30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
سوال نمبر2 : ۔ اسم ، کلمہ اور اداۃ کی تعریفات بیان کریں ۔
سوال نمبر3 : ۔ فعل نحوی اور کلمہ منطقی میں کیا فرق ہے ؟
سوال نمبر4 : ۔ متحدالمعنی کی تعریف مع اقسام وضاحت کریں ۔
سوال نمبر5 : ۔ متکثر المعنی کی تعریف مع اقسام بیان کریں ۔
سوال نمبر6 : ۔ منقول شرعی، منقول اصطلاحی اور منقول عرفی کی تعریفات مع امثلہ بیان کریں ۔
٭…٭…٭…٭
سبق نمبر : 13
لفظِمرکب کی دوقسمیں ہیں ۔
۱ ۔ مرکب تام ۲ ۔ مرکب ناقص
مَایَصِحُّ السُّکُوْتُ عَلَیْہِ ۔ جس پر سکوت درست ہو ۔
یعنی متکلم نے جب کوئی کلام کیا تو سننے والے کو اسی سے پوری بات سمجھ میں آجائے ۔ کسی دوسرے لفظ کا انتظار نہ کرنا پڑے ۔ جیسے : زَیْدٌ قَائِمٌ ۔
’’مَالاَ یَصِحُّ السُّکُوْتُ عَلَیْہِ‘‘جس پر سکوت درست نہ ہو، یعنی متکلم نے جب کوئی کلام کیا تو سننے والے کو اسی سے پوری بات سمجھ میں نہ آئے بلکہ کسی دوسرے لفظ کا انتظار کرنا پڑے ۔ جیسے : : غُلا مُ زَیْد ۔
مرکب تام کی دو قسمیں ہیں ۔ ۱ ۔ خبر(قضیہ) ۲ ۔ انشاء
وہ مرکب ہے جس میں صدق وکذب کااحتمال ہو اسے قضیہ بھی کہتے ہیں ۔ جیسے : زَیْدٌ قَائِمٌ ۔
وہ مرکب ہے جس میں صدق وکذ ب کا احتمال نہ ہو ۔ جیسے : أُنْصُرْ (مدد کر) ۔
مرکب ناقص کی دو قسمیں ہیں :
۱ ۔ مرکب تقییدی ۲ ۔ مرکب غیر تقییدی
’’اِنْ کَانَ الْجُزْءُ الثَّانِی قَیْدًا لِلْاوَّل فَھُوَ مُرَکَّبٌ تَقْیِِیْدِیٌّ ‘‘یعنی اگر دوسرا جز پہلے جز([1]) کیلئے قید بنے تو وہ مرکب تقییدی ہے ۔ جیسے : غُلامُ زَیْدٍ، رَجُلٌ عَالِمٌ ([2])وغیرہ ۔
’’غلام ُزید‘‘میں دوسرا جز یعنی ’’زید‘‘ پہلے جز یعنی ’’غلام ‘‘کو مقید کرنے والا ہے کیونکہ غلام کسی کا بھی ہوسکتا تھا ۔ لیکن زیدنے اسے مُقَیَّدکردیا ۔
۲ ۔ مرکب غیر تقییدی :
’’اِنْ لَمْ یَکُنِ الْجُزْءُالثَّانِی قَیْدًا لِلْأَوَّلِ فَھُوَ مُرَکَّبٌ غَیْرُ تَقْیِیْدِیٍّ‘‘اگر دوسرا جز پہلے جز کے لئے قید نہ بنے تووہ مرکب غیر تقییدی ہے ۔ جیسے : فِی الْبُسْتَانِ أَحَدَ عَشَرطفْلاًوغیرہ ۔
’’فی البستان‘‘میں دوسرا جز’’ البستان‘‘ پہلے جز ’’فی‘‘ کومقید نہیں بنا سکتاکیونکہ ’’فی‘‘ حرف ہے اور حرف مقیدنہیں ہوتا اس لئے کہ مقید ہونا اسم کاخاصہ ہے ۔
٭٭٭٭٭
[1] واضح ہو کہ اول سے مراد یہ ہے کہ جو مرتبہ کے اعتبار سے مقدم یعنی پہلے ہو خواہ لفظوں میں مؤخریعنی بعد میں ہو، جیسے : حال کبھی ذوالحال سے مقدم ہوتا ہے حالانکہ حال قید بنتا ہے ۔
[2] خیال رہے کہ مرکب تقییدی مرکب اضافی اور مرکب توصیفی میں محصور نہیں بلکہ جس طرح جزء ثانی(مضاف الیہ اور صفت)جزء اول (مضاف اور موصوف)کے لئے قید ہوتاہے اسی طرح ظرف بھی مظروف کے لئے قید ہوتا ہے ۔
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع