دعوت اسلامی کی دینی خدمات دیگر ممالک میں بھی دیکھئے
ہسٹری

مخصوص سرچ

30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں

Qurbani Kay Fatawa | قربانی کےفتاویٰ

book_icon
قربانی کےفتاویٰ
            

متفرقات

ذو الحجہ کے 10 دنوں میں ناخن بال کاٹنے کا حکم

فتویٰ نمبر :56 کیا فرماتے ہیں علمائے دین و مفتیان شرع متین اس مسئلے کے بارے میں کہ جس پر قربانی واجب ہو، کیا اسے قربانی تک بال اور ناخن نہ کاٹنا ضروری ہیں؟ (۲) اور جس پر قربانی واجب نہیں، اس کے لیے کیا حکم ہے؟ سائل:محمد شفیق اطہر ( واہ کینٹ) بِسْمِ اللّٰہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ اَلْجَوَابُ بِعَوْنِ الْمَلِکِ الْوَھَّابِ اَللّٰھُمَّ ھِدَایَۃَ الْحَقِّ وَالصَّوَابِ جس نے قربانی کرنی ہو، حدیثِ پاک میں اسے ذو الحجہ کا چاند طلوع ہونے کے بعد سے قربانی تک اپنے بال اور ناخن کاٹنے سے منع فرمایا گیا ہے، لیکن یہ حکم وجوبی نہیں، بلکہ استحبابی ہے، یعنی اس پر عمل کرنا بہتر ہے، لہذا اگر کسی نے بال یا ناخن کاٹ لیے، تو گنہگار نہیں۔ یہاں یہ بات واضح رہے کہ موئے زیرِ ناف و بغل اور ناخن، چالیس دن کے اندر کاٹنا ضروری ہیں، چالیس دن سے زائد بڑھانا مکروہ تحریمی، ناجائز و گناہ ہے، لہذا اگر کسی نے کئی دن سے ناخن یا موئے زیرِ ناف و بغل نہ کاٹے ہوں اور قربانی تک نہ کاٹنے سے چالیس دن سے زائد کا عرصہ ہو جائے گا، تو اب وہ اس مستحب پر عمل نہیں کر سکتا۔ قربانی کرنے والا اپنے ناخن اور بال نہ کاٹے۔ چنانچہ صحیح مسلم میں حضرت ام سلمہ رَضِیَ اللہُ عَنْہَا سے مروی ہے ، رسول اللّٰہ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے ارشاد فرمایا:’’ من کان لہ ذبح، یذبحہ فاذا اھل ھلال ذی الحجۃ، فلا یاخذن من شعرہ ولا من اظفارہ شیئاً حتی یضحی ‘‘ ترجمہ: جس کے پاس قربانی کے لیے جانور ہو، تو جب ذو الحجہ کا چاند طلوع ہو جائے، وہ اپنے بالوں اور ناخنوں سے کچھ بھی نہ کاٹے، حتی کہ قربانی کر لے ۔ ‘‘ (صحیح مسلم، کتاب الاضاحی، باب نھی من دخل۔۔ الخ، جلد 2، صفحہ 160،مطبوعہ کراچی) یونہی جامع ترمذی میں ہے، آپ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے ارشاد فرمایا:’’ من رای ھلال ذی الحجۃ واراد ان یضحی، فلا یاخذن من شعرہ ولا من اظفارہ ‘‘ ترجمہ : جو ذو الحجہ کا چاند دیکھے اور قربانی کا ارادہ رکھتا ہو، تو وہ اپنے بال اور ناخن نہ کاٹے۔‘‘ (جامع ترمذی، ابواب الاضاحی، باب ترک اخذ الشعر لمن ارادہ ان یضحی، جلد 1، صفحہ 278،مطبوعہ کراچی) مراۃ المناجیح میں ہے:’’جو امیر وجوباً یا فقیر نفلاً قربانی کا ارادہ کرے، وہ بقر عید کا چاند دیکھنے سے قربانی کرنے تک ناخن بال اور مردار کھال وغیرہ نہ کاٹے، نہ کٹوائے تاکہ حاجیوں سے قدرے مشابہت ہو جائے، کہ وہ لوگ احرام میں حجامت نہیں کرا سکتے اور تا کہ قربانی ہر بال، ناخن کا فدیہ بن جائے۔ یہ حکم استحبابی ہے، وجوبی نہیں، لہذا قربانی والے پر حجامت نہ کرانا بہتر ہے، لازم نہیں۔ اس سے معلوم ہو اکہ اچھوں سے مشابہت بھی اچھی ہے ۔ ‘‘ (مراۃ المناجیح، جلد 2، صفحہ 370، نعیمی کتب خانہ، گجرات) فتاوی رضویہ میں ہے:’’یہ حکم صرف استحبابی ہے، کر ے تو بہتر ہے، نہ کرے تو مضائقہ نہیں، نہ اس کو حکم عدولی کہہ سکتے ہیں، نہ قربانی میں نقص آنے کی کوئی وجہ، بلکہ اگر کسی شخص نے ۳۱ (اکتیس) دن سے کسی عذر کے سبب خواہ بلا عذر ناخن نہ تراشے ہوں، نہ خط بنوایا ہو کہ چاند ذی الحجہ کا ہو گیا، تو وہ اگرچہ قربانی کا ارادہ رکھتا ہو، اس مستحب پر عمل نہیں کر سکتا، اب دسویں تک رکھے گا، تو ناخن و خط بنوائے ہوئے اکتالیسواں دن ہو جائےگااور چالیس دن سے زیادہ نہ بنوانا گناہ ہے، فعل مستحب کے لئے گناہ نہیں کر سکتا ۔ ‘‘ (فتاوی رضویہ، جلد 20، صفحہ 353، رضا فاؤنڈیشن، لاہور) (۲) جو شخص قربانی نہ کر سکے، اگر وہ بھی اس عشرہ مبارکہ ( یعنی ذو الحج کے پہلے دس ایام) میں بال اور ناخن کاٹنے سے رُکا رہے، پھر بعد نمازِ عید حجامت وغیرہ کروا لے، تو قربانی کا ثواب پائے گا۔ سنن ابو داؤد و نسائی میں حضرت عبد اللّٰہ بن عمرو بن عاص رَضِیَ اللہُ عَنْہ سے مروی ہے ، نبی کریم صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے ارشادفرمایا:’’ امرت بیوم الاضحی عیداً، جعلہ اللہ عزوجل لھذہ الامۃ، فقال الرجل: ارایت ان لم اجد الّا منیحۃ انثی، افاضحی بھا قال: لا، لکن تاخذ من شعرک وتقلم اظفارک وتقص شاربک وتحلق عانتک، فذلک تمام اضحیک عند اللہ عزوجل ‘‘ ترجمہ : مجھے یوم اضحیٰ کا حکم دیا گیا، اس دن کو اللّٰہ پاک نے اس امت کے لیے عید بنایا۔ ایک شخص نے عرض کی: یا رسول اللّٰہ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم ! اگر میرے پاس منیحہ (یعنی ادھار لیے گئے جانور) کے سوا کوئی جانور نہ ہو، تو کیا اسی کی قربانی کر دوں؟ فرمایا: نہیں۔ہاں! تم اپنے بال، ناخن اور مونچھیں تراشو اور موئے زیر ناف مونڈھ لو، اسی میں تمہاری قربانی اللّٰہ پاک کے ہاں پوری ہو جائے گی ۔ ‘‘ (سنن نسائی، کتاب الضحایا، باب من لم یجد الاضحیۃ، جلد 2، صفحہ 201، مطبوعہ لاہور) مراۃ المناجیح میں ہے:’’جو قربانی نہ کر سکے، وہ بھی اس عشرہ میں حجامت نہ کرائے، بقر عید کے دن بعدِ نماز حجامت کرائے، تو ان شاء اللہ ثواب پائے گا، جیسا کہ بعض روایت میں ہے‘‘۔ (مراۃ المناجیح، جلد 2، صفحہ 370، نعیمی کتب خانہ، گجرات) صدر الشریعہ مولانا مفتی محمد امجد علی اعظمی علیہ الرحمۃ مذکورہ حدیثِ پاک ذکر کرنے کے بعد فرماتے ہیں:’’یعنی جس کو قربانی کی توفیق نہ ہو، اسے ان چیزوں کے کرنے سے قربانی کا ثواب حاصل ہو جائے گا‘‘۔ (بہار شریعت، حصہ 15، صفحہ 330، مکتبہ المدینہ، کراچی) وَاللہُ اَعْلَمُ عَزَّوَجَلَّ وَ رَسُوْلُہٗ اَعْلَم صلَّی اللہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم کتبـــــــــــــــــــــــــہ مفتی محمد قاسم عطاری 28ذو القعدۃ الحرام1440ھ/01اگست 2019ء

جلدی نمازِ عید پڑھ لینے والوں کا دوسروں کی قربانی کرنا کیسا ؟

فتویٰ نمبر :57 کیا فرماتے ہیں علمائے دین و مفتیان شرع متین اس مسئلے کے بارے میں کہ ہمارے علاقہ میں متعدد جگہ عید کی نماز ہوتی ہے، مرکزی مسجد میں عید کی نماز دیگر مساجد کی نسبت کچھ تاخیر سے ہوتی ہے،ہمارے یہاں مقامی مدرسہ میں اجتماعی قربانی کا سلسلہ ہوتا ہے،اگر قاری صاحبان جلدی عید کی نماز پڑھ کر ان افراد کی قربانی کردیں جو مرکزی مسجد میں عید کی نماز پڑھتے ہوں اور ابھی تک انہوں نے نماز عید نہ پڑھی ہو،تو قاری صاحبان کا اس طرح کرنا کیسا ؟ایسا کرنے سے قربانی ہوگی یا نہیں؟ بِسْمِ اللّٰہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ اَلْجَوَابُ بِعَوْنِ الْمَلِکِ الْوَھَّابِ اَللّٰھُمَّ ھِدَایَۃَ الْحَقِّ وَالصَّوَابِ پوچھی گئی صورت میں جبکہ آپ کے ہاں متعدد جگہوں پر عید کی نماز ہوتی ہے ،تو قاری صاحبان کا جلدی عید کی نماز پڑھ کر ان افراد(جو مرکزی مسجد میں عید کی نماز پڑھتے ہیں اور انہوں نے ابھی تک نماز نہیں پڑھی، ان ) کی قربانی کر دینا جائز ہےاور ان افراد کی قربانی بھی ہوجائے گی، کیونکہ جہاں متعدد جگہ عید کی نماز ہوتی ہو ، وہاں پہلی جگہ نماز ہوچکنے کے بعد قربانی جائز ہے یعنی یہ ضروری نہیں کہ عیدگاہ میں نماز ہو جائے جب ہی قربانی کی جائے، بلکہ کسی مسجد میں ہوگئی اور عیدگاہ میں نہ ہوئی جب بھی ہوسکتی ہےجیسا کہ ردالمحتار میں ہے ” ولو ضحى بعدما صلى أهل المسجد ولم يصل أهل الجبانة أجزأه استحسانا “یعنی:اگر مسجد والوں کی نماز کےبعد قربانی کی اس حال میں کہ ابھی عید گاہ والوں نےنماز نہیں پڑھی تھی ،تو استحسانا قربانی کرنا درست ہے۔(ردالمحتارمع الدر المختار،ج9،ص528، مطبوعہ کوئٹہ) یونہی الجوهرة النيرة میں ہے : ” تجوز صلاة العيد في المصر في موضعين ويجوز أن يضحي بعدما صلى في أحد الموضعين استحسانا “یعنی:نماز عید شہر میں دو جگہوں پر جائز ہے اور دو جگہوں میں سے ایک میں نماز پڑھنے کے بعد قربانی کرنا استحساناجائز ہے۔ (الجوہرة النيرة،ج1،ص114، مطبوعہ ملتان) صدرالشریعہ مفتی امجد علی اعظمی علیہ الرحمۃ ایک جگہ نماز ہو جانے کے بعد قربانی کے درست ہونے کے بارے میں ارشاد فرماتے ہیں”اگر شہر میں متعدد جگہ عید کی نماز ہوتی ہو ،تو پہلی جگہ نماز ہوچکنے کے بعد قربانی جائز ہے یعنی یہ ضرور نہیں کہ عیدگاہ میں نماز ہو جائے جب ہی قربانی کی جائے ،بلکہ کسی مسجد میں ہوگئی اور عیدگاہ میں نہ ہوئی جب بھی ہوسکتی ہے۔“ (بہارشریعت،حصہ15،ص337،مکتبۃ المدینہ،کراچی) وَاللہُ اَعْلَمُ عَزَّوَجَلَّ وَ رَسُوْلُہٗ اَعْلَم صلَّی اللہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم کتبـــــــــــــــــــــــــہ مفتی محمد قاسم عطاری 07ربیع الاول1437ھ/07دسمبر 6201 ء

بیرونِ ملک والے کی قربانی پاکستان کی جائے ، تو کہاں کے وقت کا اعتبار ہوگا ؟

فتویٰ نمبر :58 کیا فرماتے ہیں علمائے دین و مفتیان شرع متین اس مسئلے کے بارے میں کہ ایک شخص بیرون ملک ہے، پاکستان میں اس نے قربانی کے لیے رقم بھیجی ہے، پوچھنا یہ ہے کہ نماز عید پڑھ کر پاکستان میں اس آدمی کے جانور کی قربانی کر سکتے ہیں؟ حالانکہ بیرون ملک میں ابھی دس ذوالحج کی صبح صادق نہیں ہوئی؟ وضاحت فرما دیں۔ سائل: غلام ربانی عطاری(کوٹلی، آزاد کشمیر) بِسْمِ اللّٰہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ اَلْجَوَابُ بِعَوْنِ الْمَلِکِ الْوَھَّابِ اَللّٰھُمَّ ھِدَایَۃَ الْحَقِّ وَالصَّوَابِ پوچھی گئی صورت میں بیرون ملک والا شخص جہاں رہتا ہے ، اگر وہاں ابھی تک دس ذوالحج کی صبح صادق طلوع نہیں ہوئی، تو اس کی قربانی پاکستان میں کرنے سے واجب قربانی ادا نہیں ہو گی، کیونکہ قربانی کے وجوب کا سبب وقت ہے اور وہ وقت دس ذوالحج کی صبح صادق طلوع ہونے سے شروع ہوتا ہے،لہذا دس ذوالحج کی صبح صادق طلوع ہونے سے پہلے قربانی واجب ہی نہیں ہوئی، لہذا وجوب سے پہلے ہی کی گئی قربانی سے، بعد میں واجب ہونے والی قربانی ادا نہیں ہو گی، اگرچہ پاکستان میں دیہات میں قربانی کرنے کی صورت میں صبح صادق طلوع ہو چکی ہو، یا شہر میں قربانی کرنے کی صورت میں یہاں شہر کے کسی مقام پر عید کی نماز ہو چکی ہو۔ البتہ بیرون ملک والا شخص جہاں موجود ہے، اگر وہاں دس ذوالحج کی صبح صادق کا وقت ہو گیا ہے، تو اب پاکستان کے دیہات میں قربانی کرنے کی صورت میں یہاں دس ذوالحجۃ الحرام کو طلوع فجر کے بعد اور شہر میں قربانی کرنے کی صورت میں یہاں اس شہر کے کسی مقام پر نماز عید ہو چکنے کے بعدقربانی کی ، تو ادا ہو جائے گی اگرچہ جس کی طرف سے قربانی کی جا رہی ہے، جہاں وہ شخص موجود ہے ، وہاں ابھی تک عید کی نماز نہ ہوئی ہو، کیونکہ اس میں قربانی والی جگہ کا اعتبار ہے، قربانی کرنے والے کے شہر کا اعتبار نہیں ہے۔ صاحب درمختار قربانی کے وجوب کے سبب کو ذکر کرتے ہوئے فرماتے ہیں:” و سببھا الوقت و ھو أیام النحر “ اور اس کے وجوب کا سبب وقت ہےاور وہ ایام النحر کا وقت ہے۔ اس عبارت کے تحت علامہ شامی علیہ الرحمۃ فرماتے ہیں:” ذکر فی النھایۃ أن سبب وجوب الأضحیۃ و وصف القدرۃ فیھا بأنھا ممکنۃ أو میسرۃ لم یذکر لا فی أصول الفقہ و لا فی فروعہ، ثم حقق أن السبب ھو الوقت، لأن السبب إنما یعرف بنسبۃ الحکم إلیہ و تعلقہ بہ، إذ الأصل فی إضافۃ الشئ إلی الشئ أن یکون سبباً “ ترجمہ : نہایہ میں ذکر کیا ہے کہ قربانی کے وجوب کا سبب اور اس میں ممکن اور آسان ہونے کے اعتبار سے قدرت کا وصف ذکر نہیں کیا گیا، نہ اصول فقہ میں اور نہ ہی اس کی فروعات میں۔ پھر انہوں نے تحقیق فرمائی کہ اس کے وجوب کا سبب وقت ہے، اس لیے کہ سبب کی پہچان، اس کی طرف حکم کی نسبت اور اس کے ساتھ حکم کے تعلق سے ہوتی ہے، اس لیے کہ ایک شے کی دوسری شے کی طرف اضافت میں اصل یہی ہے کہ وہ دوسری شے کے لیے سبب ہو۔ (الدر المختار مع رد المحتار، جلد 9 ص 520، مطبوعہ پشاور) درمختار مع ردالمحتار میں ہے:’’ أول وقتھا بعد الصلوۃ إن ذبح فی مصر وبعد طلوع فجر یوم النحر إن ذبح فی غیرہ والمعتبر مکان الأضحیۃ لا مکان من علیہ ‘‘ یعنی قربانی کا وقت نماز کے بعد ہے، اگر شہر میں کرے اور اگر گاؤں میں ذبح کرنی ہو تو عید کے روز صبح طلوع ہونے کے بعد اور قربانی میں ذبح کرنے کی جگہ معتبر ہے، قربانی کرنے والے کی جگہ معتبر نہیں۔ (الدر المختار مع ردالمحتار، جلد9،ص 529، مطبوعہ پشاور) فتاوی عالمگیری میں ہے:’’ إن الرجل إذا کان فی مصر و أھلہ فی مصر آخر فکتب إلیھم لیضحوا عنہ فإنہ یعتبر مکان التضحیۃ فینبغی أن یضحوا عنہ بعد فراغ الإمام من صلاتہ فی المصرالذی یضحی عنہ فیہ ‘‘ یعنی اگرایک شخص ایک شہر میں ہو اور اس کے اہل دوسرے شہر میں ہوں،وہ اپنے گھر والوں کو کہےکہ میری طرف سے قربانی کریں، توبے شک اس میں قر بانی والی جگہ کا اعتبار کیا جائے گا، یعنی اس کے اہل کے لیے اجازت ہو گی کہ وہ جس شہر میں قربانی کر رہے ہیں، اس شہر میں امام کے نماز عید سے فارغ ہونے کے بعد، اس شخص کی طرف سے قربانی کر دیں۔ (فتاوی عالمگیری، جلد5، ص 366،مطبوعہ کراچی) صدر الشریعہ بدر الطریقہ مولانا مفتی محمد امجد علی اعظمی علیہ رحمۃ اللہ القوی فرماتے ہیں:”قربانی واجب ہونے کا سبب وقت ہے، جب وہ وقت آیا اور شرائط وجوب پائے گئے، قربانی واجب ہو گئی“۔ (بہار شریعت، جلد3، حصہ 15،ص333مکتبۃ المدینہ، کراچی) ایک اور مقام پر فرماتے ہیں:”قربانی کا وقت دسویں ذی الحجہ کے طلوع صبح صادق سے بارہویں کے غروب آفتاب تک ہے۔ “(بہار شریعت، جلد3، حصہ 15،ص336 ، مکتبۃ المدینہ، کراچی) مزید ایک اور جگہ فرماتے ہیں:’’یہ جو شہر اور دیہات کا فرق بتایا گیاہے، یہ مقام قربانی کے لحاظ سے ہے، قربانی کرنے والے کے اعتبار سے نہیں، یعنی دیہا ت میں قربانی ہو تو وہ وقت ہے ،اگرچہ قربانی کرنے والا شہر میں ہو اور شہر میں ہو تو نماز کے بعد ہو،اگرچہ جس کی طرف سے قربانی ہو وہ دیہات میں ہو۔ ‘‘ (بہار شریعت، جلد3، حصہ 15،ص337مکتبۃ المدینہ، کراچی) وَاللہُ اَعْلَمُ عَزَّوَجَلَّ وَ رَسُوْلُہٗ اَعْلَم صلَّی اللہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم الجواب صحیح مفتی محمد قاسم عطاری کتبـــــــــــــــــــــــــہ المتخصص فی الفقہ الاسلامی محمد نوید چشتی 28صفر المظفر 1441ھ/ 28اکتوبر 2019ء

اجتماعی قربانی والوں کا مسجد میں گوشت بنانا کیسا ؟

فتویٰ نمبر :59 کیا فرماتے ہیں علمائے دین ومفتیانِ شرعِ متین اس مسئلے کے بارے میں کہ ایک مسجد میں اجتماعی قربانی کا اہتمام ہوتاہےاوراجتماعی قربانی کرنے والے مسجد کے صحن میں جو کہ عین ِ مسجد ہے ، وہاں پر گوشت بناتے ہیں ،جس سے مسجد کا صحن آلودہ ہوجاتا ہے اور نمازیوں کوتکلیف ہوتی ہے۔ مسجد کے صحن میں گوشت بنانا شرعی طور پرکیسا ہے؟ عین ِمسجد کے صحن میں بغیر کچھ بچھائے ماربل پرگوشت بناتے ہیں ، جس سے مسجد کا فرش آلودہ ہوجاتا ہے۔ اس بارے میں جو حکم شرعی ہو بیان فرمائیں ۔ بِسْمِ اللّٰہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ اَلْجَوَابُ بِعَوْنِ الْمَلِکِ الْوَھَّابِ اَللّٰھُمَّ ھِدَایَۃَ الْحَقِّ وَالصَّوَابِ اجتماعی قربانی کرنے والوں کا عینِ مسجد کے صحن میں گوشت بنانا ،مسجد کے فرش کو آلودہ کرنا یہ مسجد کی بے ادبی اور سخت ناجائز وحرام ہے کہ مسجدیں ان کاموں کے لیے نہیں بنیں اور جن کاموں کے لیے مساجد نہیں بنیں،حدیث میں ان کاموں کو مسجد میں کرنے سے منع کیا گیا ہے ۔ مسجد میں گوشت بنانا تو دور کی بات ہے،کچا گوشت لے کر صرف مسجد سے گزرنے کی بھی احادیث میں ممانعت ہے ۔ نیز مسجد کو آلودہ کرنا حرام ہے،اگرچہ وہ کسی پاک چیز سےہی ہو اور مسجد کو صاف ستھرا رکھنا واجب ہے، لہٰذا صحنِ مسجد میں گوشت پھیلاکر مسجد کو آلودہ اور بدبودار کرنا بلاشبہ حرام کام ہے ۔جس جس نے ایسا کیا ہے ، وہ سب گنہگار اور مستحق عذاب نار ہیں ۔ ان پر اپنے اس حرام فعل سے توبہ فرض ہے ۔ نبی کریم صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم ارشاد فرماتے ہیں:” من سمع رجلا ینشد ضالۃ فی المسجد فلیقل لاردھا ﷲ علیک فان المساجد لم تبن لھٰذا “ترجمہ:جو کسی شخص کو سنے کہ مسجد میں اپنی گم شدہ چیز دریافت کرتا ہے، تو اسے چاہیے کہ اس سے کہے : اللّٰہ تیری گمی چیز تجھے نہ ملائے،کیونکہ مسجدیں اس لیے نہیں بنیں ۔ (صحیح مسلم،جلد1،صفحہ 397،داراحیاء التراث العربی،بیروت) علامہ بدرالدین عینی حنفی رَحْمَۃُ اللہِ عَلَیْہ اس حدیث کے تحت فرماتے ہیں :” قوله :” لم تبن لهذا أي:لإنشاد الضالة؛وإنما بُنيت لأداء الفرائض۔وقد يدخل في هذا كل أمرٍ لم يُبن له المسجد من البيع والشراء، ونحوذلك من أمور معاملات الناس واقتضاء حقوقهم “ترجمہ:نبی کریم صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کا فرمان کہ مساجد اس کام کے لیے نہیں بنیں یعنی مسجدیں اپنی گمشدہ چیزیں تلاش کرنے کے لیے نہیں بنیں،بلکہ وہ تو فرائض ادا کرنے کے لیے بنی ہیں اور اس (ممانعت )میں ہروہ کام داخل ہے،جس کے لیے مسجد نہیں بنی جیسے خریدوفروخت اوراس کی مثل لوگوں کے دیگر معاملات اور ان کے حقوق کی ادائیگی سے متعلقہ امور۔(شرح ابی داود للعینی ،بَابٌ فِی كرَاہیۃ إنشَادِ الضَّالَّۃ فی المَسجِد،جلد2،صفحہ386،مطبوعہ بیروت) نبی کریم صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے کچا گوشت مسجد میں لے جانے سے منع فرمایا ہے ۔ جیسا کہ سنن ابن ماجہ میں ہے : ” عن ابن عمر رضی اللہ عنھما،عن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم قال :” خصال لاتنبغی فی المسجد:لا یتخذ طریقاً ۔۔ولا یمر فیہ بلحم نیء۔ ملتقطاً “ترجمہ:حضرت عبد اللّٰہ بن عمر رَضِیَ اللہُ عَنْہُمَا سے مروی ہے کہ رسول اللّٰہ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے ارشاد فرمایا : کچھ کام ایسے ہیں جو مسجد میں کرنے مناسب نہیں ۔(وہ یہ ہیں کہ )مسجد کو راستہ نہ بنایا جائے اور کچا گوشت لے کر مسجد سے نہ گزرا جائے ۔ (سنن ابن ماجہ ،باب مایکرہ فی المساجد ،رقم الحدیث 748،مطبوعہ دار ابن کثیر ،بیروت) مفتی امجدعلی اعظمی رَحْمَۃُ اللہِ عَلَیْہ فرماتے ہیں :”مسجد میں کچا لہسن پیاز کھا کر جانا ، جائز نہیں جب تک بو باقی ہو کہ فرشتوں کو اس سے تکلیف ہوتی ہے ۔ حضور اقدس صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم ارشاد فرماتے ہیں: جو اس بدبودار درخت سے کھائے وہ ہماری مسجد کے قریب نہ آئے کہ ملائکہ کو اس چیز سے ایذا ہوتی ہے جس سے آدمی کو ہوتی ہے اس حدیث کو بخاری و مسلم نے جابر رَضِیَ اللہُ عَنْہ سے روایت کیا یہی حکم ہر اس چیز کا ہے جس میں بدبُو ہو۔ جیسے گندنا، مولی،کچا گوشت(جس کی حدیث میں بھی صراحت ہے(۔ (بہارشریعت،جلد1،حصہ 03،صفحہ648،مکتبۃ المدینہ ، کراچی ) مسجد کو گندگی سے بچانا ضروری ہے ۔ جیسا کہ البحرالرائق میں ہے : ” إنما الحرمۃ للمسجدولکون المسجد یصان عن القاذورات ولو کانت طاهرۃ “ترجمہ:بیشک یہ مسجد کی حرمت کی وجہ سے ہے تاکہ مسجد کو ہر قسم کی گندی چیزوں سے بچایا جائے، اگرچہ وہ چیزیں پاک ہی کیوں نہ ہوں ۔ (البحرالرائق،کتاب الصلوۃ ،جلد02،صفحہ61،مطبوعہ کوئٹہ) مسجد کو صاف ستھرارکھنا واجب ہے ۔ جیسا کہ غمزعیون البصائرمیں ہے:” لأن تنظیف المسجد واجب “ترجمہ:کیونکہ مسجد کو صاف ستھرا رکھنا واجب ہے ۔ (غمزعیون البصائر،الفن الثانی،القول فی احکام المسجد،جلد04،صفحہ53-55،دار الکتب العلمیۃ) وَاللہُ اَعْلَمُ عَزَّوَجَلَّ وَ رَسُوْلُہٗ اَعْلَم صلَّی اللہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم کتبـــــــــــــــــــــــــہ مفتی محمد ہاشم خان عطاری 7 ذیقعدۃ الحرام1439ھ/21جولائی 1820 ء

قرعہ اندازی اور قربانی

فتویٰ نمبر :60 کیا فرماتے ہیں علمائے دین و مفتیانِ شرع متین اس مسئلے کے بارے میں کہ ایک دکاندار نے لوگوں کے لیے ایک پیکج کا اعلان کیا ہے کہ جو اس سے فریج یا دیگر چیزیں خرید ے گا ، وہ اس کا نام قرعہ انداز ی میں شامل کریں گے اور قرعہ اندازی کا ٹوکن پچاس روپے کا الگ سے لینا ہوگا ،جس کا نام قرعہ اندازی میں نکل آیا ، اسے بکرا یا گائے وغیرہ دی جائے گی اور جس کا نام نہ نکلا ، اس کے پچاس روپے واپس نہیں ملیں گے ، تو یہ اسکیم شرعا کیسی ہے ؟ بِسْمِ اللّٰہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ اَلْجَوَابُ بِعَوْنِ الْمَلِکِ الْوَھَّابِ اَللّٰھُمَّ ھِدَایَۃَ الْحَقِّ وَالصَّوَابِ پوچھی گئی صورت میں یہ انعامی طریقہ کار جوا ہے ، جوبلا شک و شبہ ناجائز وحرام ہے ،کیونکہ جس کا نام قرعہ انداز ی میں نکلے گا ، وہ تو انعام حاصل کرے گا اور جس کا نام نہیں نکلا ، اس کے پچاس روپے ضائع ہوگئے ،تو یہ اپنے مال کو خطرے پر ڈالنا ہے کہ زیادہ نفع والی چیز ملے گی یا اپنا مال ہی چلا جائے گا اور جوا اسی کو کہتے ہیں ۔افسوس کی بات تو یہ ہے کہ علم ِدین نہ ہونے کی وجہ سے کس طرح قربانی جیسی عبادت والے کام میں بھی شیطان نے لوگوں کو حرام و گناہ میں مبتلا کردیا ہے ، لہٰذا دکاندار پر لازم ہے اس قرعہ اندازی والی اسکیم کو ختم کرے اور جس جس سے پچاس روپے بطور ٹوکن لیے ہیں ، ان کو واپس کرے ۔ اللہ جل جلالہ قرآن مجیدمیں جوئے کی حرمت کے بارے میں ارشادفرماتا ہے: ) یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْۤا اِنَّمَا الْخَمْرُ وَ الْمَیْسِرُ وَ الْاَنْصَابُ وَ الْاَزْلَامُ رِجْسٌ مِّنْ عَمَلِ الشَّیْطٰنِ فَاجْتَنِبُوْهُ لَعَلَّكُمْ تُفْلِحُوْنَ(۹۰) ( ترجمۂ کنزالایمان : ’’اے ایمان والو! شراب اور جوا اور بت اور پانسے ناپاک ہی ہیں، شیطانی کام ۔ تو ان سے بچتے رہنا کہ تم فلاح پاؤ۔‘‘ (القرآن، سورۃ المائدہ، آیت90 ) باطل طریقے پر ایک ،دوسرے کے مال کھانے کو سختی سے منع فرمایا گیا ہے ۔ چنانچہ ارشادِخداوندی ہے : ) وَ لَا تَاْكُلُوْۤا اَمْوَالَكُمْ بَیْنَكُمْ بِالْبَاطِلِ ( ترجمہ:ایک دوسرے کامال نا حق طور پر نہ کھاؤ۔‘‘ (القرآن ،سورۃ البقَرۃ،آیت 188) مبسوط میں جوئے کی تعریف سے متعلق ہے:’’ تعلیق استحقاق المال بالخطر قمار، والقمار حرام فی شریعتنا ‘‘ترجمہ:مال کے استحقاق کو خطرے کے ساتھ معلق کرنا جوا ہےاور جوا ہماری شریعت میں حرام ہے۔ ( المبسوط للسرخسی،کتاب الاباق،ج11،ص20،مطبوعہ کوئٹہ) وَاللہُ اَعْلَمُ عَزَّوَجَلَّ وَ رَسُوْلُہٗ اَعْلَم صلَّی اللہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم الجواب صحیح مفتی محمد قاسم عطاری کتبـــــــــــــــــــــــــہ المتخصص فی الفقہ الاسلامی ابو حذیفہ محمد شفیق عطاری 24 ذیقعدۃ الحرام 1439 ھ/07 اگست 2018 ء

گولی سے مارا ہوا جانور حلال ہے یا حرام ؟

فتویٰ نمبر :61 کیافرماتےہیں علمائےدین ومفتیانِ شرعِ متین اس مسئلے کے بارےمیں کہ اگر کسی حلال جانورکو چھری سے ذبح کی بجائےاس طرح گولی کے ذریعے مارا جائے کہ گولی چلانے سے پہلےتکبیر پڑھ لی جائے،تو کیا وہ جانور حلال ہو گا؟ سائل:محمدشاہد بِسْمِ اللّٰہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ اَلْجَوَابُ بِعَوْنِ الْمَلِکِ الْوَھَّابِ اَللّٰھُمَّ ھِدَایَۃَ الْحَقِّ وَالصَّوَابِ پوچھی گئی صورت میں وہ جانور حلال نہیں ہوگا،کیونکہ عمومی حالات میں پالتو جانور کو گولی کے ساتھ ماراہویاشکارکےدوران جانور کوگولی کے ذریعےمارا ہو، بہر صورت جانور حرام ہوگا۔اس مسئلےکی تفصیل کچھ یوں ہے کہ ذبح شرعی کی دو صورتیں ہیں: (1)ذبح اختیاری:کسی دھاری ر دار چیز کے ساتھ ذبح والے جانور(مثلاً بکری،گائے وغیرہ)کی مقامِ ذبح سےمخصوص رگیں کاٹنایا نحر والے جانور(مثلاًاونٹ) کی محل نحرسےمخصوص رگیں کاٹناذبح اختیاری کہلاتا ہےجیسے عمومی حالت میں پالتو جانوروں کو ذبح اختیاری کے طور پر ہی ذبح کیا جاتا ہے۔ (2) ذبح اضطراری:جب ذبح اختیاری ممکن نہ ہو،توجانور کے کسی بھی حصے پر دھاری دارچیزکا وارکرکےاُسے مارناذبح اضطراری کہلاتا ہے جیسے شکار یا بعض اوقات پالتو جانور کےوحشی ہوجانے کی صورت میں جانور کوذبح اضطراری کے طور پر ذبح کیا جاتا ہے۔ اگر ذبح اختیاری ممکن تھااورگولی کےذریعےجانورماردیا،تووہ جانورحرام ہوگا، کیونکہ جب ذبح اختیاری ممکن ہو،توذبح اختیاری ہی ضرور ی ہےاور اس کےبغیرجانور مرگیا، وہ حلال نہیں ہوگا۔ المبسوط للسرخسی میں ہے:’’ عندتعذر الحل بذکاۃ الاختیار یثبت الحل بذکاۃ الاضطرار ‘‘ترجمہ:جب جانور کو ذبح اختیاری کےساتھ حلال کرنا ، ممکن نہ ہو،تب ذبح اضطراری کے ساتھ اُس جانور کا حلال ہوناثابت ہو گا۔(المبسوط للسرخسی،ج11،ص228،دارالمعرفۃ،بیروت) البحرالرائق میں ہے:’’ لوترک ذکاتہ مع القدرۃ علیہ یحرم ‘‘ترجمہ:اگر(جانور شکار کیا اور جب قریب پہنچا،تو) ذبح اختیاری ممکن تھا،پھربھی ذبح نہ کیا،تو وہ جانورحرام ہو جائے گا۔ (البحرالرائق،ج8،ص262،دارالکتب الاسلامی،بیروت) اوراگر ایسی صورت ہوکہ جس میں ذبح اختیاری ممکن نہ ہوجیسے شکار کرنے کی صورت میں ،توبھی گولی مارنے سے جانورحلال نہیں ہوگا،کیونکہ گولی کی دھارنہیں ہوتی،بلکہ وہ اپنے شدیددباؤ کی وجہ سے جسم میں داخل ہوکرموت کا سبب بنتی ہے،جبکہ ذبح اختیاری ہو یا اضطراری، بہرصورت ذبح شرعی کے لیےضروری ہے کہ کسی دھاری دارچیزمثلاًچھری وغیرہ سےجانورذبح کیاجائے،اگرکسی ایسی چیز سے ذبح کیا گیا،جس کی دھارنہ ہواوراُس کی دب و ثقل(وزن)کی وجہ سے جانور مرگیا،توجانور حلال نہیں ہوگا ۔ جیساکہ کوئی لاٹھی کے وار سے جانور کو ماردے،تو وہ جانور حرام و مردار ہے،لہٰذا اس صورت میں بھی گولی کی وجہ سے مرنے والاجانورحرام ہوگا۔ ذبح کے لیےدھاری دارآلہ ہونا ضروری ہے۔ چنانچہ اللّٰہ تعالی ارشاد فرماتا ہے) حُرِّمَتْ عَلَیْكُمُ الْمَیْتَةُ وَ الدَّمُ وَ لَحْمُ الْخِنْزِیْرِ وَ مَاۤ اُهِلَّ لِغَیْرِ اللّٰهِ بِهٖ وَ الْمُنْخَنِقَةُ وَ الْمَوْقُوْذَةُ ( ترجمہ کنزالایمان:تم پرحرام ہے مرداراور خون اور سور کاگوشت اور وہ جس کے ذبح میں غیر خدا کا نام پکارا گیا اور وہ جو گلہ گھونٹنے سے مرے اور بے دھار کی چیز سے مارا ہوا۔ (پارہ6،سورۃ المائدہ،آیت3) حضرت سیّدناعدی بن حاتم رَضِیَ اللہُ عَنْہ نے نبی کریم صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم سے معراض (بغیر پَر کے تیر،جس کا درمیانی حصہ موٹا ہوتا ہے)کے شکار سے متعلق پوچھا،تو آپ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے ارشاد فرمایا:’’ مااصاب بحدہ فکلہ ومااصاب بعرضہ فھو وقیذ ‘‘ترجمہ:اُس کی دھار سے اگرجانورمرگیا،تواُسے کھاؤاور اگر(دھار کی بجائے)اُس کی چوڑائی والےحصےکی وجہ سے مرگیا،تووہ موقوذہ(کے حکم)میں ہے۔ (صحیح بخاری،ج2،ص823،مطبوعہ کراچی) اللباب فی شرح الکتاب میں ہے:’’( ومااصاب المعراض بعرضہ لم یؤکل ) الجرح لابدمنہ لیتحقق معنی الذکاۃ علی ماقدمناہ ( وان ) اصاب بحدہ ( جرحہ اکل ) لتحقق معنی الذکاۃقیدنا بالجرح بالحد لانہ لوجرحہ بعرضہ فمات لم یؤکل لقتلہ بثقلہ ‘‘ترجمہ:’’معراض کی چوڑائی والے حصے کی وجہ سے جانور مر گیا،تواُسے نہیں کھا سکتے‘‘ذبح شرعی کے تحقق کے لیےدھاری دار آلے سے زخم لگنا ضروری ہے’’اور اگراُس کی دھار کی وجہ سے جانور مرا،تواُسے کھا سکتے ہیں‘‘،کیونکہ ذبح شرعی کا معنیٰ متحقق ہوچکا۔زخم کے لیے دھاری دار چیز کے ساتھ اس لیے مقید کیا،کیونکہ اگر دھار کی بجائے،چوڑائی والا حصہ لگنے سے جانور مرجائے،تواُسے کھانا حلال نہیں،کیونکہ وہ اُس کے ثقل(وزن و دباؤ) کی وجہ سے قتل ہوا۔ (اللباب فی شرح الکتاب،ج3،ص221،المکتبۃ العلمیۃ،بیروت) امام اہلسنت الشاہ امام احمد رضا خان علیہ الرحمۃ فرماتے ہیں:’’ آلہ کا حدید یعنی تیز ہونا اگر چہ شرط نہیں، مگر محدد یعنی باڑھ(دھار) دار ہونا کہ قابل قطع وخرق ہو ضرور ہے۔‘‘ (فتاوی رضویہ،ج20،ص344، رضا فاؤنڈیشن،لاہور) ’’الموقوذۃ‘‘کے تحت حکیم الامت مفتی احمد یار خان نعیمی علیہ الرحمۃ ارشاد فرماتے ہیں :’’خواہ لاٹھی سے مارا ہو یا گولی سے یا غلہ (مٹی کی گولی)سے ،حرام ہے۔‘‘ (تفسیر نور العرفان ،ص129،نعیمی کتب خانہ،گجرات) علامہ ابن عابدین شامی علیہ الرحمۃ فرماتے ہیں:’’ لایخفی ان الجرح بالرصاص انما ھو بالاحراق والثقل بواسطۃ اندفاعہ العنیف اذالیس لہ حدفلا یحل وبہ افتی ابن نجیم ‘‘ترجمہ:یہ بات پوشیدہ نہیں کہ تانبے کی گولی کا زخم اس کےجلانےاورثقل(وزن)کی وجہ سے ہے،جو بذریعہ شدید دباؤ کے حاصل ہوتاہے ،کیونکہ گولی کی دھار نہیں ہوتی ،لہذا شکار حلا ل نہ ہوگا اور اسی کے مطابق علامہ ابن نجیم علیہ الرحمۃ نےفتوی دیا۔ (ردالمحتار،ج10،ص69تا70، مطبوعہ پشاور) امام اہلسنت علیہ الرحمۃ فرماتے ہیں:’’بندوق کی گولی دربارۂ حلتِ صید حکمِ تیر میں نہیں،اس کا مارا ہوا شکار مطلقاًحرام ہے کہ اس میں قطع وخرق نہیں،صدم ودق وکسر وحرق ہے۔‘‘ (فتاوی رضویہ،ج20،ص343، رضا فاؤنڈیشن،لاہور) بیان کردہ دونوں صورتوں میں اگرگولی لگنے کے بعدجانور زندہ تھا کہ اُسےشرعی طریقہ کار کےمطابق کسی دھاری دار چیزسے ذبح کرلیاگیا،تو وہ جانور حلال ہوگا۔ چنانچہ حرام جانوروں کوبیان کرنے کے بعد اللّٰہ تعالیٰ ارشاد فرماتا ہے:) اِلَّا مَا ذَكَّیْتُمْ ( ترجمہ کنزالایمان:مگر (حلال جانوروں میں سے مرنے سے پہلے)جنہیں تم ذبح کر لو۔ (پارہ6،سورۃ المائدہ،آیت3) امام اہلسنت علیہ الرحمۃ اس بارے میں فرماتے ہیں:’’ اگر ذبح کرلیا اور ثابت ہوا کہ ذبح کرتے وقت اس میں حیات تھی مثلا پھڑک رہا تھا یا ذبح کرتے وقت تڑپا اگر چہ خون نہ نکلا یا خون ایسا دیا جیسا مذبوح سے نکلا کرتاہے ،اگر چہ جنبش نہ کی یا کسی اور علامت سے حیات ظاہر ہوئی، تو حلال ہے۔‘‘ (فتاوی رضویہ،ج20،ص345، رضا فاؤنڈیشن،لاہور) وَاللہُ اَعْلَمُ عَزَّوَجَلَّ وَ رَسُوْلُہٗ اَعْلَم صلَّی اللہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم کتبـــــــــــــــــــــــــہ مفتی محمد قاسم عطاری 17ذوالحجۃ الحرام1440ھ/19اگست2019ء

کتاب کا موضوع

کتاب کا موضوع

Sirat-ul-Jinan

صراط الجنان

موبائل ایپلیکیشن

Marfatul Quran

معرفۃ القرآن

موبائل ایپلیکیشن

Faizan-e-Hadees

فیضانِ حدیث

موبائل ایپلیکیشن

Prayer Time

پریئر ٹائمز

موبائل ایپلیکیشن

Read and Listen

ریڈ اینڈ لسن

موبائل ایپلیکیشن

Islamic EBooks

اسلامک ای بک لائبریری

موبائل ایپلیکیشن

Naat Collection

نعت کلیکشن

موبائل ایپلیکیشن

Bahar-e-Shariyat

بہار شریعت

موبائل ایپلیکیشن