30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
اس کی دو قسمیں ہیں : ۱ ۔ اتصالی ۲ ۔ انفصالی
وہ قیاس استثنائی جس کا پہلا مقدمہ شرطیہ متصلہ ہو ۔ جیسے کُلَّمَا کَانَتِ الشَّمْسُ طَالِعَۃً فَالنَّھَارُ مَوْجُوْدٌ لٰکِنَّ الشَّمْسَ طَالِعَۃ نتیجہ اَلنَّھَارُ مَوْجُوْدٌ ۔
وہ قیاس استثنائی جس کا پہلا مقدمہ شرطیہ منفصلہ ہو ۔ جیسے ھٰذَالْعَدَدُ اِمَّازَوْجٌ أَوْفَرْدٌ لٰکِنَّہٗ زَوْجٌ ۔ نتیجہ ھٰذَالْعَدَدُ لَیْسَ بِفَرْدٍ ۔
قیا س اتصالی میں نتیجہ نکالنے کاطریقہ :
جب قیاس میں پہلا قضیہ متصلہ ہوتو اس کی دوصورتیں ہونگی ۔
۱ ۔ اگر عین مقدم کااستثناء کیاگیا ہوتو نتیجہ عین تالی ہو گا ۔ جیسے اِنْ کَانِتَ الشَّمْسُ طَالِعَۃً فَالنَّھَارُ مَوْجُوْدٌ لکِنَّ الشَّمْسَ طَالِعَۃٌ اس کا نتیجہ ہو گا أَلنَّھَارُ مَوْجُوْدٌ ۔
۲ ۔ اگر نقیض تالی کا استثناء کیا گیا ہوتو نتیجہ نقیض مقدم ہوگا ۔ جیسے اِنْ کَانَتِ الشَّمْسُ طَالِعَۃً فَالنَّھَارُ مَوْجُوْدٌ لکِنَّ النَّھَارَ لَیْسَ بِمَوْجُوْدٍ لہذا نتیجہ أَلشَّمْسُ لَیْسَ بِطَالِعَۃٍ ہو گا ۔
قیاس انفصالی میں نتیجہ نکالنے کاطریقہ :
جب قیاس کاپہلا قضیہ شرطیہ منفصلہ حقیقیہ ہو تواس کے نتیجہ کی مندرجہ ذیل چار صورتیں ہونگی ۔
۱ ۔ اگر عینِ مقدم کا استثناء کیا گیاہو تونتیجہ نقیض تالی ہو گا ۔ جیسے ھٰذَالْعَدَدُ اِمَّا زَوْجٌ أَوْ فَرْدٌ لکِنَّہٗ زَوْجٌ لہذا نتیجہ فَھُوَ لَیْسَ بِفَرْدٍ ہوگا ۔
۲ ۔ اگر عینِ تالی کا استثناء کیاگیاہو تونتیجہ نقیض مقدم ہو گا ۔ جیسے ھٰذَا الْعَدَدُ اِمَّا زَوْجٌ أَوْفَرْدٌ لکِنَّہٗ فَرْدٌ لہذا اس کا نتیجہ فَھُوَ لَیْسَ بِزَوْجٍ ہو گا ۔
۳ ۔ اگر نقیض مقدم کا استثناء کیاگیا ہوتونتیجہ عین تالی ہوگا ۔ جیسے ھٰذَا الْعَدَدُ اِمَّا زَوْجٌ أَوْفَرْدٌ لکِنَّہ لَیْسَ بِزَوْجٍ لہذا اس کانتیجہ ھُوَ فَرْدٌ ہوگا ۔
۴ ۔ اگرنقیض تالی کا استثناء کیاگیاہوتو نتیجہ عین مقدم ہوگا ۔ جیسے ھٰذَا الْعَدَدُ اِمَّا زَوْجٌ أَوْفَرْدٌ لکِنَّہ لَیْسَ بِفَرْدٍ لہذا اس کانتیجہ ھُوَزَوْجٌ ہوگا ۔
اگر قیاس انفصالی کا پہلا مقدمہ شرطیہ منفصلہ مانعۃ الخلو ہو :
تو اس کا نتیجہ دوطرح سے ہوگا :
۱ ۔ اگر نقیض مقدم کااستثناء کیا گیا ہوتو نتیجہ عین تالی ہوگا ۔ جیسے ھٰذَالشَّیُٔ اِمَّالاَشَجَرٌ أَوْلاَحَجَرٌ لکِنَّہٗ لَیْسَ بِلاَ شَجَرٍ لہذا نتیجہ ھُوَ لاَحَجَرٌ ہوگا ۔
۲ ۔ اوراگر نقیض تالی کا استثناء کیاگیاہو تونتیجہ عین مقدم ہوگا ۔ جیسیھٰذَالشَّیُٔ اِمَّالاَشَجَرٌ أَوْلاَحَجَرٌ لکِنَّہٗ لَیْسَ بِلاَحَجَرٍ لہذا نتیجہ ھُوَ لاَشَجَرٌہوگا ۔
اگر قیاس انفصالی کا پہلا مقدمہ مانعۃ الجمع ہو :
تو اس کا بھی دوطرح سے نتیجہ ہوگا :
۱ ۔ اگر عین مقدم کااستثناء کیاگیا ہوتو نتیجہ نقیض تالی ہوگا ۔ جیسے ھٰذَالشَّیُٔ اِمَّا شَجَرٌأَوْحَجَرٌ لکِنَّہٗ شَجَرٌ لہذا اس کا نتیجہ ھُوَ لَیْسَ بِحَجَرٍ ہوگا ۔
۲ ۔ اگر عین تالی کا استثناء کیاگیاہوتو نتیجہ نقیض مقدم ہوگا ۔ جیسے ھٰذَالشَّیُٔ اِمَّا شَجَرٌ أَوْحَجَرٌ لکِنَّہٗ حَجَرٌ لہذا نتیجہ ھُوَ لَیْسَ بِشَجَرٍ ہوگا ۔
٭٭٭٭٭
سوال نمبر1 : ۔ قیاس کی تعریف و اقسام تحریر کریں ۔
سوال نمبر2 : ۔ قیاسِ اتصالی میں نتیجہ نکالنے کا طریقہ تحریر کریں ۔
سوال نمبر3 : ۔ قیاسِ انفصالی میں نتیجہ نکالنے کا طریقہ بیان کریں ۔
٭…٭…٭…٭
سبق نمبر : 45
استقراء کالغوی معنی تلاش کرنا، اصطلاحی معنی : وہ حجت جس میں جزئی سے کلی پراستدلال کیاجائے ۔
اصطلاح منطق میں کسی کلی کی اکثر جزئیات کی تفتیش کر کے کسی خاص وصف کا حکم پوری کلی پر لگانا استقراء کہلاتا ہے ۔ جیسے ہم نے دیکھا کہ انسان، فرس ، غنم، وغیرہ چباتے وقت نیچے والاجبڑا ہلاتے ہیں توہم نے تمام حیوانوں پر حکم لگا دیا کہ ہرحیوان چباتے وقت نیچے والا جبڑا ہلاتاہے ۔
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع