دعوت اسلامی کی دینی خدمات دیگر ممالک میں بھی دیکھئے
ہسٹری

مخصوص سرچ

30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں

Nisab-ul-Mantiq | نصاب المنطق

book_icon
نصاب المنطق

حمل کی دوقسمیں ہیں  :

۱ ۔  حمل بِالْاِشْتِقَاقْ                      ۲ ۔  حمل بِالْمُوَاطَاۃ

۱ ۔  حمل بالاشتقاق :

            وہ حمل جو’’فی‘‘، ’’ذو‘‘ یا’’ لام‘‘ کے واسطے سے ہو جیسے زَیْدٌ فِی الدَّارِ، اَلْمَالُ لِزَیْدٍ ، خَالِدٌ ذُوْمَالٍ اسے حمل بالاشتقاق کہنے کی وجہ یہ ہے کہ جہاں ان حروف کے ذریعے حمل ہوتاہے وہاں کوئی مشتق محذوف ہوتاہے ۔  

۲ ۔ حمل بالمواطاۃ :

            وہ حمل جوبلاواسطہ ہو جیسے زَیْدٌ کَاتِبٌ ۔

٭…٭…٭…٭

٭غرض، غایت اور فائدہ میں فرق٭

                ٭…جب آدمی کوئی کام کرتاہے توا س پر اس کا اثر مرتب ہوتاہے اگر اس اثر کو ثمرہ ونتیجہ سے تعبیر کیا جائے تواس کا نام فائدہ ہے ۔

                ٭… اگر اس اثر کو فعل کی نہایت سے تعبیر کرتے ہیں تواس کا نام غایت ہے ۔

                ٭… اور جب تک وہ فائدہ حاصل نہ ہوتو غرض ہے ۔

                ٭…اور جب وہ فائدہ حاصل ہوجائے تو غایت ہے ۔

سبق نمبر :  30

حرف سلب کے موضوع ومحمول کا جز بننے یا نہ بننے کے اعتبار سے قضیہ حملیہ کی تقسیم

            اصل کے اعتبار سے حرف سلب نسبت ایجابی کی نفی کیلئے استعمال ہوتاہے لیکن کبھی کبھی حرف سلب اپنے اصلی معنی سے عدول کرکے موضوع یا محمول یا دونوں کاجز بن جاتاہے اورپورے قضیہ کی نفی نہیں کرتا، حرف سلب کے قضیہ کا جز بننے یا نہ بننے کے اعتبار سے قضیہ حملیہ کی دوقسمیں ہیں ۔

۱ ۔  قضیہ حملیہ معدولہ                      ۲ ۔  قضیہ حملیہ غیر معدولہ

۱ ۔  قضیہ حملیہ معدولہ :

            وہ قضیہ حملیہ جس میں حرف سلب موضوع یا محمول یا دونوں کا جز بن رہاہو ۔  اگر حرف سلب موضوع کا جز بن رہا ہو تو اسے قضیۃ معدولۃالموضوع کہیں گے ۔ (جیسیاَلَّاحَیُّ جَمَادٌ (لاحی جَمَادہے ) ۔ اگر حرف سلب محمول کا جز بن رہا ہو تو اسے قضیۃمعدولۃالمحمول کہیں گے جیسے زَیْدٌ لاَعَالِمٌ (زید لاعالم ہے ) اور اگر حرف سلب موضوع ومحمول دونوں کا جز بن رہا ہو تو اس قضیہ کو معدولۃ الطرفین کہیں گے ۔  جیسیاَللَّاحَیُّ لاعَالِمٌ ( لاحی لاعالم ہے ) ، مذکورہ بالا امثلہ قضایا موجبہ کی تھیں اب سالبہ کی مندرجہ ذیل ہیں :

اللاحی لیس بعالم، العالم لیس بلاحی، اللاحی لیس بلا جماد ۔

۲ ۔  قضیہ حملیہ غیر معدولہ :

            وہ قضیہ حملیہ جس میں حرف سلب طرفین (موضوع، محمول) میں سے کسی کا بھی جز نہ بنے  ۔ جیسے : زَیْدٌ قَائِمٌ، زَیْدٌ لَیْسَ بِقَائِمٍ ۔ اگر قضیہ موجبہ میں حرف سلب طرفین میں سے کسی کا جز نہ بنے تو اس قضیہ کو محصلہ کہتے ہیں جیسے زَیْدٌ قَائِمٌ اوراگر قضیہ سالبہ میں جز نہ بنے تواس کو بسیطہ کہتے ہیں ۔ جیسے :  زَیْدٌ لَیْسَ بِقَائِم ۔

٭٭٭٭٭

مشق

 

 

سوال نمبر1 : ۔ حرف سلب کے موضوع یامحمول کا جز بننے یا نہ بننے کے اعتبار سے قضیہ حملیہ کی اقسام بیان کریں  ۔

 سوال نمبر2 :  ۔ معدولۃالموضوع  اور معدولۃ الطرفین کسے کہتے ہیں ؟

 

 

٭…٭…٭…٭

سبق نمبر :  31

موضوع کے کلی یاجزئی ہونے کے اعتبار سے قضیہ حملیہ کی تقسیم

اس اعتبار سے قضیہ حملیہ کی چارقسمیں ہیں  ۔         

۱ ۔  قضیہ شخصیہ       ۲ ۔  قضیہ طبعیہ        ۳ ۔  قضیہ محصورہ    ۴ ۔  قضیہ مہملہ

 

کتاب کا موضوع

کتاب کا موضوع

Sirat-ul-Jinan

صراط الجنان

موبائل ایپلیکیشن

Marfatul Quran

معرفۃ القرآن

موبائل ایپلیکیشن

Faizan-e-Hadees

فیضانِ حدیث

موبائل ایپلیکیشن

Prayer Time

پریئر ٹائمز

موبائل ایپلیکیشن

Read and Listen

ریڈ اینڈ لسن

موبائل ایپلیکیشن

Islamic EBooks

اسلامک ای بک لائبریری

موبائل ایپلیکیشن

Naat Collection

نعت کلیکشن

موبائل ایپلیکیشن

Bahar-e-Shariyat

بہار شریعت

موبائل ایپلیکیشن