30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
|
961 -[3] وَعَنْ ثَوْبَانَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا انْصَرَفَ مِنْ صَلَاتِهِ اسْتَغْفَرَ ثَلَاثًا وَقَالَ: «اللَّهُمَّ أَنْتَ السَّلَامُ وَمِنْكَ السَّلَامُ تَبَارَكْتَ يَا ذَا الْجلَال وَالْإِكْرَام» . رَوَاهُ مُسلم |
روایت ہے حضرت ثوبان رضی اللہ عنہ سے فرماتے ہیں کہ رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم جب اپنی نماز سے فارغ ہوتے تو تین بار استغفار پڑھتے اور کہتے الٰہی تو سلام ہے تجھ سے سلامتی ہے تو برکت والا ہے اے جلالت اور بزرگی والے ۱؎ (مسلم) |
۱؎ پہلے سلام سے سلامتی دینے والا مراد ہے اور دوسرے سے سلامتی۔استغفار دعا کے آداب میں سے ہے اس لیے دعا سے پہلے استغفار فرماتے۔یہ حدیث گزشتہ حدیث عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا کے خلاف نہیں کہ وہاں بھی تقریبی مقدار مراد تھی اور یہاں بھی۔اس سے معلوم ہوا کہ جن فرضوں کے بعد سنتیں ہوں ان میں دعا مختصر مانگے۔خیال رہے کہ ذوالجلال سے مراد فاسقوں سے بدلہ لینے والا اور اکرام سے مراد نیک کاروں کو انعام دینے والا۔
|
962 -[4] (مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ) وَعَنِ الْمُغِيرَةِ بْنِ شُعْبَةَ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: كَانَ يَقُولُ فِي دُبُرِ كُلِّ صَلَاةٍ مَكْتُوبَةٍ: «لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ وَحْدَهُ لَا شَرِيكَ لَهُ لَهُ الْمُلْكُ وَلَهُ الْحَمْدُ وَهُوَ عَلَى كُلِّ شَيْءٍ قَدِيرٌ اللَّهُمَّ لَا مَانِعَ لِمَا أَعْطَيْتَ وَلَا مُعْطِيَ لِمَا مَنَعْتَ وَلَا يَنْفَعُ ذَا الْجَدِّ مِنْك الْجد» |
روایت ہے حضرت مغیرہ ابن شعبہ سے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم ہر فرض کے بعد فرماتے تھے ۱؎ خدا کے سوا کوئی معبود نہیں،اس کا کوئی ساجھی نہیں اسی کا ملک ہے اور اسی کے لیے حمد، وہ ہر چیز پر قادر ہے الٰہی جو تو دے اسے کوئی روک نہیں سکتا اور جسے تو نہ دے اسے کوئی دے نہیں سکتا اور تیرے مقابل مال دار کو مال نفع نہیں دیتا ۲؎ (مسلم،بخاری) |
۱؎ خواہ فرضوں کے بعد یا سنتوں وغیرہ سے فارغ ہو کر۔(مرقاۃ)اس سے معلوم ہوا کہ سنتیں بھی مسجد میں پڑھنا اور فرضوں کے علاوہ سنتوں کے بعدبھی دعا مانگنا سنت ہے۔
۲؎ اس کی شرح پہلے گزر چکی۔یہ اور اس جیسی اور بڑی دعائیں عصر و فجر میں تو فرضوں سے متصل تھیں اور ظہر وغیرہ میں سنتوں اور نوافل کے بعد لہذا یہ حدیث ان گزشتہ حدیث کے خلاف نہیں جن میں تھا کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم صرف "اَللّٰھُمَّ اَنْتَ السَّلَامُ"کہتے تھے۔
|
963 -[5] وَعَن عبد الله بن الزبير قَالَ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا سَلَّمَ مِنْ صَلَاتِهِ يَقُولُ بِصَوْتِهِ الْأَعْلَى: «لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ وَحْدَهُ لَا شَرِيكَ لَهُ لَهُ الْمُلْكُ وَلَهُ الْحَمْدُ وَهُوَ عَلَى كُلِّ شَيْءٍ قَدِيرٌ لَا حَوْلَ وَلَا قُوَّةَ إِلَّا بِاللَّه لَا إِلَه إِلَّا الله لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ وَلَا نَعْبُدُ إِلَّا إِيَّاهُ لَهُ النِّعْمَةُ وَلَهُ الْفَضْلُ وَلَهُ الثَّنَاءُ الْحَسَنُ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ مُخْلِصِينَ لَهُ الدّين وَلَو كره الْكَافِرُونَ» . رَوَاهُ مُسلم |
روایت ہے حضرت عبداﷲ ابن زبیر سے فرماتے ہیں کہ رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم جب اپنی نماز سے سلام پھیرتے ۱؎ تو بلند آواز سے کہتے کہ اﷲ کے سوا کوئی معبود نہیں اس کا کوئی ساجھی نہیں اسی کا ملک ہے اسی کے لیے حمد اور وہ ہر چیز پر قادر ہے اﷲ کے بغیر نہ طاقت ہے نہ قدرت اﷲ کے سوا کوئی معبود نہیں ہم اس کے سوا کسی کی عبادت نہیں کرتے اسی کی نعمت ہے اسی کا فضل ۲؎ اسی کی اچھی تعریف ہے اﷲ کے سوا کوئی معبود نہیں ہم اس کے لیے خالص دین رکھتے ہیں اگرچہ کفار ناپسند کریں۳؎(مسلم) |
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع