30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
اس مثال میں پانی میں ہونا اورنہ ڈوبنا ایسے مقدم اورتالی ہیں کہ یہ دونوں بیک وقت زید سے جد ا نہیں ہوسکتے یعنی ایسا نہیں ہوسکتاکہ زید پانی میں بھی نہ ہواور ڈوب بھی رہا ہو ہاں ان دونوں کاجمع ہونا ممکن ہے کہ زیدپانی میں بھی ہو اورڈوب نہ رہا ہو کیونکہ ہوسکتاہو وہ تیر رہاہو ۔
٭٭٭٭٭
سوال نمبر1 : ۔ قضیہ شرطیہ متصلہ اور اس کی اقسام مع امثلہ بیان کریں ۔
سوال نمبر2 : ۔ علاقہ کی تعر یف اور اس کی اقسام کی وضاحت کریں ۔
سوال نمبر3 : ۔ قضیہ شرطیہ منفصلہ کی تعریف کریں نیز ذات اور صدق و کذب کے اعتبار سے اس کی اقسام لکھیں ۔
سوال نمبر4 : ۔ مندرجہ ذیل قضایا کے بارے میں بتائیں کہ یہ قضیہ شرطیہ یا منفصلہ کی کونسی قسم ہے ؟
زید شاعر ہے یا کاتب ۔ خالد عالم ہے یا جاہل ۔ اگر انسان جاندار ہے تو پتھر بے جان ہے ۔
یہ عدد طاق ہے یا جفت ۔ یہ شے انسان ہے یا پتھر ۔ اگر سورج نکلے گا تو زمین روشن ہو گی ۔
اگر زید اسلام قبول کر لے تو اس پر شراب حرام ہوجائے گی ۔ ایسا نہیں کہ زید اگر روزہ رکھ لے تو دودھ پینا اس کو جائز رہے ۔ ایسا نہیں کہ یہ انسان یا متقی ہے یا مسلمان ۔
٭…٭…٭…٭
سبق نمبر : 38
دوقضیوں کا ایجاب وسلب ہونے میں اس طرح مختلف ہو ناکہ ہر ایک اپنی ذات کے اعتبار سے اس بات کا تقاضا کرے کہ اگر پہلا قضیہ سچاہے تودوسرا ضرورجھوٹا ہے اوراگر پہلا جھوٹا ہے تودوسراضرور سچا ۔ جیسے زید سونے والاہے ۔ زید سونے والانہیں ۔
جن دو قضیوں میں تناقض ہو ان میں ہر قضیہ دوسرے کی نقیض کہلاتا ہے ۔
دو قضایا مخصوصہ کے درمیان تناقض کے ثبوت کیلئے آٹھ چیزوں میں متفق ہونا شرط ہے ان کو وحدات ثمانیہ بھی کہتے ہیں ۔ اگر ان میں سے کوئی بھی شرط مفقود ہوئی تو تناقض کا تحقق نہ ہوگا ۔
۱ ۔ وحدت موضوع ۲ ۔ وحدت محمول ۳ ۔ وحدت مکان ۴ ۔ وحدت زمان ۵ ۔ وحدت شرط ۶ ۔ اضافت ۷ ۔ جزوکل ۸ ۔ اورقوت وفعل میں وحدت کاہونا
دونوں قضیوں کا موضوع ایک ہو اگر موضوع ایک نہ ہواتوتناقض بھی نہیں ہوگا ۔ جیسے زَیْدٌ قَائِمٌ اورزَیْدٌ لَیْسَ بِقَائِمٍ میں تناقض ہے لیکن زَیْدٌ قَائِمٌ اورعُمَرُ لَیْسَ بِقَائِمٍ میں تناقض نہیں کیونکہ موضوع تبدیل ہو گیا ہے ۔
دونوں قضیوں کامحمول ایک ہو ورنہ تناقض نہیں ہوگا ۔ جیسے زَیْدٌ قَائِمٌ اور زَیْدٌ لَیْسَ بِقَائِمٍ میں تناقض ہے لیکن زَیْدٌ قَائِمٌ اور زَیْدٌ لَیْسَ بقاعدٍ میں تناقض نہیں کیونکہ محمول بدل گیا ہے ۔
دونوں قضیوں کا مکان ایک ہو ورنہ تناقض نہیں ہوگا ۔ جیسے زَیْدٌ قَائِمٌ فِی السُّوْقِ اورزَیْدٌ لَیْسَ بِقَائِمٍ فِی السُّوْقِ میں تناقض ہے لیکن زَیْدٌ قَائِمٌ فِی السُّوْقِ اورزَیْدٌ لَیْسَ بِقَائِمٍ فِی الدَّارِ میں تناقض نہیں کیونکہ مکان بدل گیا ہے ۔
دونوں قضیوں کا زمانہ ایک ہو ورنہ تناقض نہیں ہوگا ۔ جیسے زَیْدٌ اٰکِلٌ فِی اللَّیْلِ اورزَیْدٌ لَیْسَ بِاکِلٍ فِی اللَّیْلِ میں توتناقض ہے لیکن زَیْدٌ اٰکِلٌ فِی اللَّیْلِ اورزَیْدٌْ لَیْسَ بِاکِلٍ فِی النَّھَارِ میں تناقض نہیں ۔
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع