30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
کلی عرضی کی دوطرح سے تقسیم کی جاتی ہے ۔
۱ ۔ ’’ ایک حقیقت کے افرادکے ساتھ ‘‘خاص ہونے یا نہ ہونے کے اعتبار سے ۔
۲ ۔ ’’معروض‘‘ سے جدا ہونے یا نہ ہونے کے اعتبار سے ۔
۱ ۔ ’’ایک حقیقت کے افراد کے سا تھ‘‘ خا ص ہونے یا نہ ہونے کے اعتبار سے کلی عرضی کی تقسیم
اس اعتبار سے کلی عرضی کی دوقسمیں ہیں :
۱ ۔ خاصہ ۲ ۔ عرض عام
’’ھُوَ کُلِّیٌّ خَارِجٌ عَنْ حَقِیْقَۃِ الأَفْرَادِ مَقُوْلٌ عَلیٰ أَفْرَادٍ وَاقِعَۃٍ تَحْتَ حَقِیْقَۃٍ وَاحِدَۃٍ‘‘یعنی خاصہ وہ کلی ہے جو افراد کی حقیقت سے خارج ہواور ایسے افراد پربولی جائے جوایک ہی حقیقت کے تحت واقع ہوں جیسے : ضاحک انسان کیلئے ۔ اسے ’’ عرض خاص‘‘ بھی کہا جاتاہے ۔
ضاحک انسان کیلئے خاصہ ہے کیونکہ یہ انسان کی حقیقت(حیوان ناطق)سے خارج ہے اور یہ ( یعنی ضحک ) صرف اورصرف انسان ہی کے افراد میں پایا جاتاہے ۔
’’ھُوَ کُلِّیٌّ خَارِجٌ عَنْ حَقِیْقَۃِ الأَفْرَادِ مَقُوْلٌ عَلیٰ أَفْرَادٍ وَاقِعَۃٍ تَحْتَ حَقِیْقَۃٍ وَاحِدَۃٍ وَعَلیٰ غَیْرِھَا‘‘یعنی عرض عام وہ کلی ہے جوافرادکی حقیقت سے خارج ہواورایسے افراد پر بولی جائے جوایک حقیقت کے تحت واقع ہوں اور ایسے افراد پربھی بولی جائے جن کی حقیقت مختلف ہو ۔ جیسے : ماشی انسان کے افراد کیلئے بھی بولا جاتاہے اورغنم، فرس کے افرادکیلئے بھی بولا جاتاہے ۔
خاصہ کی دو قسمیں ہیں : ۱ ۔ خاصہ شاملہ ۲ ۔ خاصہ غیر شاملہ
وہ خاصہ ہے جوان تمام افراد میں پایا جائے جن کا وہ خاصہ ہے جیسے : کاتب بالقوہ ہونا انسان کیلئے ۔
نوٹ : بالقوۃ سے مراد کام کرنے کی صلاحیت ہو لیکن اس وقت نہ کرے ۔
وہ خاصہ ہے جو ان تمام افراد میں نہ پایا جائے جن کا وہ خاصہ ہے بلکہ بعض افراد میں پایا جائے جیسے : کاتب بالفعل ہونا انسان کیلئے ۔
نوٹ : بالفعل سے مراد کام کرنے کی صلاحیت بھی ہو اور اس وقت کرے بھی ۔
کلی ذاتی وعرضی کی ایک اور بھی تعریف کی گئی ہے ۔
وہ کلی ہے جواپنے افراد کی حقیقت میں داخل ہو ۔
وہ کلی ہے جواپنے افراد کی حقیقت میں داخل نہ ہو ۔
کلی ذاتی وعرضی کی مشہور تعریفات اور مذکورہ بالا تعریفات میں فرق یہ ہے کہ مشہور تعریف کے مطابق نوع ، کلی ذاتی کی ایک قسم ہے مگر مذکورہ بالا تعریفات کے مطابق نوع کلی عرضی کی قسم بن جائے گی ، کیونکہ یہ اپنے افراد کی حقیقت میں داخل نہیں بلکہ یہ اپنے افراد کی حقیقت کا عین ہے ۔
کلی ذاتی وعرضی کی پانچوں قسموں کو کلیاتِ خمسہ کہاجاتاہے ۔
٭٭٭٭٭
٭…فرمان مصطفیٰ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ …٭
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع