دعوت اسلامی کی دینی خدمات دیگر ممالک میں بھی دیکھئے
ہسٹری

مخصوص سرچ

30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں

Miraat-ul-Manajeeh Sharah Mishkaat-ul-Masabeeh jild 2 | مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد دوم

book_icon
مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد دوم

۱؎ سر کے آس پاس اس طرح کہ انگلیاں بالکل ملی ہوں اور انگوٹھوں کے کنارے کانوں کی گدیوں کے نیچے ہوں کہ اگر گدیا سے قطرہ ٹپکے تو انگوٹھے کی نوک پرگرے۔

۲؎ یہ حکم مردوں کے لیے ہے،عورت کہنیاں بچھائے گی اور بازو پسلیوں سے ملی رکھے گی کیونکہ اس میں ستر زیادہ ہے۔

890 -[4]

وَعَن مَيْمُونَة قَالَتْ: كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا سَجَدَ جَافَى بَيْنَ يَدَيْهِ حَتَّى لَوْ أَنَّ بَهْمَةً أَرَادَتْ أَنْ تَمُرَّ تَحْتَ يَدَيْهِ مرت. هَذَا لفظ أبي دَاوُد كَمَا صَرَّحَ فِي شَرْحِ السُّنَّةِ بِإِسْنَادِهِ وَلِمُسْلِمٍ بِمَعْنَاهُ: قَالَتْ: كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا سجد لوشاءت بهمة أَن تمر بَين يَدَيْهِ لمرت

روایت ہے حضرت میمونہ سے فرماتی ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم جب سجدہ کرتے تو اپنے ہاتھوں کے درمیان فاصلہ رکھتے حتّٰی کہ اگر بکری کا بچہ آپ کے ہاتھوں کے نیچے سےگزرنا چاہتا توگزرجاتا ۱؎ یہ ابوداؤد کے لفظ ہیں جیسے شرح سنہ میں ہے مع اسناد تصریح کی گئی ہے۲؎ اورمسلم میں اس کے معنی ہیں فرماتی ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم جب سجدہ کرتے تو اگر بکری کا بچہ آپ کے ہاتھوں کے درمیان گزرنا چاہتا توگزرجاتا۔

۱؎ یعنی اپنے ہاتھ اپنی پسلیوں سے اتنے دور رکھتے کہ اس درمیان والی جگہ سے بکری کا بچہ گزر سکے۔اس کی تشریح کچھ آگے آئے گی۔

۲؎ یہ صاحب مصابیح پر اعتراض ہے کہ وہ فصل اول میں مسلم،بخاری کے علاوہ اور کتاب کی حدیث لائے،مسلم کی عبارت یہ نہیں ہے بلکہ وہ ہے جو آگے آرہی ہے۔

891 -[5] (مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ)

وَعَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَالِكٍ بن بُحَيْنَة قَالَ: كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا سَجَدَ فَرَّجَ بَيْنَ يَدَيْهِ حَتَّى يَبْدُوَ بَيَاض إبطَيْهِ

روایت ہے حضرت عبداﷲ ابن مالک ابن بجینہ سے ۱؎ فرماتے ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم جب سجدہ کرتے تو اپنے ہاتھوں کے درمیان کشادگی فرماتےحتی کہ آپ کی بغلوں کی سفیدی ظاہر ہوجاتی ۲؎(مسلم،بخاری)

۱؎ بجینہ عبداﷲ کی والدہ کا نام ہے یعنی بجینہ مالک کی بیوی ہیں اسی لیے محدثین مالک کو تنوین سے پڑھتے ہیں اور ابن بجینہ اس سے علیحدہ کرتے ہیں بلکہ ان کا نام عبداﷲا بن بجینہ مشہورہے اور آپ صحابی ہیں،۵۴ یا ۵۵ ہجری میں امیر معاویہ کی خلافت کے زمانہ میں وفات پائی۔

۲؎ اس طرح کہ چادر اوڑھے نماز پڑھتے تو چادر کچھ سرک جاتی اور بغل نظر آجاتی اور اگر قمیض میں نماز پڑھتے تو بغل کی سفیدی کی جگہ نظر آجاتی اس طرح کہ اگر کپڑانہ ہوتا تو بغل دیکھ لی جاتی۔لفظ بیاض سے معلوم ہوتا ہے کہ حضورصلی اللہ علیہ وسلم کی بغل شریف مثل باقی جسم شریف کے سفیدتھی،بعض نے فرمایا کہ وہاں بال بھی نہ تھے،بغل سے نہایت خوشبو نکلتی تھی،یہ آپ کی خصوصیات سے ہے۔(ازمرقات و اشعہ)

892 -[6]

وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ: كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ فِي سُجُودِهِ: «اللَّهُمَّ اغْفِرْ لِي ذَنْبِي كُلَّهُ دِقَّهُ وَجِلَّهُ وَأَوَّلَهُ وَآخره وعلانيته وسره» . رَوَاهُ مُسلم

روایت ہے حضر ت ابوہریرہ سے فرماتے ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم اپنے سجدہ میں کہتے تھے خدایا میرے سارے گناہ بخش دے چھوٹے بڑے اگلے پچھلے کھلے چھپے ۱؎(مسلم)

 

کتاب کا موضوع

کتاب کا موضوع

Sirat-ul-Jinan

صراط الجنان

موبائل ایپلیکیشن

Marfatul Quran

معرفۃ القرآن

موبائل ایپلیکیشن

Faizan-e-Hadees

فیضانِ حدیث

موبائل ایپلیکیشن

Prayer Time

پریئر ٹائمز

موبائل ایپلیکیشن

Read and Listen

ریڈ اینڈ لسن

موبائل ایپلیکیشن

Islamic EBooks

اسلامک ای بک لائبریری

موبائل ایپلیکیشن

Naat Collection

نعت کلیکشن

موبائل ایپلیکیشن

Bahar-e-Shariyat

بہار شریعت

موبائل ایپلیکیشن