانی جائز ہے اور اگر دو ضائع ہو جائیں، تو جائز نہیں اور خلاصہ میں ایسے جانور کی قربانی جائز ہونے کا ذکر ہے، جس کا دودھ بغیر کسی بیماری کے نہیں اترتا اور تتارخانیہ میں ہے: شطور کی قربانی جائز نہیں، شطور بکریوں میں اس کو کہتے ہیں جس کے دو تھنوں میں سے ایک سے دودھ آنا منقطع ہو جائے، جبکہ اونٹ اور گائے میں سے اس کو کہتے ہیں جس کے دو تھنوں میں سے دودھ آنا ختم ہو جائے، کیونکہ اونٹ اور گائے کے چار تھن ہوتے ہیں۔‘‘ (ردالمحتارمع الدر المختار، کتاب الاضحیۃ، جلد 9، صفحہ 538،مطبوعہ پشاور) فقیہ اعظم مفتی نور اللہ نعیمی بصیر پوری علیہ الرحمۃ سے سوال ہوا کہ ایسی گائے جس کے تین تھنوں سے دودھ آتا ہے اور ایک تھن سے دودھ نہیں آتا اور مقدار میں بھی چھوٹا ہے، تو کیا ایسی گائے کی قربانی ہو سکتی ہے؟ تو آپ علیہ الرحمۃ نے جواباً ارشاد فرمایا: ’’ایسی گائے کی قربانی شرعاً جائز ہے، ۔۔ البتہ اس میں کوئی شک نہیں کہ مستحب یہ ہے کہ کوئی ایسا چھوٹا عیب بھی نہ ہو۔‘‘ (فتاوی نوریہ، جلد 3، صفحہ 470، دار العلوم حنفیہ فریدیہ، بصیر پور) صدر الشریعہ مفتی محمد امجد علی اعظمی علیہ الرحمۃ مانع قربانی عیوب بیان کرتے ہوئے فرماتے ہیں:’’جس کے تھن کٹے ہوں یا خشک ہوں، اس کی قربانی ناجائز ہے۔ بکری میں ایک کا خشک ہونا، ناجائز ہونے کے لیے کافی ہے اور گائے بھینس میں دو خشک ہوں، تو ناجائز ہے‘‘۔ (بہار شریعت، حصہ 15، صفحہ 341، مکتبۃ المدینہ، کراچی) وَاللہُ اَعْلَمُ عَزَّوَجَلَّ وَ رَسُوْلُہٗ اَعْلَم صلَّی اللہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم کتبـــــــــــــــــــــــــہ مفتی محمد قاسم عطاری 05ذوالحجۃ الحرام1440ھ/07اگست 2019ء

خصی جانور کی قربانی کا حکم

فتویٰ نمبر :33 کیافرماتے ہیں علمائے دین ومفتیان شرع متین اس مسئلے کے بارے میں کہ قربانی کا جانور خصی کرنا،جائز ہے یا نہیں اور اس کی قربانی ہو جاتی ہے یا نہیں؟ شریعت کی روشنی میں دلائل کے ساتھ وضاحت فرما دیں۔ سائل: محمد آصف علی عطاری(اسلام آباد) بِسْمِ اللّٰہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ اَلْجَوَابُ بِعَوْنِ الْمَلِکِ الْوَھَّابِ اَللّٰھُمَّ ھِدَایَۃَ الْحَقِّ وَالصَّوَابِ جانور کو خصی کرنا اور خصی جانور کی قربانی کرنا ، جائز ہے، بلکہ دوسرے کی بنسبت خصی جانور کی قربانی افضل ہے کہ اس میں زیادہ ثواب ہے۔ نبی کریم صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم خود بھی خصی جانور کی قربانی فرماتے تھے۔ چنانچہ حضرت ابو ہریرہ رَضِیَ اللہُ عَنْہ سے مروی ہے:’’ إن رسول اللہ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم إذا أراد أن یضحی اشتری کبشین عظیمین سمینین أقرنین أملحین موجوأین ۔‘‘ نبی کریم صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم جب قربانی کا ارادہ فرماتے تو دو بڑے، موٹے، سینگوں والے، چتکبرے، خصی کیے ہوئے مینڈھے ذبح فرماتے۔ (ابن ماجہ شریف، ص225،226 ،مطبوعہ کراچی) سیدی اعلیٰ حضرت مجدد دین و ملت امام احمد رضا خان علیہ رحمۃ الرحمٰن فرماتے ہیں:’’ خصی کی قربانی افضل ہے اور اس میں ثواب زیادہ ہے۔‘‘ (فتاوی رضویہ، جلد 20،ص444،رضا فاؤنڈیشن، لاہور) صدر الشریعہ بدر الطریقہ مولانا مفتی امجد علی اعظمی علیہ رحمۃ اللہ القوی فرماتے ہیں:”خصی کی قربانی غیر خصی سے افضل ہے۔ تبیین الحقائق شرح کنز الدقائق میں ہے: ’’ و یصح بالجماء و الخصی و عن أبی حنیفۃ ھو أولی لأن لحمہ أطیب ‘‘غرر الاحکام میں ہے:’’ و صح الجماء و الخصی ‘‘شرنبلالیہ میں بدائع سے ہے:’’ و أفضل الشاۃ أن یکون کبشا أملح أقرن موجوأ ‘‘ مجمع الانہر شرح ملتقی الابحر میں ہے:’’ و یجوز الخصی و عن الإمام أن الخصی أولی لأن لحمہ ألذ و أطیب “ (فتاوی امجدیہ، جلد2 ،حصہ3 ،ص 304،مکتبہ رضویہ، کراچی) ایک اور مقام پر فرماتے ہیں:” مستحب یہ ہے کہ قربانی کا جانور خوب فربہ اور خوبصورت اور بڑا ہو اور بکری کی قسم میں سے قربانی کرنی ہو تو بہتر سینگ والا مینڈھا چتکبرا جس کے خصیے کوٹ کر خصی کر دیا ہو کہ حدیث میں ہے:’’ حضور نبی اکرم صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے ایسے مینڈھے کی قربانی کی۔“ (بہار شریعت، جلد 3،حصہ15، ص344 ،مکتبۃ المدینہ، کراچی) وَاللہُ اَعْلَمُ عَزَّوَجَلَّ وَ رَسُوْلُہٗ اَعْلَم صلَّی اللہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم الجواب صحیح مفتی محمد قاسم عطاری کتبـــــــــــــــــــــــــہ المتخصص فی الفقہ الاسلامی محمد نوید چشتی 11 ذوالقعدۃ الحرام1430ھ/31اکتوبر2009ء

جس جانور کا پیدائشی ایک خصیہ نہ ہو ، اس کی قربانی کا حکم

فتویٰ نمبر :34 کیافرماتے ہیں علمائے دین ومفتیان شرع متین اس مسئلے کے بارے میں کہ ایسا بکرا یا بیل جس کا پیدائشی ایک خصیہ نہ ہو ، اس کی قربانی جائز ہے یا نہیں؟سائل:حافظ محمد رمضان (راولپنڈی) بِسْمِ اللّٰہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ اَلْجَوَابُ بِعَوْنِ الْمَلِکِ الْوَھَّابِ اَللّٰھُمَّ ھِدَایَۃَ الْحَقِّ وَالصَّوَابِ ایسے بکرے یا بیل کی قربانی جائز ہے کہ یہ عیب نہیں ہے، عیب وہ ہوتا ہے جس کی وجہ سے جانور کی قیمت کم ہو جائےاور خصیہ کم ہونے یا نہ ہونے کی وجہ سے اس کی قیمت کم نہیں ہوتی، بلکہ وہ جانور جس کے خصیے کوٹ دیے گئے ہوں یا خصیے اور ذکر کاٹ کر بالکل الگ کر دیے گئے ہوں اس کی بھی قربانی جائز، بلکہ بہترہے ۔ ہدایہ میں ہے:’’ کل ما اوجب نقصان الثمن فی عادۃ التجار فھو عیب ‘‘ہر وہ چیز جو تاجروں کی عادت میں ثمن میں کمی کا سبب بنے وہ عیب ہے۔ (ہدایہ، جلد3 ،ص42 ،مطبوعہ لاہور) فتاوی ہندیہ میں ہے: ’’ و یجوز المجبوب العاجزعن الجماع ‘‘ اور اس جانور کی قربانی جائزہے جس کے خصیے اور آلہ تناسل کاٹ دیے گئے ہوں، وہ جماع سے عاجز ہو۔ (فتاوی عالمگیری، جلد5 ،ص367 ،کراچی) سیدی اعلیٰ حضرت مجدد دین و ملت امام احمد رضا خان علیہ رحمۃ الرحمٰن سے سوال ہوا کہ بکرے دو طرح خصی کیے جاتے ہیں، ایک یہ کہ رگیں کوٹ دی جائیں، اس میں کوئی عضو کم نہیں ہوتا، دوسرے یہ کہ آلت تراش کر پھینک دی جاتی ہے، اس صورت میں ایک عضو کم ہو گیا، آیا ایسے خصی کی بھی قربانی جائز ہے یا نہیں؟آپ اس کے جواب میں فرماتے ہیں:’’ جائز ہے کہ اس کی کمی سے اس جانور میں عیب نہیں آتا، بلکہ وصف بڑھ جاتا ہے کہ خصی کا گوشت بہ نسبت فحل کے زیادہ اچھا ہوتا ہے فی الھندیۃ عن الخلاصۃ یجوز المجبوب العاجز عن الجماع (ہندیہ میں خلاصہ سے منقول ہے کہ ذکر کٹا جو جفتی کے قابل نہ رہا وہ قربانی میں جائز ہے)۔‘‘ (فتاوی رضویہ، ج 20،ص458، رضا فاؤنڈیشن ،لاہور) صدر الشریعہ بدر الطریقہ مولانا مفتی امجد علی اعظمی علیہ رحمۃ اللہ القوی فرماتے ہیں:’’ خصی یعنی جس کے خصیے نکال لیے گئے ہیں یا مجبوب یعنی جس کے خصیے اور عضو تناسل سب کاٹ لیے گئے ہوں ان کی قربانی جائز ہے۔‘‘ (بہار شریعت، جلد 3،حصہ15، ص340 ،مکتبۃ المدینہ، کراچی) وَاللہُ اَعْلَمُ عَزَّوَجَلَّ وَ رَسُوْلُہٗ اَعْلَم صلَّی اللہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم الجواب صحیح مفتی محمد قاسم عطاری کتبـــــــــــــــــــــــــہ المتخصص فی الفقہ الاسلامی محمد نوید چشتی 16ذوالقعدۃ الحرام1433ھ/04 اکتوبر 2012ء

عضو کاٹ کر خصی کیے گئے جانور کی قربانی کا حکم

فتویٰ نمبر :35 کیا فرماتے ہیں علمائے دین و مفتیان شرع متین اس مسئلے کے بارے میں کہ ایسا خصی جانور،جس کا عضو کاٹ کر اُسے خصی کیا گیا ہو ،اُس جانور کی قربانی جائز ہے یا نہیں؟ سائل:محمد وقار عطاری(جنڈ،اٹک) بِسْمِ اللّٰہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ اَلْجَوَابُ بِعَوْنِ الْمَلِکِ الْوَھَّابِ اَللّٰھُمَّ ھِدَایَۃَ الْحَقِّ وَالصَّوَابِ جی ہاں!ایسا خصی جانورجس کا عضو کاٹ کر اُسے خصی کیا گیاہو،اُس کی قربانی جائز ہے،کیونکہ اس کی کمی سے جانور میں کوئی عیب نہیں آتا، بلکہ اُس کا وصف بڑھ جاتا ہے کہ ایسے جانور کا گوشت زیادہ اچھا ہوتا ہے۔ حضرت سیدناجابر رَضِیَ اللہُ عَنْہ فرماتے ہیں:’’ ذبح النبی صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم یوم الذبح کبشین اقرنین املحین موجوئین ‘‘ ترجمہ:نبی پاک صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے قربانی کے دن دوسینگ والے،چِت کبرے،خصی مینڈھوں کو ذبح فرمایا۔ (سنن ابی داؤد،ج2،ص38،مطبوعہ لاہور) علامہ ابن حجر عسقلانی علیہ الرحمۃ کی نقل کردہ ایک تشریح کے مطابق ،تو حضور صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم سےعضو کٹےخصی جانور کی قربانی کرنا ثابت ہوتا ہے۔چنانچہ آپ علیہ الرحمۃ اس حدیث پاک کے تحت فرماتے ہیں:’’ الموجوءیعنی بضم الجیم وبالھمزۃمنزوع الانثیین ‘‘ ترجمہ:لفظ’’موجوء‘‘ جیم پر پیش کے ساتھ اور ہمزہ کے ساتھ ہے،جس سے مراد وہ جانور ہے جس کے خصیتین جُدا کر دیے گئے ہوں۔ (فتح الباری،ج10،ص12،مطبوعہ کراچی) فتاوی عالمگیری میں ہے:’’ ویجوز المجبوب العاجز عن الجماع ‘‘ترجمہ:عضو کٹے،جُفتی سے عاجز جانور کی قربانی جائز ہے۔ (فتاوی عالمگیری،ج5،ص367، مطبوعہ کراچی) خصی ہونا عیب نہیں،بلکہ خوبی ہے،کیونکہ ایسے جانور کا گوشت اچھا ہوتا ہے۔چنانچہ محیط برہانی میں ہے:’’ الخصی افضل من الفحل لانہ اطیب لحما ‘‘ترجمہ:خصی جانور کی قربانی فحل (جوجانور خصی نہ ہو،اُس)کی قربانی سے افضل ہے ،کیونکہ اس کا گوشت زیادہ عمدہ ہوتا ہے۔ (محیط برھانی،ج6،ص479، مطبوعہ کوئٹہ) امام اہلسنت الشاہ امام احمد رضا خان علیہ الرحمۃ سے سوال ہوا کہ جس جانور کا عضو کاٹ کر اُسے خصی کیا گیا ہو،اُس جانورکی قربانی جائز ہے یا نہیں؟تو آپ علیہ الرحمۃ نے ارشاد فرمایا:’’جائز ہے کہ اس کی کمی سے اس جانور میں عیب نہیں آتا،بلکہ وصف بڑھ جاتا ہےکہ خصی کا گوشت فحل کی بنسبت زیادہ اچھا ہوتا ہے۔‘‘ (فتاوی رضویہ،ج20،ص458،رضا فاؤنڈیشن،لاہور) وَاللہُ اَعْلَمُ عَزَّوَجَلَّ وَ رَسُوْلُہٗ اَعْلَم صلَّی اللہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم کتبـــــــــــــــــــــــــہ مفتی محمد قاسم عطاری 24ذیقعدۃ الحرام1439ھ/07اگست 2018ء

جانور کا ایک خصیہ نہ ہو ، تو قربانی کا حکم ؟

فتویٰ نمبر :36 کیا فرماتے ہیں علمائےدین و مفتیان شرع متین اس مسئلے کے بارے میں کہ قربانی کے جانور کے خصیتین میں سے ایک نہ ہو،تو اس صورت میں اس کی قربانی ہوجائے گی یا نہیں ؟ سائل:ضمیر الدین (اسلام آباد ، حیدر آباد) بِسْمِ اللّٰہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ اَلْجَوَابُ بِعَوْنِ الْمَلِکِ الْوَھَّابِ اَللّٰھُمَّ ھِدَایَۃَ الْحَقِّ وَالصَّوَابِ پوچھی گئی صورت میں قربانی ہوجائے گی کہ اس میں تو صرف ایک خصیہ کی کمی ہے،جبکہ شریعت مطہرہ نے بغرض منفعت خود خصی کرنا اور اس کی قربانی کرناجائز ،بلکہ افضل فرمائی ہے، جس سے معلوم ہوتا ہے کہ جانور میں اس عضو کا نہ ہونا عیب نہیں ہے ،لہٰذا ایسے جانور کی قربانی جائز ہے۔ وَاللہُ اَعْلَمُ عَزَّوَجَلَّ وَ رَسُوْلُہٗ اَعْلَم صلَّی اللہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم کتبـــــــــــــــــــــــــہ مفتی محمد قاسم عطاری 16محرم الحرام1438 ھ/18اکتوبر 2016 ء

جانور کا سینگ ٹوٹ کر زخم بھر جائے ، تو قربانی کا حکم ؟

فتویٰ نمبر :37 کیافرماتے ہیں علمائے دین ومفتیانِ شرع متین اس مسئلے کے بارے میں کہ ایک جانور خریدنے کا ارادہ ہے ، مگر اس کا سینگ ٹوٹا ہوا ہے ۔ اس کے مالک سے پوچھا ، تو اس نے بتایا کہ ایک سینگ ٹوٹ گیا تھا ،دوسرے کو بھی ہم نے شروع سے ہی نکال دیا تھا ،تو کیا ایسے جانور کی قربانی ہوسکتی ہے ، جبکہ جانور کے سر پر کچھ بھی محسوس نہیں ہوتا اور نہ ہی سر پر اب کسی طرح کا کوئی زخم ہے ۔رہنمائی فرمائیں ؟ بِسْمِ اللّٰہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ اَلْجَوَابُ بِعَوْنِ الْمَلِکِ الْوَھَّابِ اَللّٰھُمَّ ھِدَایَۃَ الْحَقِّ وَالصَّوَابِ پوچھی گئی صورت میں اس جانور کی قربانی جائز ہے ،سینگ کا ٹوٹنا اس وقت عیب شمار ہوتا ہے ، جبکہ جڑ سمیت ٹوٹ جائے اور زخم بھی ٹھیک نہ ہوا ہو ،لہٰذا اگر کسی جانور کا سینگ جڑ سمیت ٹوٹ جائے اور زخم بھرجائے ، تو اب اس کی قربانی ہوسکتی ہے ، کیونکہ جس عیب کی وجہ سے قربانی نہیں ہورہی تھی ، وہ عیب اب ختم ہوچکا ہے ، لہٰذا اس کی قربانی ہوجائے گی ۔ اعلیٰ حضرت امام اہلسنت الشاہ امام احمد رضا خان رَحْمَۃُ اللہِ عَلَیْہ اسی طرح کے ایک مسئلے کے جواب میں فرماتے ہیں :’’سینگ ٹوٹنا اس وقت قربانی سے مانع ہوتاہے جبکہ سر کے اندر جڑ تک ٹوٹے ، اگر اوپر کا حصہ ٹوٹ جائے تو مانع نہیں۔ فی ردالمحتار یضحی بالجماء وھی التی لا قرن لها خلقۃ وکذا العظماء التی ذھب بعض قرنها بالکسر اوغیرہ۔ فان بلغ الکسر الی المخ لم یجز قهستانی،و فی البدائع ان بلغ الکسر المشاش لایجزئی والمشاش رؤس العظام مثل الرکبتین والمرفقین ‘‘ردالمحتار میں ہے جماء کی قربانی جائز ہے یہ وہ ہے کہ جس کے سینگ پیدائشی نہ ہو اور یوں عظماء بھی، یہ وہ ہے کہ جس کے سینگ کا کچھ حصہ ٹوٹا ہو اورمخ تک ٹوٹ چکا ہو ،تو ناجائز ہے۔ قہستانی ۔ اور بدائع میں ہے: اگر یہ ٹوٹ مشاش تک ہو تو ناجائز ہے اور مشاش ہڈی کے سرے کو کہتے ہیں جیسے گھٹنے اور کہنیاں۔ او ر پھر اگر ایسا ہی ٹوٹا تھا کہ مانع ہوتا ،مگر اب زخم بھر گیا، عیب جاتا رہا ،تو حرج نہیں ’’ لان المانع قد زال وھذا ظاھر ‘‘ کیونکہ مانع جاتا رہااور یہ ظاہرہے۔ (فتاوی رضویہ جلد 20،صفحہ 460، رضا فاؤنڈیشن ،لاہور) وَاللہُ اَعْلَمُ عَزَّوَجَلَّ وَ رَسُوْلُہٗ اَعْلَم صلَّی اللہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم الجواب صحیح مفتی محمد قاسم عطاری کتبـــــــــــــــــــــــــہ المتخصص فی الفقہ الاسلامی ابو حذیفہ محمد شفیق عطاری 24ذیقعدۃ الحرام 1440 ھ/28 جولائی2019ء

سینگ جڑ سے نکال دیے گئے ، تو قربانی کا حکم ؟

فتویٰ نمبر :38 کیا فرماتے ہیں علمائے کرام اس مسئلے کے بارے میں کہ کسی نے قربانی کا ایسا جانور خریدا جس کے سینگ جڑ سے نکا ل دیے گئے تھے،پھر اس کا زخم بھر کر ٹھیک ہو گیا اور وہاں کھال جڑ کر مکمل ٹھیک ہو گئی ،تو اب کیا ایسےجانور کی قربانی ہو جائے گی؟ سائل :محمد شریف(خداداد کالونی،کراچی) بِسْمِ اللّٰہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ اَلْجَوَابُ بِعَوْنِ الْمَلِکِ الْوَھَّابِ اَللّٰھُمَّ ھِدَایَۃَ الْحَقِّ وَالصَّوَابِ پوچھی گئی صورت میں ایسے جانور کی قربانی جائز ہے۔تفصیل اس مسئلہ میں یہ ہے کہ جس جانور کا سینگ ٹوٹ گیا ہواگر سر کے اوپر والا حصہ ٹوٹا ہوجو ظاہر ہوتا ہے ،تو قربانی جائز ہے اور اگرسر کے اندر جڑ تک ٹوٹے، تو قربانی جائز نہیں، لیکن اس صورت میں اگر سر کازخم بھر جائے جیسا کہ سوال میں ذکر کیا گیا ہے ،تو اب قربانی جائز ہے ۔ وَاللہُ اَعْلَمُ عَزَّوَجَلَّ وَ رَسُوْلُہٗ اَعْلَم صلَّی اللہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم کتبـــــــــــــــــــــــــہ مفتی فضیل رضا عطاری 26ربیع الثانی 1438ھ/25جنوری2017ء

جانور کے سینگ جڑ کے اوپر سے کاٹ دیے گئے ، تو قربانی کا حکم ؟

فتویٰ نمبر :39 کیافرماتے ہیں علمائےدین و مفتیان شرع متین اس مسئلے کے بارے میں کہ ایک بکراجس کے پیدائشی سینگ ہیں، مگراس کے سینگ جڑکےاوپر سے سرکی کھال کے برابرکاٹ دیئے گئے ہیں، ان سینگوں کی جڑیں سلامت ہیں ،اس کی قربانی جائزہے یانہیں؟جبکہ اس میں قربانی کی دیگرتمام شرائط پوری ہیں ۔ بِسْمِ اللّٰہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ اَلْجَوَابُ بِعَوْنِ الْمَلِکِ الْوَھَّابِ اَللّٰھُمَّ ھِدَایَۃَ الْحَقِّ وَالصَّوَابِ اُس بکرے کی قربانی کرناجائز ہے ،کیونکہ اس کےسینگ اس طرح سے کاٹے گئے ہیں کہ جڑیں سلامت ہیں،البتہ اگرجڑیں سلامت نہ رہتیں ،توقربانی نہ ہوتی ۔جب تک زخم نہ بھرتے۔ وَاللہُ اَعْلَمُ عَزَّوَجَلَّ وَ رَسُوْلُہٗ اَعْلَم صلَّی اللہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم الجواب صحیح مفتی محمد ہاشم خان عطاری کتبـــــــــــــــــــــــــہ محمدعرفان مدنی 25محرم الحرام1438ھ/28اکتوبر2016 ء

جانور کا کان چِرا ہوا ہو ، لیکن کان سے جدا نہ ہو ، تو قربانی کا حکم

فتویٰ نمبر :40 کیافرماتے ہیں علماء دین ومفتیانِ شرع متین اس مسئلے کے بارے میں کہ ایسا جانور جس کا کان لمبائی میں چرا ہوا ہو، لیکن بدن سے اترا ہو ا نہ ہو، اس کی قربانی کرنا کیسا ہے؟ بِسْمِ اللّٰہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ اَلْجَوَابُ بِعَوْنِ الْمَلِکِ الْوَھَّابِ اَللّٰھُمَّ ھِدَایَۃَ الْحَقِّ وَالصَّوَابِ ایسا جانور جس کا کان چرا ہوا ہو، لیکن بدن سے اترا ہو ا نہ ہو اس کی قربانی کرنا ، جائزتو ہے، البتہ مستحب یہ ہے کہ ایسے جانور کی قربانی نہ کی جائے، بلکہ ایسے جانور کی قربانی کی جائے جو ہر طرح کے عیب سے پاک ہو ۔ جیسا کہ فتاوی ہندیہ میں ہے :’’ تجزیئ الشرقاء وھی مشقوقۃ الاذن طولا والمقابلۃ ان یقطع من مقدم اذنھا ولایبان بل یترک معلقا والمدابرۃ ان یفعل ذلک بمؤخر الاذن من الشاۃ وما روی أن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نھی أن یضحی بالشرقاء والمقابلۃ والمدابرۃ والخرقاء فالنھی فی الشرقاء والمقابلۃ والمدابرۃ محمول علی الندب ‘‘ترجمہ:شرقاء کی قربانی جائز ہے اور اس سے مراد وہ جانور ہے جس کے کان لمبائی میں چرے ہوئے ہوں اور مقابلہ ( کی بھی جائز ہے اور یہ ) وہ جانور ہے جس کے کان کا اگلا کچھ حصہ کٹا ہو، لیکن جدا نہ ہو، بلکہ لٹکا ہوا ہو اور مدابرہ ( کی بھی جائز ہے اور یہ ) وہ بکری ہے جس کے کان کا پچھلا حصہ اسی طرح کٹا ہوا ہویعنی جدا نہ ہوا ہو ساتھ لٹک رہا ہو اور جو حدیث مبارک میں مروی ہے کہ نبی کریم صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے الشرقاء والمقابلۃ والمدابرۃ والخرقاء کی قربانی سے منع فرمایا ہے، تونبی کریم صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کا الشرقاء والمقابلۃ والمدابرۃ کی قربانی سے منع کرنا یہ استحباب پر محمول ہے(یعنی ان کی قربانی نہ کرنا مستحب ہے)۔ ( فتاوی ہندیہ ،ج5 ،ص298، مطبوعہ کوئٹہ) وَاللہُ اَعْلَمُ عَزَّوَجَلَّ وَ رَسُوْلُہٗ اَعْلَم صلَّی اللہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم کتبـــــــــــــــــــــــــہ مفتی محمد قاسم عطاری 27ذیقعدہ 1438ھ/20اگست2017ء

جانور کے کان میں سوراخ ہوں ، تو قربانی کا حکم

فتویٰ نمبر :41 کیافرماتے ہیں علمائےدین ومفتیان شرع متین اس مسئلے کے بارے میں کہ آج کل منڈی میں جانور خریدنے جائیں،تو اکثر بیوپاریوں نے اپنے جانوروں کو مخصوص نشانیاں لگائی ہوتی ہیں،میں نے رات کو منڈی سے بیل خریدا،لیکن جب صبح دیکھا،تو اس جانور کے ایک کان میں تین چھوٹے چھوٹے سوراخ تھے۔ میں پوچھنا یہ چاہتا ہوں کہ میرے لیے اس جانور کی قربانی جائز ہے یا نہیں ؟ بِسْمِ اللّٰہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ اَلْجَوَابُ بِعَوْنِ الْمَلِکِ الْوَھَّابِ اَللّٰھُمَّ ھِدَایَۃَ الْحَقِّ وَالصَّوَابِ مستحب یہ ہے کہ جانور کے کان ،آنکھ ،ناک ،ہاتھ، پاؤں وغیرہ بالکل صحیح اور عیب سے سلامت ہوں ، اگر تھوڑا سا عیب ہو، تو قربانی مکروہ ،اگر زیادہ ہو، تو ناجائزاور پوچھی گئی صورت میں جس بیل کے کان میں تین سوراخ ہیں،اگر وہ مل کر تہائی کان کی مقدار یا اس سے کم ہیں اور کوئی دوسرا مانع ِقربانی عیب بھی نہیں، تو ایسے جانور کی قربانی جائز تو ہے ،مگر مکروہ وخلاف اولیٰ ہے ۔ جامع صغیر میں ہے:’’ وان قطع من الذنب او الاذن او الالیۃ الثلث او اقل اجزاہ وان کان اکثر لم یجز ‘‘ ترجمہ :اگر جانورکی دم یاکان یاچکی کاایک تہائی یااس سے کم حصہ کٹاہواہو،تواس کی قربانی جائز ہے اوراگرایک تہائی سے زیادہ حصہ کٹاہو،تواُس جانورکی قربانی جائزنہیں ہے۔ (الجامع الصغیر،کتاب الذبائح ،ص473،مطبوعہ عالم الکتب ،بیروت) فتاوٰی ہندیہ میں ہے : '' تجزی الشرقاء وھی مشقوقۃ الاذن طولا، والمقابلۃ ان یقطع من مقدم اذنھا شیء ولا یبان بل یترک معلقا، والمدابرۃ ان یفعل ذٰلک بمؤخر الاذن من الشاۃ، وماروی ان رسول اﷲ صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم نھی ان یضحی بالشرقاء والمقابلۃ والمدابرۃ والخرقاء فالنھی فی الشرقاء والمقابلۃ والمدابرۃ محمول علی الندب وفی الخرقاء علی الکثیر علی اختلاف الاقاویل فی حدالکثیر،کذا فی البدائع '' ترجمہ: شرقاءکی قربانی جائز ہے اوریہ ایسی بکری ہے جس کے کان لمبائی میں چرے ہوئے ہوں اور مقابلہ ( کی قربانی بھی جائز ہے اوریہ )ایسی بکری ہے جس کے کان کا اگلا حصہ کچھ کٹا ہو،لیکن جدا نہ ہو، بلکہ لٹکا ہوا ہو اور مدابرہ (کی قربانی بھی جائز ہے اوریہ)ایسی بکری ہے جس کے کان کاپچھلا حصہ اسی طرح کٹاہو اور جو حدیث مروی ہے کہ حضور صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے شرقاء،مقابلہ، مدابرہ اور خرقاء کی قربانی سے منع فرمایا ہے، تو شرقاء، مقابلہ اور مدابرہ میں یہ نہی استحباب پہ محمول ہےاور خرقاء میں کان زیادہ کٹے ہونے پر محمول ہےاور زیادتی کی حد میں اقوال مختلف ہیں ۔ایسے ہی بدائع الصنائع میں ہے۔ (فتاوٰی عالمگیری،جلد5 ،ص76، مطبوعہ دار الکتب العلمیہ،بیروت ) اعلیٰ حضرت رَحْمَۃُ اللہِ عَلَیْہ سے سوال ہواکہ ایک گائے کا کان چرا ہوا ہے جیسے گاؤں کے لوگ بچپن میں کان چیردیتے ہیں کہ طول یا عرض میں شق ہوجاتاہے، مگر وہ ٹکرا کان ہی میں لگا رہتا ہے، جدا نہیں ہوتا۔۔ ایسی گائے کی قربانی شرعاجائز ہے یانہیں؟ تو آپ علیہ الرحمۃ نے جواباً ارشاد فرمایا : ’’ بلا شبہہ جائز ہے، مگر مستحب یہ ہے کہ کان ، آنکھ، ہاتھ، پاؤں بالکل سلامت ہوں۔‘‘ (فتاوٰی رضویہ،ج20،ص458،مطبوعہ رضا فاؤ نڈیشن ،لاہور) صدرالشریعہ مفتی محمد امجد علی اعظمی رَحْمَۃُ اللہِ عَلَیْہ ارشاد فرماتے ہیں :’’اور جس کے کان یادم یاچکی کٹے ہوں، یعنی وہ عضوتہائی سے زیادہ کٹا ہو،ان سب کی قربانی ناجائزہے اور اگرکان یادم یاچکی تہائی یااس سے کم کٹی ہو،توجائزہے۔‘‘ (بہار شریعت ج3،ص341،مطبوعہ مکتبۃالمدینہ،کراچی) وَاللہُ اَعْلَمُ عَزَّوَجَلَّ وَ رَسُوْلُہٗ اَعْلَم صلَّی اللہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم کتبـــــــــــــــــــــــــہ مفتی محمد قاسم عطاری 08 ذوالحجۃ الحرام1436ھ/23ستمبر 2015ء

جانور کا ایک دانت ٹوٹ جائے تو قربانی کا حکم

فتویٰ نمبر :42 کیا فرماتے ہیں علمائے دین و مفتیان شرع متین اس مسئلے کے بارے میں کہ ایک جانور قربانی کے لیے خریدا گیا ،عمر بھی پوری ہے،لیکن کسی چیز کے ساتھ منہ ٹکرانے کی وجہ سے اُس کا ایک دانت ٹوٹ گیاہے (جانور چارہ کھا سکتا ہے)،تو اُس کی قربانی کر سکتے ہیں یا نہیں؟ سائل:محمد عمر عطاری(فتح جنگ،اٹک) بِسْمِ اللّٰہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ اَلْجَوَابُ بِعَوْنِ الْمَلِکِ الْوَھَّابِ اَللّٰھُمَّ ھِدَایَۃَ الْحَقِّ وَالصَّوَابِ پوچھی گئی صورت میں اُس جانور کی قربانی کرنا،جائز ہے،کیونکہ اگر کسی جانور کے کچھ دانت نہ ہوں،لیکن اتنے دانت سلامت ہوں کہ جن سے وہ خود چارہ چر سکے،تو اُس جانور کی قربانی جائز ہے، البتہ بہتر یہ ہے کہ دوسرا بے عیب جانور لیں کہ چھوٹے عیب سے بھی سالم جانور مستحب ہے۔ ہدایہ شریف میں ہے:’’ ان بقی مایمکن الاعتلاف بہ اجزأہ لحصول المقصود ‘‘ ترجمہ: اگر اتنے دانت باقی ہیں،جن کے ساتھ وہ چارہ کھا سکتا ہے،تو مقصود کے حاصل ہونے کی وجہ سےاُس جانورکی قربانی جائز ہے۔ (ہدایہ،ج4،ص448،مطبوعہ لاہور) فتاوی قاضی خان میں ہے:’’ ان بقی لھا من الاسنان قدر ما تعتلف جاز والا فلا ‘‘ ترجمہ:اگر اتنے دانت ہوں ،جن سے چارہ کھا سکے،تو اُس کی قربانی جائز ہے،ورنہ جائز نہیں۔ (فتاوی قاضی خان،ج3،ص240،مطبوعہ کراچی) وَاللہُ اَعْلَمُ عَزَّوَجَلَّ وَ رَسُوْلُہٗ اَعْلَم صلَّی اللہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم کتبـــــــــــــــــــــــــہ مفتی محمد قاسم عطاری 01ذوالحجۃ الحرام1439ھ/13اگست 2018ء

جانور کی دُم کٹنے میں بال شامل ہوں گے یا نہیں ؟

فتویٰ نمبر :43 کیا فرماتے ہیں علمائےدین و مفتیان شرع متین اس مسئلے کے بارے میں کہ بہار شریعت وغیرہ کتب فقہ میں جانورکی دم کے متعلق تحریرہے کہ اگروہ تہائی سے زیادہ کٹ گئی ہے، تواس کی قربانی نہیں ہوسکتی ۔یہ شرعی رہنمائی فرمائیں کہ اس مقدارمیں دم کے لٹکتے ہوئے بال بھی شامل ہیں یانہیں یعنی اگرجانورکی دم کاکچھ حصہ کٹا اوربقیہ لٹکتے بال کٹے کہ اگردونوں کوجمع کرکے دیکھاجائے، توتہائی سے زیادہ مقداربن جاتی ہے اوراگربالوں کوشامل نہ کیاجائے،صرف دم کاگوشت ہی شمارکیاجائے،تووہ تہائی سے کم ہے ،تواس صورت میں جانورکی قربانی ہوسکے گی یانہیں ؟ بِسْمِ اللّٰہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ اَلْجَوَابُ بِعَوْنِ الْمَلِکِ الْوَھَّابِ اَللّٰھُمَّ ھِدَایَۃَ الْحَقِّ وَالصَّوَابِ جانورکی دم میں جومانع قربانی مقداربیان کی جاتی ہے ، اس میں لٹکتے ہوئے بال شامل نہیں ہیں،لہٰذا وہ جانورجس کی دم کے گوشت کاکچھ حصہ کٹااورساتھ میں لٹکتے ہوئے بال کٹ گئے کہ اگربالوں کوشامل کرکے دیکھیں ،توتہائی سے زیادہ مقداربنتی ہے اوراگربالوں کوشامل نہ کریں ، فقط دم کاگوشت ہی شمارکیاجائے،توتہائی سے کم مقداربنتی ہے،اس جانورکی قربانی ہوجائے گی ۔فتاوی ہندیہ میں ہے : ” لا يعتبر الشعر المسترسل مع الذنب في المانع “ ترجمہ:(قربانی سے) مانع مقدارمیں دم کے ساتھ لٹکتے بالوں کااعتبارنہیں ہوگا۔ (الفتاوی الہندیۃ ،کتاب الاضحیۃ،الباب التاسع فی المتفرقات،ج05،ص307، مطبوعہ کوئٹہ) فتاوی تاتارخانیہ میں ہے : ” وفی الیتیمۃ سالت ابافضل عن ذنب البقروالبعیر قول الفقهاء انہ یعتبرالثلث اومافوقہ علی حسب مااختلفوافیہ بعدالشعر المسترسل منہ من جملۃ الذنب حتی لوکان ساقطابافۃ نحوالبردوغیرہ بقدرالثلث مع الساقط فی قول من یعتبرالثلث ام لایعتبرھذہ الشعورویکون الذنب ھوالعظم الطویل فقال لایعتبرالشعرالمسترسل “ ترجمہ:اوریتیمہ میں ہے :میں نے ابوفضل سے گائے اوراونٹ کی دم کے متعلق سوال کیاکہ فقہاء کاجویہ قول ہے کہ مقدارِمانع میں تہائی کااعتبارہے یااس سے اوپرکاجیساکہ ان کااختلاف ہے ،اس میں دم کے لٹکتے بال بھی شمارہوں گے ،حتی کہ اگرسردی وغیرہ کی وجہ سے کچھ حصہ گرا ، تواس میں جوتہائی کااعتبارکرتاہے،اس کے قول کے مطابق دم کے ساتھ بالوں کااعتبارہوگایااعتبارنہیں ہوگا اوردم وہ لمبی ہڈی ہوگی، توانہوں نے فرمایا:لٹکتے بالوں کا اعتبار نہیں ہوگا۔ (الفتاوی التاتارخانیۃ،کتاب الاضحیۃ،الفصل:مایجوزمن الضحایا،ج17،ص 430-31،مطبوعہ کوئٹہ) وَاللہُ اَعْلَمُ عَزَّوَجَلَّ وَ رَسُوْلُہٗ اَعْلَم صلَّی اللہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم الجواب صحیح مفتی محمد ہاشم خان عطاری کتبـــــــــــــــــــــــــہ محمدعرفان مدنی 28ذیقعدۃ الحرام1438 ھ/21اگست2017 ء

کتاب کا موضوع

کتاب کا موضوع

Sirat-ul-Jinan

صراط الجنان

موبائل ایپلیکیشن

Marfatul Quran

معرفۃ القرآن

موبائل ایپلیکیشن

Faizan-e-Hadees

فیضانِ حدیث

موبائل ایپلیکیشن

Prayer Time

پریئر ٹائمز

موبائل ایپلیکیشن

Read and Listen

ریڈ اینڈ لسن

موبائل ایپلیکیشن

Islamic EBooks

اسلامک ای بک لائبریری

موبائل ایپلیکیشن

Naat Collection

نعت کلیکشن

موبائل ایپلیکیشن

Bahar-e-Shariyat

بہار شریعت

موبائل ایپلیکیشن