30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
کیٹیگریز
کیٹیگریز
مصنف:
Majlis-e-Ifta
پبلشر: Maktaba-tul-Madina
تاریخ اشاعت:
July 29 ,2020
کیٹیگری:
Fiqh-o-Usool-e-Fiqh
آن لائن پڑھیں صفحات: 10
پی ڈی ایف صفحات: 123
ISBN نمبر: N/A
یہ کتاب قربانی کے مسائل کو سادہ اور آسان انداز میں بیان کرتی ہے۔ اس میں جانور کے درست ذبح کا طریقہ قربانی کی نیت گوشت کی شرعی تقسیم اور کھال کے صحیح مصرف کے بارے میں واضح رہنمائی دی گئی ہے۔ ساتھ ہی اجتماعی قربانی کے اصول بھی تفصیل سے بیان کیے گئے ہیں تاکہ یہ عبادت درست اور مقبول طریقے سے ادا کی جا سکے۔
قربانی کا صحیح طریقہ شریعت کے مطابق اور جانور کے ساتھ احسان کے اصول پر مبنی ہے۔
ذبح کرتے وقت درج ذیل امور کا خیال رکھنا ضروری ہے:
• جانور کو قبلہ رخ لٹایا جائے تاکہ عبادت کا پہلو نمایاں ہو۔
• تیز اور دھار دار چھری استعمال کی جائے تاکہ جانور کو کم سے کم تکلیف ہو۔
• ذبح کے وقت “بِسْمِ اللّٰهِ، اللّٰهُ أَكْبَرُ” کہا جائے کیونکہ اللہ کا نام لینا شرط ہے۔
• حلق (گلا)، مری (سانس کی نالی) اور دونوں رگیں (jugular veins) کاٹ دی جائیں تاکہ خون اچھی طرح نکل جائے۔
دلیل:نبی کریم ﷺ نے فرمایا:
“اللہ نے ہر چیز میں احسان فرض کیا ہے… جب تم ذبح کرو تو اچھے طریقے سے کرو” (صحیح مسلم)
اہم ہدایات:
• جانور کو دوسرے جانور کے سامنے ذبح نہ کریں
• چھری پہلے سے تیز کر لیں
• ذبح کے بعد جانور کو مکمل ٹھنڈا ہونے دیں
قربانی کی نیت دل کے ارادے کا نام ہے، اس کے لیے زبان سے الفاظ کہنا ضروری نہیں۔
بس دل میں یہ پختہ ارادہ ہو کہ:
دلیل:
“اِنَّمَا الْاَعْمَالُ بِالنِّيَّاتِ”
اعمال کا دارومدار نیتوں پر ہے (صحیح بخاری)
وضاحت:
• اگر زبان سے نیت کے الفاظ کہہ بھی دیے جائیں تو جائز ہے
• اصل اعتبار دل کی نیت کا ہے
اسلام میں قربانی کے گوشت کو تقسیم کرنا ایک متوازن اور معاشرتی بھلائی کا نظام ہے۔
مستحب طریقہ یہ ہے:
• ایک حصہ خود اور اہلِ خانہ کے لیے رکھا جائے
• ایک حصہ رشتہ داروں، دوستوں اور پڑوسیوں کو دیا جائے
• ایک حصہ غریبوں اور محتاجوں میں تقسیم کیا جائے
“فَكُلُوا مِنْهَا وَأَطْعِمُوا الْبَائِسَ الْفَقِيرَ” (الحج: 28)
خود بھی کھاؤ اور محتاجوں کو بھی کھلاؤ
اہم نکتہ:
• پورا گوشت صدقہ کرنا بھی جائز ہے
• خود کھانا بھی سنت ہے
اجتماعی قربانی بڑے جانور (گائے، بیل، اونٹ) میں کی جاتی ہے جس میں کئی افراد شریک ہوتے ہیں۔
اس کا درست طریقہ:
• ایک جانور میں زیادہ سے زیادہ 7 افراد شریک ہو سکتے ہیں
• ہر شریک کی نیت قربانی یا ایصالِ ثواب کی ہونی چاہیے
• ہر شخص کا حصہ برابر ہونا ضروری ہے
صحابہ کرام رضی اللہ عنہم ایک اونٹ یا گائے میں سات افراد تک شریک ہوتے تھے (صحیح مسلم)
احتیاط:
• کسی شریک کی نیت صرف گوشت حاصل کرنا نہ ہو
• حصہ کم یا زیادہ نہیں ہونا چاہیے
قربانی کی کھال بھی صدقہ کا حصہ ہے، اس کا صحیح مصرف شریعت کے مطابق ہونا چاہیے۔
درست طریقہ:
• کھال مستحق افراد، مدارس یا دینی اداروں کو دی جائے میں ان بیجوں کا پھل ملتا ہے۔
• اسے بیچ کر ذاتی استعمال کرنا جائز نہیں
• قصائی کو اجرت کے طور پر کھال دینا درست نہیں
فقہی اصول:
قربانی کا ہر حصہ اللہ کے لیے مخصوص ہے، اسے تجارت یا معاوضہ نہیں بنایا جا سکتا
اہم نکتہ:
• اگر کھال فروخت کی جائے تو اس کی رقم صدقہ کرنا ضروری ہے