دعوت اسلامی کی دینی خدمات دیگر ممالک میں بھی دیکھئے
ہسٹری

مخصوص سرچ

30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں

Nisab-ul-Mantiq | نصاب المنطق

book_icon
نصاب المنطق

            صغری کو کبری کے ساتھ ملانے کوضرب اور قرینہ کہتے ہیں  ۔

شکل :

            حداوسط کواصغر اوراکبر کے ساتھ رکھنے سے جو ہیت حاصل ہوتی ہے اسے شکل کہتے ہیں  ۔

 نتیجہ :

            مقدمات ِقیاس کو تسلیم کر لینے کے بعد جس قضیہ کو ماننا پڑے اسے نتیجہ کہا جاتاہے ۔   جیسے :  اَلْعَالَمُ حَادِثٌ ۔

نتیجہ نکالنے کا طریقہ :

            صغری اور کبری سے حدا وسط کو حذف کردینے کے بعد جو باقی رہے گاوہی نتیجہ ہے ۔  جیسے عالم متغیرہے اور ہرمتغیر چیز حادث ہے اس میں سے حداوسط (متغیر) کو حذف کردینے کے بعد عالم حادث ہے یہ باقی بچے گا اوریہی نتیجہ ہے ۔  

٭٭٭٭٭

٭…بَسمَلہ اور تسمیہ میں فرق…٭

            بعض لوگ دونوں کو ایک ہی معنی میں سمجھتے ہیں لیکن ان دونوں میں فرق ہے کہ بسملہ کا معنی ہے ’’بسم اللہ الرحمن الرحیم‘‘کہنا اور لکھنا ۔ اور تسمیہ کا معنی ہے اللہ تعالی کا ذکر کرنا اور یاد کرنا، خواہ کسی بھی طریقہ سے ہو اور اللہ تعالی کے ناموں میں سے کسی بھی نام سے ہو ۔  حاصل یہ کہ تسمیہ عام ہے اور بسملہ خاص ہے جس کو منطق کی اصطلاح میں عموم وخصوص مطلق کہتے ہیں ۔

 

سبق نمبر :   42

{…قیاس کی تقسیم…}

قیاس کی تقسیم دو اعتبار سے کی جاتی ہے (۱)صورت کے اعتبارسے (۲)مادہ کے اعتبارسے ۔

صورت کے اعتبار سے قیاس کی تقسیم :

اس اعتبار سے قیاس کی دو اقسام ہیں  :

قیاس اقترانی :

            وہ قیاس ہے جس میں نتیجہ یا نتیجہ کی نقیض بعینہ مذکور نہ ہو ۔ جیسے أَلْعَالَمُ مُتَغَیِّرٌ وَکُلُّ مُتَغَیِّرٍ حَادِثٌ ۔

وضاحت :

            یہ قیاسِ اقترانی ہے جسکا نتیجہ اَلْعَالَمُ حَادِثٌ بعینہ مذکور نہیں بلکہ اجزاء کی صورت میں قیاس کے دونوں مقدمات میں مذکور ہے ۔

قیاس اقترانی کی اقسام

اس کی دوقسمیں ہیں  :

۱ ۔ قیاس اقترانی حملی                        ۲ ۔  قیاس اقترانی شرطی

۱ ۔  قیاس اقترانی حملی :

            وہ قیاسِ اقترانی ہے جوصرف قضایا حملیہ سے مرکب ہو ۔  جیسے :   أَلْعَالَمُ مُتَغَیِّرٌ وَکُلُّ مُتَغَیِّرٍ حَادِثٌ ۔

۲ ۔ قیاس اقترانی شرطی :

            وہ قیاس جوصرف قضایا شرطیہ یاقضایا حملیہ وشرطیہ دونوں سے مرکب ہو ۔  

صرف شرطیہ سے مرکب کی مثال :

            جیسے :  کُلَّمَا کَانتِ الشَّمْسُ طَالِعَۃً فَالنَّھَارُ مَوْجُوْدٌ ۔  وَکُلَّمَا کَانَ النَّھَارُ مَوْجُوْدًا فَالأَرْضُ مُضِیْئَۃٌاس کا نتیجہ آئے گا ۔  کُلَّمَا  کَانتِ الشَّمْسُ طَالِعَۃً فَالأَرْضُ مُضِیْئَۃٌ ۔

حملیہ وشرطیہ دونوں سے مرکب کی مثال :

            جیسے :  کُلَّمَا کَانَ زَیْدٌ اِنْسَانًا کَانَ حَیَوَانًا  وَکُلُّ حَیَوَانٍ جِسْمٌ  اس کا نتیجہ آئے گا کُلَّمَا کَانَ زَیْدٌ اِنْسَانًا کَانَ جِسْمًا ۔

قیاس اقترانی کے نتیجہ دینے کی شکلیں

            قیاس اقترانی خواہ حملی ہویاشرطی اس کی چارشکلیں ہیں ۔ جنہیں اشکالِ اربعہ کہا جاتاہے ۔  اور شکل کی تعریف سبق نمبر 41میں بیان کی جا چکی ہے ۔

اشکال اربعہ کی تعریفات :

شکلِ اول :

 

کتاب کا موضوع

کتاب کا موضوع

Sirat-ul-Jinan

صراط الجنان

موبائل ایپلیکیشن

Marfatul Quran

معرفۃ القرآن

موبائل ایپلیکیشن

Faizan-e-Hadees

فیضانِ حدیث

موبائل ایپلیکیشن

Prayer Time

پریئر ٹائمز

موبائل ایپلیکیشن

Read and Listen

ریڈ اینڈ لسن

موبائل ایپلیکیشن

Islamic EBooks

اسلامک ای بک لائبریری

موبائل ایپلیکیشن

Naat Collection

نعت کلیکشن

موبائل ایپلیکیشن

Bahar-e-Shariyat

بہار شریعت

موبائل ایپلیکیشن