دعوت اسلامی کی دینی خدمات دیگر ممالک میں بھی دیکھئے
ہسٹری

مخصوص سرچ

30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں

Miraat-ul-Manajeeh Sharah Mishkaat-ul-Masabeeh jild 2 | مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد دوم

book_icon
مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد دوم

956 -[18]

وَعَنْ جَابِرٍ قَالَ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ فِي صَلَاتِهِ بَعْدَ التَّشَهُّدِ: «أَحْسَنُ الْكَلَامِ كَلَامُ اللَّهِ وَأَحْسَنُ الْهَدْيِ هدي مُحَمَّد» . رَوَاهُ النَّسَائِيّ

روایت ہے حضرت جابر سے فرماتے ہیں رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم اپنی نماز میں التحیات کے بعد کہتے تھے کہ اچھا کلام اﷲ کا کلام ہے اور اچھا طریقہ حضور محمد صلی اللہ علیہ وسلم  کا ہے۱؎(نسائی)

۱؎ یعنی کلام تو اﷲ کا اچھا ہے اور طریقہ رسول اﷲ کا اعلیٰ صلی اللہ علیہ وسلم یہ الفاظ طیبہ خطبہ میں بھی فرماتے تھے اور بعد التحیات نماز میں بھی مگر نماز میں ان کا مقصد حمد و نعت ہے جو ذکر اﷲ ہے نہ کہ دوسرا مقصد یعنی چونکہ اﷲ تعالٰی وَحْدَہٗ لَاشَرِیْكَ ہے، لہذا اس کا کلام بھی بے مثال ہے اور چونکہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم  بے مثل ہیں لہذا ان کا طریقہ بھی بے نظیر،لہذا یہ حدیث فقہاء کے اس فرمان کے خلاف نہیں کہ نماز میں سوا ذکر اللہ کے کوئی ذکر نماز کو توڑ دیتا ہے حتی کہ اگر قرآنی آیت بغیر نیت ذکر پڑھے تو نماز فاسد ہے،کسی نے موت کی خبر دی نمازی نے جوابًا کہا اِنَّالِلّٰہِ الخ نماز گئی۔

957 -[19]

وَعَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا قَالَتْ: كَانَ رَسُول الله صلى يُسَلِّمُ فِي الصَّلَاةِ تَسْلِيمَةً تِلْقَاءَ وَجْهِهِ ثُمَّ تميل إِلَى الشق الْأَيْمن شَيْئا. رَوَاهُ التِّرْمِذِيّ

روایت ہے حضرت عائشہ رضی اﷲ عنہا سے فرماتی ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نمازمیں اپنے چہرے کے سامنے سلام پھیرتے پھر قدرے دائیں کروٹ کی طرف مائل ہوجاتے ۱؎(ترمذی)

۱؎  یعنی پہلا سلام خوب بلند آواز سے کہتے اس طرح کہ لفظ سلام روبقبلہ کہتے پھر داہنی جانب اتنا پھرتے کہ رخسار مبارک کی سفیدی مقتدی دیکھ لیتے،بایاں سلام آہستہ فرماتے۔بعض آئمہ نے اس حدیث کی بنا پر فرمایا کہ نماز میں صرف ایک ہی سلام کہا جائے،لیکن فقیر کی اس توجیہ سے مسئلہ واضح ہوگیا اور یہ حدیث ان احادیث کے خلاف نہیں جن میں دو سلاموں کا ذکر ہے۔

958 -[20]

وَعَنْ سَمُرَةَ قَالَ: أَمَرَنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ نَرُدَّ عَلَى الْإِمَامِ وَنَتَحَابَّ وَأَنْ يُسَلِّمَ بَعْضُنَا عَلَى بَعْضٍ. رَوَاهُ أَبُو دَاوُد

روایت ہے حضرت سمرہ سے فرماتے ہیں کہ ہمیں نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے حکم دیا کہ ہم امام کا جواب سلام دیں ۱؎ اور آپس میں محبت کریں ۲؎  اور بعض بعض کو سلام کرے ۳؎ (ابوداؤد)

۱؎ یعنی نماز کے سلام میں امام فرشتوں اور مقتدیوں کو سلام کرنے کی نیت کرے اور مقتدی اپنے سلام میں امام کے جواب کی۔

۲؎  اس طرح کہ جماعت کی پابندی کریں جس سے آپس میں محبت پیدا ہو کیونکہ نماز باجماعت محبت مسلمین کا بہترین ذریعہ ہے۔

۳؎  اس طرح کہ نماز کے سلام میں ایک دوسرے کو سلام کرنے کی نیت کریں کہ امام پہلے سلام میں داہنی جانب کے مقتدیوں کی اور دوسرے سلام میں بائیں جانب والوں کو سلام کی نیت کرے اور مقتدی داہنے والے پہلے سلام میں اپنے داہنے والوں کی نیت کریں اور دوسرے سلام میں بائیں والوں اور امام کی اور بائیں والے اس کے برعکس۔خیال رہے کہ اسلام میں سلام یا اجازت لینے کے لیے ہوتا ہے یا ملاقات یا رخصت کے وقت،یہ سلام ملاقات کا سلام ہے کہ سارے نمازی حکمًا ایک دوسرے سے غائب ہوگئے تھے اس عالم سے نکل کر دوسرے عالم کی سیر کررہے تھے اسی لیے یہاں کے احکام کھانا،پینا،چلنا،پھرنا،کلام سلام سب ختم ہوچکے تھے نماز سے فراغت پاکر وہاں سے لوٹ کر آرہے ہیں ایک دوسرے سے مل رہے ہیں اس لیے سلام کرتے ہیں، لہذا اگر ہر نماز یا نماز فجر کے بعد نمازی آپس میں مصافحہ کریں تو جائز ہے کہ یہ ملاقات کا وقت ہے۔اس کی تحقیق ہماری کتاب"جاءالحق"حصہ اول میں دیکھو۔


 

کتاب کا موضوع

کتاب کا موضوع

Sirat-ul-Jinan

صراط الجنان

موبائل ایپلیکیشن

Marfatul Quran

معرفۃ القرآن

موبائل ایپلیکیشن

Faizan-e-Hadees

فیضانِ حدیث

موبائل ایپلیکیشن

Prayer Time

پریئر ٹائمز

موبائل ایپلیکیشن

Read and Listen

ریڈ اینڈ لسن

موبائل ایپلیکیشن

Islamic EBooks

اسلامک ای بک لائبریری

موبائل ایپلیکیشن

Naat Collection

نعت کلیکشن

موبائل ایپلیکیشن

Bahar-e-Shariyat

بہار شریعت

موبائل ایپلیکیشن